مرکزی مینیو کھولیں
اٹل بہاری واجپائی
نواز شریف

لاہور اعلامیہ، ایک دو طرفہ معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین 21 فروری 1999ء کو طے پایا، اس معا یدے پر بھارت کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی جبکہ پاکستان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دستخط کیے۔ یہ معائدہ لاہور میں تاریخی مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔[1]لاہور اعلامیہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک میں ایٹمی تجربات کے بعد ہونے والا معاہدہ جو دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، گو کہ اس معاہدے کی اہمیت مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے تناظر میں نہایت واضع تھی لیکن مئی 1999ء میں شروع ہونے والے قضیہ کارگل نے امن کے عمل کو دھچکا لگایا اور یہ اعلامیہ غیر موثر ہو کر رہ گیا۔

پس منظرترميم

1972ء کے شملہ معا یدے کے بعد لاہور اعلامیہ پاکستان اور بھارت کے مابین طے پانے والا پہلا نہایت اہم سیاسی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔ شملہ معاہدہ 1971ء کی جنگ کے بعد طے کیا گیا تھا جبکہ اعلامیہ لاہور دراصل شملہ معاہدے کی رو سے ان خطرناک عوامل اور حالات سے نمٹنا تھا جو مئی 1998ء میں ہوئے ایٹمی دھماکوں کے بعد دونوں ممالک میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کی صورت میں پیدا ہو سکتے تھے۔ مئی 1998ء میں اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جب بھارت نے پوکھران کے مقام پر 11 اور 13 مئی 1998ء کو کئی ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کی فہرست میں جا کھڑا ہوا، [2]بھارت کے ان تجربات کے جواب میں پاکستان نے بھی 28 مئی 1998ء کو چھ ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات چاغی کے مقام پر کیے۔ پاکستان کے جوابی دھماکوں کی وجہ سے خطے کے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور یہاں ایٹمی خطرات بڑھ گئے، ساتھ میں ہی خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو گئی۔
23 ستمبر 1998ء کو دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کی بنیاد پر خطے میں امن اور سیکورٹی کے حالات کو بہتر بنانا اور باہمی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ یہی معاہدہ دراصل لاہور اعلامیہ کا سبب بھی بنا۔[1] 19 فروری 1999ء کو بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا اور دہلی سے لاہور تک دوستی کی بس سروس پر سفر کرتے ہوئے لاہور کے تاریخی شہر میں قیام کیا۔ بھارتی وزیر اعظم کے ہمراہ اعلٰی بھارتی حکام کے ساتھ ساتھ کئی بھارتی شخصیات جیسے دیو آنند، ستیش گجرال، جاوید اختر، کلدیپ نئیر، کپل دیو، شتروگان شینا اور ملکا ساراباہی نے بھی سفر کیا۔[3] بھارتی وفد جس کی سربراہی وزیر اعظم کر رہے تھے کا لاہور میں فقید المثال استقبال کیا گیا اور واہگہ کی سرحد پر پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خود استقبال کیا۔ اس دورے میں لاہور کے مقام پر تاریخی مذاکرات اور ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا پوری دنیا میں نہایت گرمجوشی سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ دنیا بھر میں اس موقع کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور امن کے عمل میں نہایت اہم پیشرفت سمجھا گیا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ موقع پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں اہم ترین اور خوشگوار ترین تھا۔[3]

اعلامیہ کا متنترميم

لاہور اعلامیہ کا معاہدہ 21 فروری کو مذاکرات کے تین دور کے بعد دستخط کیا گیا تھا، جس پر بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم نے دستخط کیے۔[1][4] اس اعلامیہ کے متن میں دونوں حکومتوں نے اس امر پر زور دیا کہ امن، ترقی اور باہمی تعلقات میں شملہ معاہدے کی رو سے عمل کو جاری رکھا جانا چاہیے۔ دونوں حکومتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد کی صورت حال میں دونوں اطراف پر ذمہ داری بڑھ چکی ہے اور اس ضمن میں مستقبل میں یہ کوشش کی جانی چاہیے کہ کسی بھی طرح سے امن اور باہمی مذاکرات کے عمل میں کسی صورت خلل نہ آنے پائے۔ اسی لیے دونوں حکومتوں نے حادثاتی یا غیر متعلقہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے کئی معاہدوں اور دہلی اور اسلام آباد کے مابین ایک ہاٹ لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا۔[1][5]پاکستان اور بھارت نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک مستقبل میں کسی بھی میزائل تجربے یا حادثاتی اور غیر معینہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاع کا تبادلہ کریں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور ایٹمی جنگ کا خطرہ کم سے کم سطح پر برقرار رہے۔[5]
لاہور اعلامیہ اور معاہدے کی رو سے دونوں ممالک کا اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ مسئلہ کشمیر سمیت دوسرے اہم مسائل پر مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ دو طرفہ مذاکرات اور تعلقات میں بہتری اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ دونوں حکومتوں نے دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی صورت ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کی جائے گیا اور جنوبی ایشیا کے علاقائی تعاون کے مطابق دونوں ممالک میں انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے گی۔[1] لاہور اعلامیہ میں مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں یہ کہا گیا کہ دونوں حکومتوں کی جانب سے وزرائے خارجہ وقتاً فوقتاً ملاقات کریں اور ایک دوسرے کی باہمی رضامندی سے عالمی ادارہ برائے تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ضمن میں پیش رفت پر باہمی مشاورت سے اقدامات اٹھائیں گے تاکہ جنوبی ایشیا میں معیشت پروان چڑھے۔ اس کے علاوہ دو رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو خطے میں انسانی حقوق، شہری حقوق اور گمشدہ جنگی قیدیوں سے متعلق مشکلات اور حالات کا جائزہ بھی لے گی۔[1]

اعلامیہ کے بعدترميم

لاہور اعلامیہ کا دونوں ممالک اور دنیا بھر میں نہایت گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا اور 1998ء کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے چھٹکارے اور باہمی تعلقات میں اہم پیشرفت گردانا گیا۔[6] بھارتی وزیر اعظم کا بھارت میں سیاسی طور پر قد کاٹھ نہایت بلند ہو گیا اور انھیں بھارت میں قومی ہیرو کی طرح پیش کیا گیا۔ گو کہ اس بات کا وقتاً فوقتاً اظہار کیا جاتا رہا کہ پاکستان میں فوج اور جاسوسی ادارے اس معاہدے کی حمایت پر تیار نہیں ہیں لیکن سیاسی طور پر حکومت پاکستان نے ان عوامل پر کبھی بھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا، جس کے نتیجہ بعد میں کارگل جنگ اور پاکستان میں سیاسی حکومت کے خاتمے کی شکل میں غیر متوقع طور پر برآمد ہوا۔[7] بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے لاہور میں استقبال کو اس وقت کے پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے “دشمن ملک کے سربراہ کے استقبال“ سے تعبیر کیا تھا اور اس معاہدے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان میں ہوئے کئی دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا حساب چکتا کیے بغیر یہ معاہدہ قابل عمل نہیں تھا۔[8][9] مئی 1999ء میں دونوں ممالک کے مابین چھڑنے والی جنگ نے حالات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا اور اس کے بعد سرحدوں پر پاکستان اور بھارت نے اپنی فوج کی تعداد میں بیش بہا اضافہ کر دیا۔[8][9]بھارت نے اپنی افواج اور بھاری تو پخانہ سرحدی علاقوں میں تعینات کرنا شروع کر دیا۔[8]<ref دو ماہ تک جاری رہنے والے اس قضیے میں کئی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی اور دونوں ممالک کو جنگ کے انتہائی دھانے پر لا کھڑا کیا اور ایک موقع پر یہ خیال کیا جانے لگا کہ ایٹمی جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر بھارتی علاقے میں در اندازی کے واضع ثبوت ہونے کی وجہ سے نہایت شدید صورت میں رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ چند ماہ میں ہی پاکستان کے اندرونی حالات اس قدر ابتر ہوئے کہ فوج اور سیاسی ادارے ایک دوسرے سے گتھم گتھا نظر آنے لگے، نتیجتاً میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے الٹ دیا۔ ان تمام واقعات کی کڑی تجزیہ نگار لاہور اعلامیہ اور بعد میں کارگل جنگ کے حالات، طاقت کے حصول اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے مستقبل کے تعین سے ملاتے ہیں۔

واجپائی کی نظمترميم

واجپائ نے لاہور مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر یہ نظم پڑھی تھی جنگ نہ ہونے دیں گے ہم جنگ نہ ہونے دیں گے وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے جنگ نہ ہونے دیں گے ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے جنگ نہ ہونے دیں گے بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے جنگ نہ ہونے دیں گے

حوالہ جاتترميم