مدینہ منورہ کے محلہ بنو سلمہ میں واقع ایک مسجد جہاں 2ھ میں نماز کے دوران تحویل قبلہ کا حکم آیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام نے نماز کے دوران اپنا رخ بیت المقدس سے کعبے کی جانب پھیرا۔ کیونکہ ایک نماز دو مختلف قبلوں کی جانب رخ کر کے پڑھی گئی اس لیے اس مسجد کو "مسجد قبلتین"یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد بئر رومہ کے قریب واقع ہے۔ مسجد کا داخلی حصہ قبہ دار ہے جبکہ خارجی حصے کی محراب شمال کی طرف ہے۔ عثمانی سلطان سلیمان اعظم نے 1543ء میں اس کی تعمیر نو کرائی۔

مسجد القبلتین
Masjid al-Qiblatain.jpg
مسجد قبلتین کا صدر دروازہ۔
بنیادی معلومات
مقامFlag of سعودی عرب مدینہ، سعودی عرب
متناسقات24°29′02.71″N 39°34′44.07″E / 24.4840861°N 39.5789083°E / 24.4840861; 39.5789083
مذہبی انتساباسلام
ملکسعودی عرب
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیرمسجد
سنہ تکمیل623
تفصیلات
گنجائش2000
گنبد1
مینار2
مسجد قبلتین
مسجد قبلتین

اس کی موجودہ تعمیر و توسیع سعودی شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں مکمل ہوئی۔ اس نئی عمارت کی دو منزلیں ہیں جبکہ میناروں اور گنبدوں کی تعداد بھی دو، دو ہے۔ مسجد کا مجموعی رقبہ 3920 مربع میٹر ہے۔ حالیہ تعمیر نو پر 3 کروڑ 97 لاکھ ریال خرچ ہوئے۔

وجہ تسمیہترميم

اس مسجد کا نام مسجد قبلتین ہے جس کے لفظی معنی دو قبلوں والا مسجد، یہ نام اس مسجد کو اس لیے دیا گیا ہے کہ اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے ،اُس وقت مسلمانوں کا قبلہ مسجد اقصٰی ہوا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا ہی رہے تھے کہ قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

ترجمہ:(اے پیارے نبی !) تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی، خو ب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگرا س کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالتِ نماز میں ہی چہرہ مبارک مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف پھیر لیا۔ اسی طرح نماز میں پیچھے کھڑے صحابہ نے بھی رسول  کی طرح منہ مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام پھیر لیا۔ یہیں وجہ ہے کہ اس مسجد کو مسجد قبلتین (دو قبلوں والا مسجد ) کہا جاتا ہے۔

بیرونی روابطترميم