ولید بن مغیرہ عرب قبیلے بنی مخزوم کے سردار تھا اور جنگ کے معاملات اس کے سپرد تھے۔

ولید بن مغیرہ
معلومات شخصیت
پیدائش 520ء کی دہائی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ولید ابن الولید،  عمارہ بن ولید،  خالد بن ولید،  ناجیہ بنت ولید بن مغیرہ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مغیرہ بن عبد اللہ مخزومی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ذاتی زندگیترميم

اس کے والد مغیرہ بن عبد اللہ تھے،آن کی زوجہ حضرت خالد بن ولید کی والدہ لبابہ تھیں اور خالد بن ولید، ہشام بن ولید اور عمارہ بن ولید ان کے بیٹے تھے۔ ان کی ایک بیٹی ناجیہ بنت ولید تھی جنہوں نے صفوان بن امیہ سے نکاح کیا۔ ولید بن مغیرہ کی موت تک حضرت خالد نے اسلام قبول نہ کیا۔

ولید کا شمار مکہ کے دولت مند اور سرمایہ دار افراد میں ہوتا تھا ان کے تجارتی کاروان میں 100 اونٹ ہوتے تھے ایام حج میں روزانہ 10 اونٹ ذبح کر کے حجاج کو کھانا کھلاتا تھا یہ سلسلہ 40 روز تک جاری رہتاتھا۔606ء میں ولید بن مغیرہ نے خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے سب سے زیادہ رقم کی دائیگی کی تعمیر کعبہ کے وقت ولید نے قریش کے افراد سے کہا کہ وہ ناجائز کمائی کو اس کام میں نہ لائیں۔ خانہ کعبہ کی عمارت کو گراتے وقت ہر شخص خوف زدہ تھا کہ کہیں عذاب نازل نہ ہو جائے مگر ولید بن مغیرہ نے یہ کہہ کر پہلی ضرب لگائی "یارب کعبہ ! ہم نیک کام کرنا چاہتے ہیں"اس نے کعبہ شریف کے دو کونے گرائے۔ اس پر عوام نے کہا "ہم رات کو دیکھیں گے اگر کوئی اثر(عذاب) ولید پر نازل ہو اتو ہم کعبہ کی عمارت کو نہیں گرائیں گے اگر ولید کو کچھ نہ ہواتو اس کا مطلب کہ اللہ اس کام سے خوش ہے"اگلے دن ولید بخیروعافیت کعبہ میں داخل ہوا تو لوگ مطمئن ہو کر اس کا ساتھ دینے لگے۔

مخالف اسلامترميم

جب قریش مکہ نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ تبلیغ اسلام زور وشور سے کر رہے ہیں اور قریش کے منع کرنے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا اور ابوطالب ان کے سرپرست ہیں تو ولید بن مغیرہ نے فیصلہ کیاکہ ابوطالب کے پاس وفد بھیجا جائے جس میں ابوسفیان بن حرب،شیبہ بن ربیعہ، ابولبختری بن ہشام،الاسود بن عبد المطلب،ابوجہل،منبہ بن الحجاج اور نبیاح بن الحجاج شامل تھے وفد نے ابوطالب سے کہا" اگر آپ کا بھتیجا (محمدﷺ) چاہتے ہیں توہم انہیں اپنا سردار مان لیتے ہیں اگر کسی خوب صورت عورت سے شادی کرنا چاہیں تو ہم تیار ہیں کہ ان کی شادی کروا دیں اس کے بدلے میں وہ (محمد ﷺ) تبلیغ اسلام چھوڑ دیں۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا"اگر آپ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو بھی میں اسلام کی تبلیغ نہیں چھوڑوں گا"

وفد کی ناکامی کے بعد قریش نے ابوطالب کے پا س ایک وفد بھیجا جس میں یہ کہاگیا کہ آپ اپنے بھتیجے محمدﷺ کی سرپرستی چھوڑ دیں اور محمد ﷺ کو ہمارے حوالے کر دیں ہم آپ کو محمدﷺ کے بدلے میں ولید کے بیٹے عمار کو قبول کر لیں جو قریش کے جوانوں میں طاقت ور، عقل مند اور پر کشش جوان ہے اس جوان کی وجہ سے عزت اور ادب و احترام میں اضافہ ہو گا جبکہ آپ کا بھتیجا محمد ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کے دین سے لوگوں کو متنفر کر رہاہے

"حوالہ جات