لوویزیانا کی خرید 1803ء میں ہوئی تھی جب فرانس نے امریکا میں موجود اپنے ایک بہت بڑے علاقے سے امریکا کے حق میں دستبرداری منظور کر لی تھی اور اس کے عوض امریکا سے دیڑھ کروڑ ڈالر وصول کیے تھے۔ اس وقت لوویزیانا کے علاقے کا رقبہ 828,000 مربع میل تھا اوراس طرح امریکا کو یہ زمین صرف  3 سینٹ فی ایکڑ سے بھی سستی پڑی۔ اتنی ساری زمین اب امریکا میں شامل ہونے سے امریکا کا رقبہ  لگ بھگ دگنا ہو گیا۔ اس حاصل کردہ زمین کو بعد میں 15 امریکی اور دو کینیڈین ریاستوں میں تقسیم کیا گیا۔

Louisiana Purchase
Vente de la Louisiane
1803–1804
US Flag with fifteen stars and fifteen stripes. In use May 1, 1795 – July 3, 1818.

امریکا کاآج کا نقشہ۔ 1803 میں جو لوویزیانا کا علاقہ خریداگیا تھا وہ یہاں ہرے رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے اور وہ موجودہ لوویزیانا سے بہت ہی بڑاتھا۔
تاریخ
تاریخ 
• 
July 4 1803
• 
October 1 1804
ماقبل
مابعد
لوویزیانا (نیا فرانس)
District of Louisiana
Territory of Orleans
20 دسمبر 1803 کو لوویزیانا کی امریکا کو منتقلی کی تقریب۔

فرانس 1699ء سے لوویزیانا کے اس علاقے پر قابض تھا۔ 1762ء میں یہ علاقہ ہسپانیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ نپولین بونا پارٹ نے 1800ء میں ایک خفیہ معاہدے کے تحت دوبارہ یہاں کا کنٹرول سنبھالا تا کہ شمالی امریکا میں ایک سلطنت بنائی جا سکے۔ فرانس کی امریکا کے وسط میں موجودگی کی وجہ سے اس وقت کے مغربی اور مشرقی امریکا کے درمیان تجارت کی سخت مشکلات حائل تھیں۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے فیصلہ کیا کہ فرانسیسیوں سے لوویزیانا کا ایک چھوٹا سا حصہ نیو اورلینس خرید لیا جائے تاکہ بندر گاہ اور دریائے مسیسیپی تک رسائی مل سکے۔
اس وقت فرانس پر برطانیہ سے جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ ہیٹی میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے میں ناکامی کی وجہ سے فرانس کی کیریبیئن کی شوگر کالونیوں سے ہونے والی آمدنی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ امریکی نیو اورلینس اور بندرگاہ کے عوض ایک کروڑ ڈالر ادا کرنے پر تیار تھے مگرفرانس نے پیشکش کری کہ پورا لوویزیانا دیڑھ کروڑ ڈالر (یعنی 8 کروڑ فرانک) میں خرید لو۔ چونکہ اس بات کا خطرہ تھا کہ فرانس اپنی پیشکش واپس لے سکتا ہے اس لیے امریکی نمائندے روبرٹ لیونگ اسٹون نے صدر جیفرسن سے منظوری لینے کا انتظار نہیں کیا اور 30 اپریل 1803ء کو فرانسیسیوں سے خرید کا معاہدہ کر لیا۔ یہ خبر دو مہینے بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچی۔
فرانس سے لوویزیانا کی خرید کے بعد امریکا نے اسپین سے فلوریڈا، روس سے الاسکا اور ڈنمارک سے ورجن آئی لینڈ خریدے۔[1]

1804 کا زمین کا قانون

ترمیم

لوویزیانا کی خرید کے ایک سال بعد 1804ء میں امریکی حکومت نے عوام کو کاشتکاری کے لیے زمین فروخت کرنا شروع کی۔ زمین کی قیمت دو ڈالر فی ایکڑ مقرر کی گئی۔ خریدار کو کم از کم 160 ایکڑ زمین لینا ضروری تھا۔[2]

1810ء تک زمین کی قیمت دو ڈالر فی ایکڑ رہی۔ لیکن اسٹاک مارکیٹ میں سٹے بازوں نے 1818ء تک اسے 80 ڈالر فی ایکڑ تک پہنچا دیا۔ دو سال بعد 1820ء میں جب یہ بُلبُلہ پھٹا تو زمین کی قیمت گر کر دو ڈالر فی ایکڑ سے بھی کم ہو گئی۔ یہ سب اُس کاغذی کرنسی کی بدولت ممکن ہوا جو اس زمانے کے بینک چھاپ کر قرض دے رہے تھے۔
اسٹاک مارکیٹ میں ایسے کریش (crash) بڑے تواتر سے آتے رہے۔ 1819 کے بعد 1837, 1857, 1873, 1907, 1921, اور 1929میں بڑے کریش واقع ہوئے۔

مالیات

ترمیم

لوویزیانا کی خرید و فروخت تاریخ میں سب سے بڑی زمین کی خرید و فروخت ہے۔ اُس زمانے میں عوام اگرچہ ہارڈ کرنسی (سونا چاندی) استعمال کرتے تھے مگر لوویزیانا کی خرید و فروخت ہارڈ کرنسی میں نہیں ہوئی تھی۔
لوویزیانا کی خرید و فروخت کے لیے امریکی حکومت نے حکومتی قرضے (bonds) جاری کیے۔ اس زمانے میں مالیاتی لحاظ سے ایمسٹرڈیم لندن سے بھی زیادہ محکم پوزیشن میں تھا۔ایمسٹرڈیم کے ہوپ بینک اور لندن کے بیرنگز بینک نے ان بونڈز کو امریکی حکومت سے خریدنے اوریورپی عوام کو بیچنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ان بونڈز پر 13.3 فیصد ڈسکاونٹ بھی تھا اور 6 فیصد سود بھی جس کی ادائیگی شش ماہی تھی۔[3]
فرانس پہلے ہی سے امریکی حکومت کا مقروض تھا۔ 37 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا یہ قرضہ بھی امریکا کی طرف سے ادا شدہ رقم مان لیا گیا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. The Root Of The Crisis: Every $1 Of Debt Generates Just 44c Of Economic Output
  2. [ The Monetary Elite Vs. Gold's Honest Discipline By Vincent R. LoCascio]
  3. The Baring Archive[مردہ ربط]