نتھو رام گوڈسے مشہور بھارتی رہنما گاندھی کا قاتل تھا۔ نتھورام گوڈسے نے 30 جنوری، 1948 کو موہن داس گاندھی کو قتل کر دیا تھا، بھارتی عدالت میں انتہاپسند گوڈسے نے بیان دیا تھا کہ موہن داس گاندھی نے قیام پاکستان کی حمایت کی، اسی لیے اس نے قتل کر دیا۔[1] بعض انتہا پسند ہندو تنظیمیں گوڈسے کو اپنا قومی ہیرو مانتی ہیں۔ اور 2014ء میں گوڈسے کے نام پر ایک مندر کا افتتاح کیا گيا۔ ہندو مہاسبھا نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوڈسے کے مجسمے کو ملک کے ہر بڑے شہر میں نصب کرنا چاہتی ہے۔ تنظیم نے اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر میں ایک مجسمہ نصب بھی کر لیا ہے۔ اس بارے میں سبھا کے صدر چندر پرکاش کوشک کا کہنا ہے کہ "ہم اس سلسلے میں وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کریں گے کہ گوڈسے کے مجسمے پورے ملک میں لگانے کی مہم شروع کی جائے۔[2]

نتھو رام گوڈسے
(مراٹھی میں: नथूराम विनायक गोडसे ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Nathuram godse.jpg
نتھو رام گوڈسے گاندھی کے قتل کے مقدمے میں آزاد بھارت کا پہلا دہشت گرد

معلومات شخصیت
پیدائش 19 مئی 1910(1910-05-19)
بارامتی، پونہ ضلع، بمبئی پریزیڈنسی، برطانوی ہند
(اب مہاراشٹر، بھارت)
وفات 15 نومبر 1949(1949-11-15) (عمر  39 سال)
انبالہ جہل، صوبہ پنجاب، ڈومنین بھارت
(اب ہریانہ میں، بھارت)
وجہ وفات پھانسی  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
جماعت اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن راشڑیہ سوایمسیوک سانگھ  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ونایک دامودر ساورکر  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام
جرم قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم