سلطنت لفظ سلطان سے نکلا ہے جس کا مطلب "محکم یا حکمران"۔ سلطنت کو ہم حاکمیت بھی کہہ سکتے ہیں۔ سلطنت ویسے سیاسی طور پر ایک شہنشاہ یا سلطان کے زیرِ نگراں اقلیم یا جغرافیائی علاقے کو سلطنت کہلاتی ہے۔ ایک سلطنت ایک ہی شاہ یا صدر کے ماتحت قابو میں ہوتا ہے۔ سلطنت کے اندر بہت سے عہدے ہوتے ہیں جن میں بادشاہ، ملکہ، وزیر اعظم، وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر افواج، وزیر تعلیم ، باندھی، سپاہی اور دیگر بے شمار عہدے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا عہدہ بادشاہ کا ہوتا ہے۔

سلطنت انتہائی عروج
(سن عیسوی)
انتہائی رقبہ
(لاکھ مربع میل)[1]
برطانوی سلطنت 1920ء 137.1
منگول سلطنت 1270ء 92.7
روسی سلطنت 1895ء 88.0
کنگ خاندان- چین 1790ء 56.8
ہسپانوی سلطنت 1810ء 52.9
فرانسیسی سلطنت- دوسری 1920ء 44.4
خلافت عباسیہ 750ء 42.9
خلافت امویہ 720ء 42.9
یوان خاندان- چین 1310ء 42.5
پرتگالی سلطنت 1815ء 40.2

سلطنت کی بنیادترميم

تاریخ کی تقریباً ہر سلطنت کی بنیاد لوٹ مار رہی ہے۔[2]۔ جب مفتوحہ علاقے کنگال ہو گئے تو ہر سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔

سلطنت اور داوری میں فرقترميم

’سلطنت‘ کا لفظ صرف اُس شاہی ریاست کے لئے استعمال ہو سکتا ہے جس کا سربراہ کوئی سلطان ہو۔

ایک متبادل اصطلاح ’داوری‘[3] ہے۔

’سلطنت‘ اور ’داوری‘ مکمل طور پے معنے میں مترادف نہیں ہیں۔

’داوری‘ کو کسی بھی وسیع و عریض قبضہ جات کو کہلایا جا سکتا ہے لیکن ’سلطنت‘ صرف ایک سلطان کی ریاست کو کہلایا جا سکتا ہے۔

اکثر سلطنت کا حکمران ایک مسلمان سلطان ہوتا ہے اور داوری کا حکمران ایک غیر مسلم ہوتا ہے۔

قدیم روم کو ایک ’داوری‘ کہلایا جا سکتا تھا لیکن وہ ’سلطنت‘ کہلایا نہیں جا سکتا تھا کیوںکے اس کے تمام حکمران قیصر تھے۔

برونائی اور عمان کے حکمران سلطان ہیں۔ لہٰذا ان ممالک کو ’سلطنت‘ کہلانا درست ہے۔ لیکن ان دونوں ’سلطنتیں‘ کو ’داوری‘ کہلانا غلط ہے کیونکہ وہ دونوں رقبے میں بہت چھوٹے ممالک ہیں یعنی وہ دونوں وسیع و عریض ممالک نہیں ہیں۔

سلطنتِ عثمانیہ دونوں ایک ’سلطنت‘ اور ’داوری‘ رہی تھی کیوںکے اس کے حکمران سلاطین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک وسیع و عریض ’داوری‘ بھی تھی۔

سلطنتِ عثمانیہ کا سربراہ ایک سلطان تھا اورفتحِ قسطنطنیہ کے بعد وہ قیصرِ روم کا لقب بھی اپنا لیا۔ لہٰذا عثمانیوں کی سلطنت کو ایک ’داوری‘ بھی کہلانا درست ہے۔

چوںکہ روم ،برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جاپان کیسے ممالک کے وسیع و عریض قبضہ جات کے سربراہاں کبھی بھی سلطان کا لقب نہیں لی، لہٰذا ان ممالک کے وسیع و عریض قبضہ جات کو’سلطنت‘ کہلانا غلط ہے۔

لہٰذا اُنہیں صرف ’داوری‘ کہلانا جانا چاہئے، یعنی: ’سلطنتِ برطانیہ‘ کے بجائے، ’برطانیہ کی داوری‘ کا نام استعمال کرنا درست ہے۔

یہ یوں درست ہے کیوںکہ ہمیشہ قدیم روم صرف کوئی قیصر اور برطانیہ ہمیشہ کوئی بادشاہ یا ملکہ کے زیرِاقتدار رہے ہیں۔ ان ممالک میں کبھی بھی کوئی سلاطین نے حکومت نہیں کی ۔

خلافتِ امویہ، خلافتِ عباسیہ اور مغل بادشاہت سب وسیع و عریض داوری بھی تھے لیکن ان کے حکمران سلطانتیں نہین تھے۔ ان کے حکمران یا تو خلفاء تھے یا بادشاہ تھے۔

اصلی سلطنتیں ذیل میں درج ہیں:

ان تمام سلطنتیں سلاطین کے زیرِاقتدار رہے ہیں۔

’داوری‘ کے مثال اور استعمالترميم

تاریخ کی سب سے پہلے داوری قدیم بین النہرین اکد کو مانا جاتا ہے۔

تاریخ کی سب سے پہلے سلطنت محمود غزنوی کی سلطنت غزنویہ مانا جاتا ہے۔

انگریزی زبان میں ’سلطنت‘ اور ’داوری‘ میں تفریق اکثر نہیں کیا جاتا ہے۔

انگریزی زبان میں ’سلطنت‘ کو ’sultanate‘ کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں وسیع و عریض مسلم سلطنتیں کو 'empires' یعنی ’داوری‘ کہلائے جاتے ہیں۔

انگریزی زبان میں بھی برونائی اور سلطنت عمان کو 'sultanates' کہلائے جاتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی 'empires' یعنی ’داوری‘ نہیں کہلائے جاتے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن نے 1983ء میں ایک تقریر میں سوویت اتحاد کو ’شریرداوری‘ کا لقب دیا تھا۔

اقتباسترميم

  • ہر بڑی کامیابی کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے۔
"Behind every great fortune there is a crime." -Balzac (quoted at the front of "The Godfather", by Mario Puzo).[4]
https://dsal.uchicago.edu/cgi-bin/app/platts_query.py?qs=داوري&matchtype=default

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. The Biggest Empires In Human History
  2. New BBC Civilisations to ask whether Britain's culture is built on 'looting and plunder'
  3. "John T Platts dictionary of Urdu, classical Hindi, and English 1884". Platts, John T. (John Thompson). A John T Platts dictionary of Urdu, classical Hindi, and English. October 28, 2020. اخذ شدہ بتاریخ October 28, 2020. 
  4. Quote Investigator