• یہ مضمون سرطان سے متعلق ہے، ورم کے دیگر استعمال کے لیے دیکھیے سوزش

ورم کا لفظ عام معنوں میں تو جسم پر پیدا ہوجانے والے کسی ابھار کے لیے استعمال ہوتا ہے یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ جسم کے کسی حصے کا غیر ضروری طور پر پھول جانا ورم کہلاتا ہے۔ ایسا کسی چوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اور یا پھر کسی جراثیم کے جسم میں داخلے کی وجہ سے بھی، دونوں ہی صورتوں میں جسم کے متاثرہ حصے پر جو سرخی، جلن، خارش اور پھلاؤ پیدا ہوتا ہے اسے سوزش یا التھاب کہا جاتا ہے۔ ورم کو انگریزی میں Tumor کہتے ہیں۔

طب و حکمت میں ٹیومر یا ورم دو الگ مفہوم میں استعمال ہوتا ہے

  1. پھول جانا ۔۔۔۔ یعنی کسی سوزش کی وجہ سے ورم آجانا، اس کی مزید تفصیل کے لیے سوزش کا صفحہ مخصوص ہے۔ اس طرح کا ورم سوزش کی وجہ سے پیدا ہونے والی پانچ علامات میں سے ایک ہے۔
  2. نئی خلیاتی نمو ۔۔۔۔ یعنی کسی وجہ سے نئے خلیات بننے یا خلیات کی نمو کے باعث پیدا ہونے والا پھلاؤ، ایسا عام طور پر جب ہوتا ہے جب خلیات کی نشو و نما اور بڑھنے کی تعداد بے قابو ہو جائے اور خلیات کی تعداد میں بلا ضرورت اضافہ ہوتا چلا جائے۔ خلیات کی اس نئی نشو و نما کو انگریزی میں Neoplasm بھی کہتے ہیں جبکہ اردو میں عام طور پر Neoplasm کے لیے کوئی نیا لفظ اختیار نہیں کیا جاتا اور اسے ورم ہی کہا جاتا ہے۔ خلیات کے اس طرح بڑھ کر ایک ورم (یا ایک نیا جسم) بنا دینے کی کیفیت کو ہی سرطان بھی کہا جاتا ہے۔ یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ ایسی صورت میں ورم سے مراد سرطان ہی ہوتی ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم