شہید اول یا شیخ شہید(734۔786 ھ)، آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ فقہا میں سے ہیں۔ ان کا مکمل نام ابو عبد اللہ شمس الدین محمد بن مکی بن محمد شامی عاملی جزینی(ولادت سنہ 734 وفات سنہ 786 ہجری قمری) تھا۔ وہ مذاہب اہل سنت کی فقہ میں بھی استاد مسلّم تھے اور انھوں نے مختلف اسلامی سرزمینوں کا سفر اختیار کرکے متعدد اجازے حاصل کیے تھے۔ وہ کتاب لمعہ دمشقیہ کے مصنف ہیں۔ وہ آخر کار سنہ 786ہجری قمری میں تشیُّع کے مخالفین کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

محمد مکی شہیدِ اول
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1334ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزین   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1385ء (50–51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تعارف

ترمیم

ولادت اور نسب

ترمیم

محمد مکی سنہ 734 ہجری قمری لبنان کے علاقے جبل عامل کے ایک قریہ "جزین" میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام جمال الدین مکی بن شمس الدین محمد بن حامد تھا۔[1]

القاب

ترمیم

مآخذ و مصادر کے مطابق وہ ابن مکی، امام الفقیہ، شہید یا "شہید اول"[2] اور شیخ شہید جیسے القاب سے پہچانے جاتے ہیں۔

خاندان

ترمیم

محمد مکی کے افراد خاندان سب اہل علم و فضل اور اپنے زمانے کے علما میں سے تھے۔ شہید کے تینوں بیٹے "شیخ رضی الدین"، "شیخ ضیاء الدین" اور "شیخ جمال الدین" علما اور فقہا کے زمرے میں آتے ہیں۔[3] شہید اول کی زوجہ مکرمہ بھی خود فقہا اور معارف و تعلیمات اہل بیت کے مروجین و مبلغین میں سے تھیں۔[4] شہید اول کی بیٹی "امّ حسن" ـ جن کا نام "فاطمہ" تھا، جبل عامل کے علما میں شمار ہوتی تھیں جنہیں "‌ست المشائخ‌" کا لقب دیا گیا ہے۔[5]

علمی شخصیت

ترمیم

محمد مکی علامہ حلی کے فرزند فخر المحققین کے شاگرد تھے۔ فقہ میں ان کی معروف کتب میں سے ایک کا نام لمعہ دمشقیہ (کتاب) ہے جو انھوں نے بہت مختصر مدت میں تصنیف کی ہے۔ کتاب کی تالیف کے دو صدیاں بعد ایک مشہور اور عظیم شیعہ فقیہ نے اس پر شرح لکھی اور وہ بھی شہید اول کے انجام سے دوچار ہوکر شہید ہوئے اور شہید ثانی کہلائے۔

محمد مکی کی تمام کتابیں گراں قدر فقہی تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ محقق حلی، علامہ حلی وغیرہ جیسے فقہا اور علما کی کاوشوں کی طرح، شہید اول کی کتابوں پر مختلف اداوار کے علما اور فقہا نے شرحیں اور حاشیے لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔

ساتویں آٹھویں صدی ہجری کے محقق حلی، ان کے بھانجے علامہ حلی نیز شہید اول کی فقہی کتب شیعہ فقہا کے درمیان میں فقہی متون کی صورت اختیار کر گئی ہیں اور بعد کے علما نے ان پر شروح اور حواشی لکھے ہیں اور یہ موضوع اس زمانے تک بے مثل تھا اور صرف حالیہ ایک صدی کے دوران میں شیخ مرتضی انصاری (جو تقریباً 140 سال قبل دنیا سے رخصت ہوئے ہیں) کی دو کتابوں فرائد الاصول اور مکاسب کی حالت یہی رہی ہے۔

مشاہیر کے کلام میں

ترمیم

علامہ امینی انھیں شیعیان اہل بیت کا ملجا اور شریعت کا پرچمدار قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں: ان کے علمی اور فقہی نظریات علما کی فقہی آراء کا سرچشمہ اور ان کے عقائد کا نقطہ استناد ہے اور فقہ و اصول میں ان کی شہرت نیز علوم کی ترقی میں ان کا کردار، اس سے کہیں زیادہ روشن و آشکار ہے کہ اس کے لیے شرح و بیان کی ضرورت ہو۔[6]

محمد باقر خوانساری کہتے ہیں: فقہ اور قواعد احکام میں شہید اول کا مقام و مرتبہ نقل احادیث اہل بیت میں شیخ صدوق جیسا اور اصول عقائد اور کلام اور مباحثے اور مناظرے نیز انحرافی افکار پر تنقید میں شیخ مفید اور سید مرتضی کی مانند ہے جبکہ نامی گرامی شاگردوں کی کثرت کے لحاظ سے شیخ طوسی کی طرح اور فقہی مباحث کی تشریح و توضیح میں ابن ادریس حلی جیسا اور شرعی اسرار و آداب کی ترویج اور انحرافی تفکرات، اوہام اور خرافات کے خاتمے میں علامہ مجلسی اور وحید بہبہانی کی مانند ہیں۔[7]

شیعہ علم رجال کے ماہر مصطفٰی بن حسین تفرشی لکھتے ہیں: محمد بن مکی بن حامد عاملی معروف بنام شہید اول، اہل تشیع کے شیخ، استاد، اپنے زمانے کے علامہ فہامہ اور صاحب تحقیق و تدقیق تھے۔ وہ مذہب امامیہ کے عالی رتبہ علما اور ان کے موثقین اور معتمدین میں سے ہیں اور ان کی تالیفات پاکیزہ اور تصنیفات عمدہ ہيں۔[8]

اساتذہ

ترمیم

محمد مکی نے متعدد اکابرین سے فیض حاصل کیا ہے جن میں سے بعض کے نام حسب ذیل ہیں:

شاگرد

ترمیم

محمد مکی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے مكتب علم و اجتہاد کے پرورش یافتگان کی تعداد کثیر ہے جن میں سے صرف بعض کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں کیا جا سکتا ہے:

محمد مکی کے تین فرزند شیخ محمد، شیخ على اور شیخ حسن

تألیفات

ترمیم
  1. اللمعۃ الدمشقیۃ
  2. الدروس
  3. الذکری
  4. النفلیہ
  5. البیان
  6. الاربعون حدیثا
  7. مسائل ابن مکی
  8. العقیدۃ الاسلامیہ
  9. اختصار الجعفریات؛
  10. جواز ابداع السفر فی شہر رمضان
  11. جامع البین من فوائد الشرحین
  12. غایۃ المراد
  13. القواعد الکلیۃ فی الأصول و الفروع
  14. حاشیۂ شرح ارشاد
  15. حاشیۂ قواعد علامہ؛
  16. خلاصۃ الاعتبار فی الحج و الاعتمار
  17. المزار
  18. الدرۃ الباہرہ جو شہید اول سے منسوب ہے۔[11]

محمد مکی کو 9 جمادی الاول بروز پنج شنبہ سنہ 786 ہجری قمری میں برقوق کی بادشاہت کے دور میں قاضی برہان الدین مالکی اور عباد بن جماعہ شافعی کے فتوی کے تحت قلعۂ شام کے قید خانے میں ایک سال تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد قتل کیا گیا۔[12] شیخ حر عاملی محمد مکی کے قتل کی کیفیت کے بارے میں لکھتے ہیں: شہید اول کو تلوار سے وار کرکے شہید کیا گیا، پھر پھانسی پر لٹکایا گیا پھر سنگسار کیا گیا اور ان کی میت کو نذر آتش کیا گیا۔[13]

مآخذ

ترمیم
  • امینی نجفی، عبد الحسین [صاحب الغدیر]، شہیدان راہ فضیلت، ناشر: نجف، 1355 ہجری قمری/1936عیسوی۔
  • تفرشی، مصطفٰی بن حسین، نقد الرجال، محقق و ناشر: مؤسسہ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، قم، 1418 ہجری قمری۔
  • شہید اول، محمد، الالفیہ والنفلیہ، مکتب الإعلام الإسلامی، 1408 ہجری قمری
  • شہید اول، محمد، اللمعہ الدمشقیہ، قم، دار الفکر، 1411 ہجری قمری
  • شہید اول، محمد، الدروس الشرعیہ فی فقہ الامامیہ، قم، جامعہ مدرسین۔
  • امین عاملی، محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف۔
  • خوانساری، محمد باقر بن زین العابدین، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، قم، اسماعیلیان۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، امل الآمل، بغداد، مکتبہ الأندلس۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. شهید اول، الالفیہ والنفلیہ، ص23۔
  2. امین عاملی، اعیان الشیعہ، ج2، ص273۔
  3. حر عاملی، امل الآمل، ج1، ص134 و 179۔
  4. حر عاملی، وہی ماخذ، ج1، ص193۔
  5. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ج1، ص140۔
  6. امینی، شهیدان راہ فضیلت، ص154۔
  7. خوانساری، روضات الجنات، ج7، ص4۔
  8. تفرشی، نقدالرجال، ج4، ص329۔
  9. شہید اول، الالفیہ والنفلیہ، ص25۔
  10. شہید اول، الالفیہ والنفلیہ، ص25۔
  11. امین عاملی، اعیان الشیعہ، ج10، ص62۔
  12. شہید اول، اللمعہ الدمشقیہ، ص6۔
  13. حر عاملی، امل الآمل، ج1، ص182۔