قندھار جنوبی افغانستان کا ایک شہر اور صوبہ قندھار کا دارالحکومت ہے۔ دریائے ارغنداب کے کنارے واقع اس شہر کی آبادی 316،000 ہے۔ یہ افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شاہراہوں کے وسیع جال کے ذریعے یہ شہر دنیا بھر سے منسلک ہے۔ پشاور کے بعد یہ پشتون عوام کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ مغرب میں ہرات، مشرق میں غزنی اور کابل اور جنوب میں کوئٹہ سے بذریعہ شاہراہ جڑا ہوا ہے۔ احمد شاہ ابدالی کے دور میں شال کوٹکوئٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا۔

قندھار
(پشتو میں: کندهار)
(قدیم یونانی میں: Ἀλεξάνδρεια Ἀραχωσίας ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
KandaharUniversity-Mosque-2005.JPEG
 

منسوب بنام سکندر اعظم  ویکی ڈیٹا پر (P138) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Afghanistan34P-Kandahar.png
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ صوبہ قندھار  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 31°36′28″N 65°42′19″E / 31.607777777778°N 65.705277777778°E / 31.607777777778; 65.705277777778  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 800 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 1010 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 491500 (2012)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+04:30  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 1138336  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

تاریخترميم

صوبہ قندھارجہاں درانی قبائل کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ ہخامنشیوں کے ہَرن َوَتی Haranwati، قدیم زمانے کے ارکوشیا Arachsia اور ازمنہ وسطیٰ کے زمین داور اور زابل کا مترادف بتایا جاتاہے۔ اس میں دریائے ہلمند، ترنک، اغنداب اور ارغان کی وادیاں شامل ہیں۔ قندھار اس صوبے کے نام پر موجودہ شہر قندھار کا نام رکھا گیا ہے۔ جس نے گرشک، بست اور الرخج کے قدیم شہروں کی جگہ لے لی ہے۔ (قندھار، معارف اسلامیہ) ہخامنشی خاندان سے یہ علاقہ سکندرنے چھینا، پھر سلوکی اس کے وارث ہو گئے۔ مگر جلد ہی ان کو سھتیوں نے مار بھگایا۔ جب پارتھیوں نے سھتیوں کو زیر دست کیا تو یہ علاقہ بھی ان کا باج گزار ہو گیا۔ مگر جلد ہی اس علاقے پر کشان خاندان کا قبضہ ہو گیا۔ کشان حکومت سے یہ علاقہ اردشیر اول نے حاصل کیا اور یہ ساسانیوں کے قبضہ میں آ گیا۔ مگر اس علاقے پر چوتھی صدی عیسوی تک ہنوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور یہاں ہنوں کی زابلی شاخ حکمران تھی۔ ہنوں سے حکومت ترکوں نے چھین لی اوریہاں ترک چھاگئے۔ عربوں کی یلغار کے وقت یہاں برہمن شاہی حکمران تھے اور ان کا صدرمقام بست تھا۔ اسلامی لشکر کا پہلا ٹکراؤ (24ھ/ 644ء) میں وادی ارغنداب میں ہوا جس میں رتنبل مارا گیا اور اس کے بعد کی دوصدیوں تک عرب اس علاقے پر مستقل حملے کرتے رہے، گو انہوں نے اس علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔ (258ھ/ 871ء) میں یعقوب بن لیث نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور اس علاقے کو اسلامی مملکت کا جزو بنادیا۔[3]

مزید دیکھیےترميم

یہ مضمون ابھی زیر تکمیل ہے براہ مہربانی اس میں مزید ترمیم مت کیجئے

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ قندھار في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 29 اکتوبر 2020ء. 
  2.     "صفحہ قندھار في ميوزك برينز.". MusicBrainz area ID. اخذ شدہ بتاریخ 29 اکتوبر 2020ء. 
  3. افغانستان، معارف اسلامیہ