نیو یارک شہر

(نیویارک شہر سے رجوع مکرر)
  

نیو یارک شہر (یعنی نیا یارک) ریاستہائے متحدہ امریکا کا سب سے بڑا شہر ہے اور دنیا کے عظیم ترین شہروں میں سے شمار ہوتا ہے۔ اس کو بگ ایپل (big apple) بھی کہا جاتا ہے۔ ریاست نیویارک کے اس شہر کی آبادی 8.2 ملین ہے جبکہ شہر 321 مربع میل (تقریباً 830 مربع کلومیٹر) پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکا کا سب سے گنجان آباد شہر ہے۔ مضافاتی علاقوں کی آبادی سمیت 18.7 ملین کی آبادی کے ساتھ نیویارک دنیا کے بڑ ے شہری علاقوں میں سے ایک ہے۔

نیو یارک شہر
(انگریزی میں: New York)[1]
(انگریزی میں: Fort Neu-Amsterdam)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
NYC Montage 2014 4 - Jleon.jpg
 

نیو یارک شہر
پرچم
نیو یارک شہر
نشان

منسوب بنام جیمز دوم شاہ انگلستان،  یورک،  ایمسٹرڈیم  ویکی ڈیٹا پر (P138) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ تاسیس 1624،  1626[1]  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Map of New York Highlighting New York City.svg
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا (4 جولا‎ئی 1776–)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[3][4]
دار الحکومت برائے
ریاستہائے متحدہ امریکا (11 جنوری 1785–5 دسمبر 1790)  ویکی ڈیٹا پر (P1376) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ نیویارک[1]  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 40°43′00″N 74°00′00″E / 40.71667°N 74.00000°E / 40.71667; 74.00000
رقبہ 1214 مربع کلومیٹر
1213.369839 مربع کلومیٹر (1 اپریل 2010)[5]  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 11 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 8398748 (project management estimation) (1 جولا‎ئی 2018)[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  • مرد 3833351 (2010)[7]  ویکی ڈیٹا پر (P1540) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  • عورتیں 4245512 (2010)[7]  ویکی ڈیٹا پر (P1539) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  • گھرانوں کی تعداد 3371062 (1 اپریل 2010)[5]  ویکی ڈیٹا پر (P1538) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات مشرقی منطقۂ وقت،  متناسق عالمی وقت−05:00 (معیاری وقت)،  متناسق عالمی وقت−04:00 (روشنیروز بچتی وقت)  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گاڑی نمبر پلیٹ
NY  ویکی ڈیٹا پر (P395) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
10000–10499
11004–11005
11100–11499
11600–11699
10000
10001
10002
10005
10006
10009
10012
10014
10017
10019
10021
10025
10030
10032
10036
10040
10042
10047
10050
10053
10057
10061
10064
10069
10073
10078
10082
10087
10092
10095
10098
10100
10104
10109
10113
10117
10121
10125
10131
10135
10138
10140
10143
10146
10148
10150
10152
10155
10157
10160
10163
10162
10168
10170
10174
10176
10181
10186
10189
10193
10197
10200
10204
10206
10207
10210
10216
10219
10221
10224
10228
10234
10237
10241
10244
10247
10248
10250
10251
10253
10257
10261
10264
10266
10269
10272
10274
10278
10281
10283
10285
10289
10292
10290
10296
10299
10302
10305
10308
10311
10313
10315
10317
10319
10322
10324
10326
10327
10328
10325
10331
10334
10336
10338
10340
10343
10345
10349
10351
10354
10356
10357
10361
10363
10365
10369
10372
10374
10377
10381
10384
10387
10389
10390
10392
10393
10394
10397
10399
10401
10403
10405
10408
10410
10413
10416
10420
10425
10429
10431
10432
10434
10437
10440
10441
10444
10438
10448
10456
10461
10465
10468
10470
10473
10476
10479
10481
10483
10485
10487
10490
10493
10495
10497
10499
11004
11100
11102
11106
11109
11114
11117
11118
11121
11123
11129
11132
11135
11138
11140
11142
11145
11149
11151
11153
11157
11161
11162
11164
11166
11167
11171
11174
11176
11178
11181
11183
11185
11186
11188
11190
11192
11194
11197
11199
11202
11204
11206
11207
11208
11210
11211
11215
11218
11220
11222
11226
11224
11235
11238
11243
11247
11252
11256
11258
11261
11264
11267
11271
11274
11278
11285
11287
11289
11292
11294
11296
11300
11303
11307
11311
11315
11317
11319
11322
11328
11332
11334
11337
11339
11342
11346
11349
11354
11359
11364
11368
11371
11376
11378
11380
11384
11387
11391
11393
11398
11402
11407
11409
11411
11415
11417
11420
11424
11429
11432
11436
11441
11445
11448
11452
11455
11459
11462
11466
11469
11471
11474
11477
11478
11482
11488
11492
11497
11601
11604
11607
11608
11611
11616
11620
11624
11627
11630
11633
11635
11637
11639
11641
11644
11647
11650
11654
11658
11663
11668
11674
11680
11684
11687
11689
11692
11696
11698  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 212،  347،  646،  718،  917،  929  ویکی ڈیٹا پر (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 5128581  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیویارک کاروبار، تجارت، فیشن، طب، تفریح، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کا عالمی مرکز ہے جہاں کئی اعلیٰ نوعیت کے عجائب گھر، آرٹ گیلریاں، تھیٹر، بین الاقوامی ادارے اور کاروباری مارکیٹیں ہیں۔ اقوام متحدہ کاصدر دفتر بھی اسی شہر میں ہے جبکہ دنیا کی کئی معروف بلند عمارات بھی اسی شہر کی زینت ہیں۔

یہ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پر کشش حیثیت کا حامل ہے اور وہ نیویارک کے اقتصادی مواقع، ثقافت اور طرز زندگی سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ نیویارک شہر میں امریکا کے دیگر شہروں کے مقابلے میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔

اس وقت نیویارک شہر کے میئر مائیکل بلوم برگ ہیں۔

تاریخترميم

نیویارک شہر کو اطالوی باشندے گیووانی ڈی ویرازانو کی جانب سے دریافت کے وقت مقامی امریکی باشندوں نے آباد کیا تھا۔ ویرازانو نیویارک کی بندرگاہ تک داخل نہیں ہو سکا تھا اور اس کا جہاز واپس بحر اوقیانوس میں داخل ہو گیا تھا۔ پہلی بار انگلستان کے ہنری ہڈسن نے علاقے کا نقشہ ترتیب دیا۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے کام کرنے والے ہڈسن نے 11 ستمبر 1609ء کو مین ہٹن کو دریافت کیا۔ وہ اس دریا میں سفر کرتے ہوئے، جو اب ان کے نام پر دریائے ہڈسن کہلاتا ہے، اس مقام تک پہنچے جہاں ریاست نیویارک کا دار الحکومت البانی واقع ہے۔ ولندیزیوں نے 1613ء میں اس شہر کی جگہ نیو ایمسٹرڈیم کی بنیاد رکھی جس نے 1652ء میں خود مختاری حاصل کرلی۔ برطانیہ نے ستمبر 1664ء میں شہر پر قبضہ کر کے اسے ڈیوک آف یارک اور البانی کے نام پر ”نیویارک“ کا نام دیا۔ ولندیزیوں نے اگست 1673ء میں شہر کو دوبارہ حاصل کر لیا اور اسے”نیو اورنج“ کا نام دیا لیکن نومبر 1674ء میں شہر سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھے۔

برطانیہ کے دور حکومت میں نیویارک مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ وسیع تر سیاسی آزادی کے لیے بڑھتے ہوئے احساسات کے پیش نظر امریکا کی انقلابی جنگ کے دوران شہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کر لیا گیا۔ شہر جنگ کے خاتمے تک برطانیہ کے قبضے میں رہا اور 1783ء میں یہ آخری بندرگاہ تھی جسے برطانوی جہازوں نے چھوڑا۔

نیویارک وفاق کے مسودات کے تحت 1785ء سے 1788ء تک اور بعد ازاں 1788ء سے 1790ء تک نو تشکیل شدہ ریاستہائے متحدہ امریکا کا دار الحکومت رہا۔ انیسویں صدی میں نہر ایری کی تعمیر کے بعد نیویارک نے بوسٹن اور فلاڈیلفیا کے مقابلے میں اقتصادی اہمیت حاصل کرلی۔ یہ عرصہ شہر کی اقتصادی ترقی کا عہد سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع نقل و حمل کے نئے روابط خصوصاً 1904ء میں شہر میں زمین دوز ریلوے کے قیام نے شہر کو مزید پھیلنے میں مدد دی۔ 1925ء میں شہر نے لندن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کا اعزاز حاصل کر لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں بندرگاہ اور تجارت و صنعت کے مرکز کی حیثیت سے نیویارک کا کردار انتہائی اہم رہا۔ جنگ کے نتیجے میں نیویارک دنیا کا ابھرتا ہوا شہر بن گیا جس کی وال اسٹریٹ نے عالمی اقتصادیات پر امریکا کی برتری قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1952ء میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے قیام نے اسے دنیا بھر کے شہروں پر سیاسی برتری دلائی اور تجریدی عمارات نے اسے پیرس کی جگہ ثقافتی دنیا کا مرکز بنا دیا۔

 
11ستمبر 2001ء کے حملوں سے قبل مین ہٹن کی بلند عمارات کا دلکش منظر، ورلڈ ٹریڈ سینٹر نمایاں ہے

جنگ عظیم کے بعد مضافات میں آبادیوں کے قیام کے باعث شہر کی آبادی میں کمی واقع ہوئی اور 1970ء کی دہائی میں پیداوار میں کمی، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور سفید فاموں کی بڑے شہروں سے ہجرت نے نیویارک کو سماجی و اقتصادی بحران سے دوچار کر دیا جس سے شہر 1990ء کی دہائی تک دوچار رہا۔ اس عرصے میں نسلی تناؤ میں کمی واقع ہوئی، جرائم کی شرح میں ڈرامائی کمی، معیار زندگی میں بہتری، اقتصادی نمو اور تارکین وطن کے لیے نئے قوانین نے اس شہر کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

شہر 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کا نشانہ بنا جب شہر کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے تباہ ہونے کے نتیجے میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ تعمیر ہونے والا ایک ہزار 776 فٹ بلند فریڈم ٹاور 2012ء میں مکمل ہوگا۔

جغرافیہترميم

 
نیویارک کے 5 علاقے، 1: مین ہٹن، 2: بروکلن،
3: کوئینز، 4: برونکس، 5: اسٹیٹن جزیرہ

نیویارک امریکا کے شمال مشرق اور ریاست نیویارک کے جنوب مشرق میں دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 468.9 مربع میل (ایک ہزار 214.4 مربع کلومیٹر) ہے جس میں سے 35.31 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ شہر تین اہم جزیروں مین ہٹن، اسٹیٹن اور ویسٹرن لونگ جزیرے پر مشتمل ہے۔ برونکس شہر کا واحد علاقہ ہے جو برعظیم امریکا سے منسلک ہے۔

شہر کی قدرتی بندرگاہ بالائی خلیج نیویارک میں ہے۔ مینہیٹن، بروکلن، اسٹیٹن جزیرہ اور نیو جرسی کے ساحل اس کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

نیویارک شہر پانچ علاقوں پر مشتمل ہے: مینہیٹن، بروکلن، کوئینز، برونکس، اسٹیٹن جزیرہ۔ یہ پانچوں علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر انہیں الگ شہر بھی سمجھا جائے تو یہ تمام دنیا کے 50 گنجان آباد ترین علاقوں میں شامل ہوں گے۔

مین ہٹن (آبادی 15لاکھ 93ہزار200) شہر کا کاروباری مرکز ہے۔ نیویارک شہر کی بلند ترین اور امتیازی عمارات اسی علاقے میں واقع ہیں۔

شہر کا نظارہترميم

 
فلیٹرون بلڈنگ

نیویارک کی بلند عمارتیں دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہیں۔ نیویارک میں مختلف انداز کی عمارتیں قائم ہیں جن میں فرنچ سیکنڈ امپائر انداز کی کنگز کاؤنٹی سیونگز بینک بلڈنگ، گوتھک ریوائیول انداز کی وول ورتھ بلڈنگ، آرٹ ڈیکو انداز کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ اور کریسلر بلڈنگ، بین الاقوامی انداز کی نیو اسکول، سی گرام بلڈنگ اور لیور ہاؤس اور انتہائی جدید انداز کی اے ٹی اینڈ ٹی بلڈنگ شامل ہیں۔ کونڈے ناسٹ بلڈنگ سبز انداز کی اہم ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

شہر کی معروف اور بلند ترین عمارت بلاشبہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھی جو 11ستمبر 2001ء کو دہشت گرد حملوں میں تباہ ہو گئی۔

سیاحتترميم

ہر سال 40 ملین غیر ملکی اور امریکی سیاح نیویارک کا دورہ کرتے ہیں۔ امپائر اسٹیٹ بلڈنگ، مجسمہ آزادی، بروڈوے پروڈکشنز، ال میوسیو ڈیل بیریو اور انٹریپڈ بحری، فضائی و خلائی عجائب گھر، برونکس کا چڑیا گھر اور نیویارک کا نباتیاتی باغ، ففتھ اور میڈیسن ایونیو کے شاپنگ مالز اور ہیلووین پریڈ اور ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔

کھیلترميم

نیویارک امریکا میں کھیلوں کا بھی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی بیس بال، باسکٹ بال، امریکی فٹ بال اور آئس ہاکی کی ٹیمیں امریکا میں اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ ایک عالمی شہر کی حیثیت سے نیویارک امریکا کے ان 4 بڑے کھیلوں کے علاوہ دیگر ایونٹس کی میزبانی کرتا ہے جن میں یو ایس ٹینس اوپن اور نیویارک سٹی میراتھن خصوصاً مشہور ہیں۔

ذرائع ابلاغترميم

 
ٹائمز اسکوائر، شہر میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کامرکز

نیویارک کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا دار الحکومت بھی کہلاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں عالمی معروف ادارے مثلاً ٹائم وارنر، نیوز کارپوریشن، ہیرسٹ کارپوریشن اور وایا کوم اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کی آزاد فلموں میں سے ایک تہائی نیویارک میں پیش کی جاتی ہیں۔ 200 سے زائد اخبارات اور 350 جرائد کے دفاتر شہر میں موجود ہیں۔ صرف کتب کی طباعت و اشاعت کی صنعت سے ہی 13 ہزار افراد وابستہ ہیں۔

شہر سے امریکا کے تین معروف قومی روزناموں میں سے دو دی نیویارک ٹائمز (اشاعت 1.1ملین) اور دی وال اسٹریٹ جرنل (اشاعت 2.1 ملین) نیویارک سے شائع ہوتے ہیں۔ ٹائمز کے علاوہ شہر کے دیگر بڑے اخبارات میں نیویارک ڈیلی نیوز (اشاعت 7 لاکھ 30 ہزار) نیویارک پوسٹ (اشاعت 6ل اکھ 50 ہزار) اور نیوز ڈے (اشاعت ایک ملین) شامل ہیں۔

شہر امریکا کے 4 بڑے نشریاتی ٹیلی وژن اداروں اے بی سی، سی بی ایس، فوکس اور این بی سی اور دیگر کئی معروف کیبل ٹیلی وژن چینلوں بشمول ایم ٹی وی، فوکس نیوز، ایچ بی او اور کامیڈی سینٹرل کا ہیڈکوارٹر ہے۔

انگریزی کے علاوہ اردو کے کئی ہفتہ وار اخبار بھی نیو یارک سے شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے اردو ٹائمز اور پاکستان پوسٹ قابل ذکر ہیں۔ اردو ٹائمز 28 سال اور پاکستان پوسٹ 15 سال سے شائع ہو رہا ہے۔

اقتصادیاتترميم

 
مین ہٹن امریکا کا سب سے بڑا کاروباری علاقہ ہے

نیویارک شہر بین الاقوامی کاروبار اور تجارت کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے عالمی اقتصادیات کے تین مراکز (نیویارک، لندن اور ٹوکیو) میں سے ایک قرار دیا جاتاہے۔ تجارت، انشورنس، ریئل اسٹیٹ، ذرائع ابلاغ اور آرٹس کے علاوہ شہر کے دیگر اہم شعبہ جات میں ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری، طبی تحقیق اور ٹیکنالوجی، غیر منافع بخش ادارے اور جامعات اور فیشن شامل ہیں۔

نیویارک اسٹاک ایکسچینج حجم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا بازار حصص ہے جبکہ نیس ڈیک فہرست کے اعتبار سے دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے اداروں کے دفاتر نیویارک میں قائم ہیں۔

پیداوار کے ضمن میں شہر میں گارمنٹس، کیمیکل، دھاتی پیداوار، غذائی مصنوعات اور فرنیچر اہم ہیں۔

اعداد و شمارترميم

شہر کی آبادی سال بہ سال

  • 1790 ء 33,131
  • 1900 ء 3,437,202
  • 1950 ء 7,891,957
  • 1970 ء 7,894,862
  • 1980 ء 7,071,639
  • 1990 ء 7,322,564
  • 2004 ء 8,168,338

تعلیمترميم

 
فورڈہیم یونیورسٹی

امریکا میں سالانہ سب سے زیادہ پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں نیویارک میں حاصل کی جاتی ہیں۔ 40 ہزار سند یافتہ طبیب اور 127 نوبل انعام یافتہ افراد نے اسی شہر کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔

نیویارک کی سٹی یونیورسٹی امریکا کی تیسری سب سے بڑی سرکاری جامعہ ہے۔ 1754ء میں قائم ہونے والی کولمبیا یونیورسٹی ریاست کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکا کی سب سے بڑی نجی اور غیر منافع بخش جامعہ ہے۔

نیویارک پبلک لائبریری امریکا کی سب سے بڑی سرکاری لائبریری ہے۔

ذرائع نقل و حملترميم

 
بروکلن برج

نیویارک شہر کا نظام امریکا کا سب سے پیچیدہ اور وسیع ٹرانسپورٹ نظام ہے جس میں تقریباً 13 ہزار ٹیکسیاں، ایک لاکھ 20 ہزار سائیکلوں کے علاوہ زمین دوز ریلوی، بسوں اور ریلوے کا نظام، ہوائی اڈا، پل اور سرنگیں، فیری سروس اور ٹرام وے شامل ہے۔ اس شاندار نظام کی بدولت نیویارک کے شہریوں کی اکثریت ذاتی گاڑی کی مالک نہیں۔ 2000ء کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک امریکا کا واحد شہر ہے جہاں نصف سے زائد افراد ذاتی گاڑی نہیں رکھتے۔

نیویارک کا زمین دوز ریلوے نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے جس کی پٹریوں کی لمبائی 656 میل یعنی ایک ہزار 56 کلومیٹر ہے جبکہ سالانہ مسافروں کی تعداد کے حساب سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا نظام ہے جسے سالانہ 1.4 ارب مسافر استعمال کرتے ہیں۔ نیویارک کی سرکاری بسوں اور ریل کا نظام شمالی امریکا کا سب سے بڑا نظام ہے۔

شہر اور اس کے گرد و نواح میں تین بڑے ہوائی اڈے ہیں جن میں جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جے ایف کی) اور لاگارڈیا ایئرپورٹ (ایل جی ای) کوئینز میں جبکہ نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ای ڈبلیو آر) قریبی نیوارک، نیو جرسی میں واقع ہے۔ 2005ء میں تقریباً 100 ملین مسافروں نے ان ہوائی اڈوں کو استعمال کیا۔

مزید دیکھیےترميم

جڑواں شہرترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/4042011-5 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 جون 2021 — اجازت نامہ: CC0
  2. archINFORM location ID: https://www.archinform.net/ort/1953.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 6 اگست 2018
  3.    "صفحہ نیو یارک شہر في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 22 اکتوبر 2021ء. 
  4.     "صفحہ نیو یارک شہر في ميوزك برينز.". MusicBrainz area ID. اخذ شدہ بتاریخ 22 اکتوبر 2021ء. 
  5. ^ ا ب United States Census 2010 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 جولا‎ئی 2020
  6. https://factfinder.census.gov/faces/tableservices/jsf/pages/productview.xhtml?src=CF — اخذ شدہ بتاریخ: 15 دسمبر 2019 — شمارہ: 2018
  7. ^ ا ب https://data.census.gov/cedsci/table?q=New%20York%20city,%20New%20York&g=1600000US3651000&hidePreview=true&tid=ACSDP5Y2010.DP05&table=DP05
  8. Sister Cities — سے آرکائیو اصل