میری لوئیس "میرل" اسٹریپ (Mary Louise "Meryl" Streep) ایک امریکی اداکارہ ہے جو تین بار اکیڈمی ایوارڈز جیت چکی ہے۔ اسے "اپنی نسل کی بہترین اداکارہ" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ [5]

میرل اسٹریپ
(انگریزی میں: Meryl Streep ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Meryl Streep February 2016.jpg
میرل اسٹریپ، فروری 2016

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Mary Louise Streep ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش جون 1949 (عمر 71 سال)
سمٹ، نیو جرسی، ریاستہائے متحدہ
رہائش کنیکٹیکٹ (اگست 1985–1990)
برینٹووڈ، کیلیفورنیا (1990–1994)
کنیکٹیکٹ (1994–)
نیویارک شہر  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بالوں کا رنگ سنہری  ویکی ڈیٹا پر (P1884) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت ڈیموکریٹک پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات Don Gummer (شادی. 1978)
ساتھی John Cazale (1976–78); وفات
اولاد Henry, Mamie, Grace, and Louisa
عملی زندگی
مادر علمی ییل یونیورسٹی
تعلیمی اسناد بی اے،Master of Fine Arts  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذہ جین آرتھر  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اداکارہ، فلم پروڈیوسر
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1971–تا حال
اعزازات
مکمل فہرست
دستخط
Meryl Streep Signature.svg
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ merylstreeponline.net
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ[4]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میرل اسٹریپ22 جون 1949ء کو ریاستہائے متحدہ امریکامیں پیدا ہوئیں۔وہ پہلی بار Trelawny of the Wells نامی تھیٹر میں جلوہ گر ہوئیں۔ 1977ء میں ایک ٹیلی وژن فلم دی ڈیڈلیئسٹ سیزن سے چھوٹی سکرین پر ڈیبیو کیا جبکہ بڑے پردے پر اداکاری کا آغاز فلم جولیا سے کیا۔ 1978ء میں انہوں اپنی زندگی کا پہلا ایمی ایوارڈز منی سیریز ہولوکاسٹ کے ذریعے حاصل کیا اور اس سال فلم ڈیئرہنٹر سے آسکر ایوارڈز کے لیے پہلی نامزدگی حاصل کی۔ آسکر ایوارڈ کے لیے میرل کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اگلے ہی سال کریمر ورسز کریمر سے بہترین معاون اداکارہ کا آسکر ایوارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔ میرل اسٹریپ اداکاری کے اس مرتبے پر فائز ہیں کہ اب ان کے نام سے بھی شوبز کی دنیا میں مریل اسٹریپ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔[6]

جنسی کاروبار کو ناقابل تعزیر قرار دینے کی مخالفتترميم

حقوق نسواں کے لیے مہم چلانے والوں کے ساتھ ساتھ چند نامور ہالی وڈ ستاروں نے، جن میں میرل اسٹریپ، کیٹ وینسلیٹ اور ایما تھامپسن شامل ہیں، اُس وقت ہی سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس اقدام کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی تھی جب مجوزہ پالیسی کا جنسی کاروبار کو ناقابل تعزیر قرار دینے کی تجویزمسودہ منظر عام پر 2015ء میں آیا تھا۔[7]

حوالہ جاتترميم

  1. Decine21 person ID: https://decine21.com/biografias/6440 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 مئی 2020
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12048104v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12048104v
  4. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=tt6911608 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 ستمبر 2020
  5. Hollinger 2006، صفحات 94–5.
  6. فاروق احمد انصاری، میرل اسٹریپ کی زندگی اور خوبصورتی، مشمولہ: روزنامہ جنگ کراچی، 31 مارچ 2019ء، صفحہ 8
  7. ’جنسی کاروبار کو ناقابل تعزیر قرار دیا جائے‘

بیرونی روابطترميم