یوسف زئی پشتون کا سب سے بڑا قبیلہ ہے جو پاکستان میں آباد ہے خاص طور پہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات،صوابی، گدون امازئی،دیر زیریں،دیر بالا،مردان،شانگلہ،بٹگرام،مالاکنڈ،بونیر اور تورغر میں جہانگیرخیل یوسفزئی آباد ہیں، بنوں میں علاقہ غوریوالہ میں مغل خیل یوسفزئی آباد ہے[1]، کشمیر میں بھی آباد ہیں جوکہ بعض علاقوں میں یوسفزئی سردار، مولوی اور قاضی قوم کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوه،کوہستانِ بالا,کندیا میں بھی آباد ہیں جو میاں خیل قوم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
قبائلی علاقہ جات میں بھی آباد ہیں اور افغانستان کے صوبےغزنی ، کنڑ،ننگرہار اور کابل میں بھی آباد ہیں۔
یوسف زئی قبیلہ پشتو زبان بولتے ہیں۔

سندھ اور بھارت کے یوسفزئی اردو ،سندھی، میواتی زبان استعمال کرتے ہیں۔ سندھ میں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ جبکہ کشمیر میں رہنے والے یوسفزئی اردو، پہاڑی و علاقائی زبانیں بولتے ہیں۔

لہجہترميم

یوسف زئی پشتو میں زیادہ تر ش کی بجائے ښ (خین) کا استعمال کرتے ہیں، یعنی پشتون کو پښتون کہتے ہیں اور پشتونخوا کو پښتونخوا بولتے ہیں۔ یوسف زئی پشتو کا پاکستان میں بہت گہرا اثر ہے اس لیے تمام بڑے شہروں میں یوسف زئی پشتو ہی بولی جاتی ہے اور پاکستان میں تمام پشتو کتابوں میں بھی یہیں استعمال ہوتی ہے۔کوئٹہ اور قندھار کی پشتو میں گوشت کو غوشہ کہا جاتا ہے جبکہ یوسف زئی پشتو یعنی پشاور،صوابی،مردان دیر،سوات،وغیرہ میں غوشہ کی بجائے غوبنہ بولا جاتا ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. Muhammad Hayat Khan (1867). Hayat E Afghani By Muhammad Hayat Khan Published In 1867 Complete Book In Urdu.