ابو طالب بن عبد المطلب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا

عبد مَناف بْن عَبْدُ الْمُطلب بن ہاشم، ابوطالب کے نام سے مشہور تھے۔ آپ کا ایک اسمِ گرامی عمران بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے، حضرت علیؑ کے والد، پیغمبر اسلامؐ کے چچا اور مکہ میں قبیلہ بنی ہاشم کے سردار تھے۔ کچھ عرصے کے لیے آپ سقایۃ الحاج کے عہدے پر فائز رہے اور اپنے والد عبد المطلب کی وفات کے بعد حضرت محمدؐ کی سرپرستی قبول کی اور آنحضرت (ص) کی جانب سے نبوت کے اعلان کے بعد ان کی مکمل حمایت کی۔ اور جب تک زندہ رہے مشرکین اور کفار کو جرأت نہ ہوئی کہ حضرت رسولؐ خدا پہ کسی قسم کی سختی کر سکیں۔ آپ کے القاب میں سیدالعرب ، شیخ بطحا اور مومنِ قریش زیادہ مشہور ہیں۔

ابو طالب بن عبد المطلب
(عربی میں: أبو طالب بن عبد المطلب ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
أبو طالب بن عبد المطلب.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 539  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 619 (79–80 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ فاطمہ بنت اسد  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد علی بن ابی طالب[3]،  جعفر ابن ابی طالب،  عقیل ابن ابی طالب،  طالب ابن ابی طالب،  ام ہانی بنت ابی طالب،  جمانہ بنت ابی طالب  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ بنت عمرو  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ تاجر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خاندانترميم

آپ کے والد کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبد المطلب کے واحد سگے بھائی تھے چونکہ دیگر کی والدہ مختلف تھیں۔[4]

قبولیتِ اسلامترميم

ایمانِ ابوطالب پہ مسالکِ اسلام میں اختلاف ہے ۔ اہلسنت حنفی بریلوی اور اہل التشیع ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں جبکہ اہلسنت حنفی دیوبندی اور اہل الحدیث ایمانِ ابوطالب سمیت حضور صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والدین اور دادا کے ایمان کے بھی منکر ہیں ۔ درج ذیل دلائل عقیدۂ منکرینِ ایمانِ ابوطالب کے مطابق ہیں ۔ جبکہ قائلینِ ایمانِ ابوطالب کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آبا و اجداد کامل مومنین تھے۔ اسی کے تحت ذیل میں دونوں نظریات پیش کیے جا رہے ہیں ۔

دلائل منکرین ایمان ابوطالب اوران کا رد

آپ نے اسلام قبول نہی کیا تھا۔ اس پر اختلاف ہے۔ لیکن آپ نے تاحیات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ ان کی بت پرستی کی روایات میں اختلاف ہے لیکن کعبہ میں موجود بُتوں کے وہ ساری زندگی نگران رہے اور مشرکین کے حج میں مشرکین کے طعام اور کعبہ کی دیکھ بھال کا انتظام آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ نے اسلام آنے سے پہلے حضور کا نکاح حضرت خدیجہ ع سے کیا اور ابراہیمی طرز کے مطابق نکاح پڑھا، جو کسی کے ایمان لانے کا ایک اہم ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک کافر سے نکاح پڑھوانا باطل اور ناجائز ہے اور اس سے توہین رسالت ہوتی ہے کہ ایک کافر نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح پڑھے

دلیل۔1۔ سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الوَفَاةُ، دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ : أَيْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ، حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ : عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ، مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ : ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾ (التوبة : 113) وَنَزَلَتْ : ﴿إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ (القصص : 56)

”جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو دیکھا تو فرمایا : اے چچا ! لا اله الا الله کہہ دیں کہ اس کلمے کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : اے ابوطالب ! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہو جائیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنی بات ابوطالب کو پیش کرتے رہے اور بار بار یہ کہتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے اپنی آخری بات یوں کی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے لا اله الا الله کہنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جب تک روکا نہ گیا، اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾ (التوبة : 113) ”نبی اور مؤمنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، اس کے بعد کہ انہیں ان کے جہنمی ہونے کا واضح علم ہو جائے۔“

رد دلیل۔1۔

اس روایت کی سند میں سعید بن مسیب وہ شخص ہے جو امیرالمؤمنین(ع)کی دشمنی کے حوالے سے جانا جاتا تھا اور علی(ع)سے اس کا انحراف واضح ہے چنانچہ کسی کے بارے میں دشمن اور معاند شخص کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

بخاری ہی نے اپنی کتاب میں برائت کے نزول کے بارے میں لکھا ہے: "عن الْبَرَاء رضى الله عنه قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَة"۔

ترجمہ: براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ برائت ہے"۔

بہرصورت تاریخ گواہ ہے کہ ابو طالب(ع) نے بعثت کے دسویں سال مکہ میں وفات پائی ہے اور اس سال کو نبی اکرم(ص) نے ابو طالب(ع) اور سیدہ خدیجۃالکبری(س) کی وفات کی بنا پر عام الحزن (یا صدمے کا سال) کا نام دیا ہے جبکہ سورہ توبہ اور آیت 113 سمیت اس کی تمام آیتیں دس سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور سورہ برائت مشرکین کو پڑھ کر سنانے کے لیے علی(ع)کا مکہ روانہ کرنے کا واقعہ تاریخ کے ماتھے پر جھلک رہا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں قرآن نازل کرتے ہوئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا :

﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (القصص : ٥٦) ”بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے۔“ ( صحیح البخاری : 3884 )

رد دلیل۔2۔

اس آیت کے شان نزول کا ایمان ابوطالب سے کوئی تعلق نہیں تفصیل کے لیے امام فخرالدین رازی کی تفسیر سے رجوع کریں۔

دلیل نمبر 3:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، بیان کرتے ہیں :

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ : ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (28-القصص : ٥٦)

  ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے کہا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ دیں ۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا ۔ انہوں نے جواب دیا : اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے اس بات پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی : ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (28-القصص : ٥٦) ”یقیناً جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ جسے اللہ چاہے ہدیات عطا فرمادیتا ہے ۔“ ( صحیح مسلم : 55/1، ح:25)

رددلیل۔3۔

حضرت ابوھریرہ کا یہ واقع بیان کرنا ہی اس روایت کے ابطال کے لیے کافی و شافی ہے کیونکہ حضرت ابوھریرہ فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور وصال ابوطالب کے وقت ان کی موجودگی ہی بعید ازعقل ہے۔


دلیل نمبر 4 :

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :

مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ : يا رسول الله، هل نفعت أبا طالب بشيء فإنه كان يحوطك ويغضب لك؟ قال: نعم، ھو فی ضحضاح من نار، لولا أنا لكان في الدرك الأسفل من النار

”اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا – وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کےلیے[5]دوسروں سے غصے ہو جایا کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ( میں نے اُنہیں فائُدہ پہنچایا ہے ) وہ اب با لائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہو تے۔“ (صحیح البخاری : 548/1، ح : 3883، صحیح المسلم : 115/1۔ ح : 209)

حا فظ سہیلی رحمہ اللہ (ھ581-508) فرماتے ہیں :

وظاھر الحديث يقتضي أن عبدالمطلب مات علي الشرك

”اس حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات کے متقاضى ہیں کہ عبدالمطلب شرک پر فوت ہوئے تھے۔“ (الروض الانف : 19/4)


حا فظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (733-853ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :

فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك ”یہ صورت حال تو اس شخص کی ہوتی ہےجو کفر پر فوت ہوا ہو۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-“ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 241/7)

رد دلیل۔4۔5

اس روایت سے ایمان ابوطالب ثابت ہوتا ہے اور یہ روایت اوپر دی گئی 3 دلیلوں کو باطل کرتی ہے۔ وہ اس طرح کے خدا کے حضور کسی گناہگار کی سفارش کرنا اور اسے عذاب میں نرمی دلانا یا عذاب سے چھڑانا شفاعت کہلاتا ہے۔ اور اگر ابوطالب نعوذبااللہ مشرک تھے تو مشرک شفاعتِ رسولؐ پا ہی نہیں سکتا ۔ اور روایت چونکہ بتا رہی ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں رسولؐ پاک کی وجہ سے کمی آئی تو ثابت ہوا کہ ابو طالب مسلمان تھے تبھی تو شفاعت ِ رسولؐ انہیں نصیب ہوئی  دلیل نمبر 5 :

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :

أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وذكر عنده عمه فقال : ‏‏‏‏ لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة، ‏‏‏‏ فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه.

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا (ابوطالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شاید کہ ان کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور ان کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صرف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) ان کا دماغ کھولے گا۔“ (صحیح البخاری : 548/1، ح3885، صحیح المسلم : 115/1، ح210)


رد دلیل۔4۔5

اس روایت سے ایمان ابوطالب ثابت ہوتا ہے اور یہ روایت اوپر دی گئی 3 دلیلوں کو باطل کرتی ہے۔ وہ اس طرح کے خدا کے حضور کسی گناہگار کی سفارش کرنا اور اسے عذاب میں نرمی دلانا یا عذاب سے چھڑانا شفاعت کہلاتا ہے۔ اور اگر ابوطالب نعوذبااللہ مشرک تھے تو مشرک شفاعتِ رسولؐ پا ہی نہیں سکتا ۔ اور روایت چونکہ بتا رہی ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں رسولؐ پاک کی وجہ سے کمی آئی تو ثابت ہوا کہ ابو طالب مسلمان تھے تبھی تو شفاعت ِ رسولؐ انہیں نصیب ہوئی نمبر6 :

سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

”جہنمیو ں میں سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھو ل رہا ہو گا۔“ (صحیح المسلم : ح : 515)

رد دلیل۔6۔

اس حدیث یا روایت کو کتب میں حدیث ضحضاح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اولاً: حدیث ضحضاح کے بارے میں تمام منقولہ اقوال کا راوی مغیرہ بن شعبہ ہے جو بنوہاشم کے حق میں ایک بخیل (اور بقولے ظنین اور متہم) شخص ہے کیونکہ ان کے ساتھ اس کی دشمنی مشہور ہے اور وہ ان کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا تھا؛ اور مروی ہے کہ ایک دفعہ اس نے شراب نوشی کی اور جب نشہ چڑھ گیا تو کسی نے پوچھا: بنو ہاشم کی امامت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تو اس نے کہا: خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی ہاشمی کے لیے خیر و خوبی نہیں چاہتا؛ مغیرہ علاوہ ازيں فاسق شخص تھا۔ ابن ابی الحدید کہتے ہیں: محدثین و مفسرین کا کہنا ہے کہ حدیث ضحضاح کو سب نے ایک ہی شخص سے نقل کیا ہے اور وہ شخص مغیرہ بن شعبہ ہے جس کا بغض بنو ہاشم بالخصوص علی علیہ السلام کی نسبت مشہور و معلوم ہے اور اس کا قصہ (قصۂ زنا) اور اس کا فسق ایک غیر مخفی امر ہے۔۔

ثانیاً: فرض کریں کہ اگر ابو طالب(ع) مؤمن اور مسلمان نہ ہوتے تو پھر رسول خدا(ص) کی طرف سے ان کے لیے شفاعت کی امید چہ معنی دارد؟ جب کہ شفاعت مشرک اور کافر کے شامل حال ہوتی ہی نہیں۔

دلیل نمبر 7 :

خلیفہ راشد سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ

”جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جا کر انہیں دفنا دیں۔“ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔“ میں ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔“ (مسند الطيالسي : ص : 19، ح، 120، وسنده‘ حسن متصل )

ایک روایت کے الفاظ ہیں :

إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ : ‏‏‏‏ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے گمراہ چچا فوت ہو گئے ہیں ان کو کون دفنائے گا؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں۔ ( مسند الامام احمد : 97/1، سنن ابي داؤد : 3214، سنن النسائي : 190، 2008، واللفظ لهٗ، وسندهٗ حسن )

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 114/7) اور امام ابنِ جارود رحمہ اللہ علیہم (550ھ) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابوطالب مسلمان نہیں تھے۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ تک نہیں پڑھی۔

رد دلیل۔7۔

درج بالا روایت کی رد کے لیے یہی کافی ہے کہ ان 3 روایات کے راویان میں میں مجہول، کاذب اور نواصب راوی ہیں لہذا ان پہ بحث و جرح کا جواز ہی نہیں ۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو رجال کشی ،رجالِ نجاشی

دلیل نمبر 8:

سیدنا اُسامہ رضی اللہ عنہ کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو:

‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ (صحیح بخاری 1588)

”عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے تھے، لیکن (ابو طالب کے بیٹے) سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہ لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عقیل اور طالب دونوں کا فر تھے۔“ (صحیح البخاری:1588،صحیح المسلم:33/2،ح:1614مختصراً)

یہ روایت بھی بین دلیل ہے کہ ابوطالب کفر کی حا لت میں فوت ہو گئے تھے۔ اسی لیے عقیل اور طالب کے برعکس سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اُن کے وارث نہیں بنے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ”نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا۔“ (صحیح البخاری:551/2،ح:6764، صحیح المسلم:33/2،ح:1614)

امام ابنِ عساکر رحمہ اللہ (499-571ھ) فرماتے ہیں:

وقيل : إنهُ أَسلَمَ وَلَا يَصِحٌ إسلامُهُ

”ایک قول یہ بھی ہے کہ ابوطالب مسلمان ہو گئے تھے، لیکن ان کا مسلمان ہونا ثابت نہیں ہے۔“ (تاریح ابن عساکر:307/66)

ابوطالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا تھا۔ وہ ہقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گو شہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو سکے۔ اس لیے ہم اُن کے لیے اپنے دل میں نرم گو شہ رکھنے کے باوجود دُعا گو نہیں ہو سکتے۔

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (700-774ھ) ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کے بعد لکھتے ہیں:

وَلَوْلَا مَا نَهَانَا اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ، لَاسْتَغْفَرْنَا لابي طَالب وترحمنا عَلَيْهِ ”اگر اللہ تعالیٰ نی ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے لیے استغفار کر تے اور اُن کے لیے رحم کی دعا بھی کرتے!“ (سیرةالرسول ابن کثیر:132/2)

رد دلیل۔8۔

دلیل نمبر 8 میں بیان کردہ روایات چونکہ دلیل 4 اور 5 سے متصادم ہیں لہذا نواصب حضرت ابوطالب علیہ السلام کو نعوذبااللہ کافر قرار دینے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے کے بعد اپنے بیانات کے تضاد کی وجہ سے اپنے عقیدہ میں باطل ہیں

ایمان ابوطالب کے حق میں دلائلترميم

  • لہذا یہ نکاح پڑھانا آپ کے ایمان لانے کی دل۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ِ علمائے شیعہ نے کلی طور پر اور علما اہل سنت نے جزوی طور پر مخالفین کے دلائل کے کافی شافی جوابات دیے ہیں اور ان کو باطل کر دیا ہے اور اس بحث کو ایک انحرافی بحث سمجھتے ہیں اور رسول خدا(ص) اور ائمہ(ع) کی احادیث کی روشنی میں، ابو طالب(ع) کے ایمان پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے؛ تاہم مخالفین کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے ان کے ایمان پر دلائل کافیہ اور براہین قاطعہ قائم کیے ہیں، جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے:

ابو طالب(ع) کی ذاتی روشترميم

ہم نے دیکھا کہ ابو طالب(ع) ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے حبشہ کے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی، وہی جنھوں نے اپنے بیٹے کو دعوت دی اور حکم دیا کہ نماز میں اپنے چچا زاد بھائی(ص) سے جاملیں۔ وہی جنھوں نے اپنی زوجہ مکرمہ اپنی زوجۂ مکرمہ فاطمہ بنت اسد(س) اور اپنی اولاد کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اور اپنے بھائی حمزہ کو دین اسلام میں ثابت قدمی کی تلقین کی اور ان کے اسلام لانے پر سرور و شادمانی کا اظہار کیا اور اپنے بیٹے امیرالمؤمنین(ع)کی حوصلہ افزائی کی۔۔ انھوں نے بیٹے علی(ع)کو رسول اکرم(ص) کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو انہيں منع نہيں کیا بلکہ بیٹے جعفر سے کہا کہ جاکر بائیں جانب سے ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور نماز ادا کریں۔۔

انھوں نے رسول خدا(ص) کا ساتھ دیتے ہوئے تمام مصائب کو جان کی قیمت دے کر خریدا اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ(ص) کی حمایت سے دست بردار نہ ہوئے۔ اور حتی کہ موت کے لمحات میں قریش اور بنو ہاشم کو جو وصیتیں کیں وہ ان کے ایمان کامل کا ثبوت ہیں۔

ابو طالب(ع) کی وصیت قریش کے نام:

إنّ أباطالب لمّا حضرته الوفاة جمیع إلیه وجوه قریش فأوصاهم فقال: یا معشر قریش أنتم صفوة الله من خلقه ـ إلى أن قال: ـ وإنّی أوصیكم بمحمد خیراً فإنه الأمین فی قریش، والصدیق فی العرب، وهو الجامع لكل ما أوصیتكم به، وقد جاءنا بأمر قبله الجنان، وأنكره اللسان مخافة الشنآن، وأیم الله كأنی أنظر الى صعالیك العرب وأهل الأطراف والمستضعفین من الناس قد أجابوا دعوته، وصدقوا كلمته، وعظموا أمره۔۔۔ یا معشر قریش ابن أبیكم، كونوا له ولاة ولحزبه حماة، والله لا یسلك أحد سبیله إلاّ رشد، ولا یأخذ أحد بهدیه إلاّ سعد، ولو كان لنفسی مدة، وفی اجلی تأخیر، لكففت عنه الهزاهز، ولدافعت عنه الدواهی۔ ترجمہ: جب حضرت ابو طالب(ع) کا آخری وقت ہوا اور قریش کے عمائدین ان کے گرد جمع ہوئے تو آپ نے انہیں وصیت کی اور فرمایا: "اے گروہ قریش! تم خلق الله میں خدا کی برگزیدہ قوم ہو میں تمہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے بارے میں نیکی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ قریش کے امین اور عالم عرب میں صادق ترین (سب سے زیادہ سچے اور راست باز) فرد ہیں؛ آپ(ص) ان تمام صفات محمودہ کے حامل ہیں جن کی میں نے تمہیں تلقین کی؛ وہ ہمارے لیے ایسی چیز لائے ہیں جس کو قلب قبول کرتا ہے جبکہ دوسروں کی ملامت کے خوف سے زبان اس کا انکار کرتی ہے۔ خدا کی قسم! گویا می دیکھ رہا ہوں کہ حتی دیہاتوں اور گرد و نواح کے لوگ اور لوگوں کے پسماندہ طبقات آپ(ص) کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپ(ص) کے کلام کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ(ص) کے امر (نبوت و رسالت) کی تکریم و تعظیم کرتے ہیں ۔۔۔ اے گروہ قریش! آپ(ص) تمہارے باپ کے فرزند ہیں لہذا آپ(ص) کے لیے یار و یاور اور آپ(ص) کی جماعت کے لیے حامی و ناصر بنو۔

خدا کی قسم! جو بھی آپ(ص) کے راستے پر گامزن ہوگا وہ ہدایت پائے گا اور جو بھی آپ(ص) کی ہدایت قبول کرے گا، سعادت و خوشبختی پائے گا؛ اور اگر میرے اجل میں تأخیر ہوتی اور میں زندہ رہتا تو آپ (ص) کو درپیش تمام مشکلات [بدستور] جان و دل سے قبول کرتا اور بلاؤں اورمصائب کے سامنے [بدستور] آپ(ص) کا تحفظ کرتا

ابوطالب(ع) نے بنو ہاشم سے وصیت کرتے ہوئے کہا:

يا معشر بني هاشم! أطيعوا محمدا وصدقوه تفلحوا وترشدوا ۔ ترجمہ: اى جماعت بنی ہاشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|محمد(ص)]] کی اطاعت کرو اور ان کی تصدیق کرو تاکہ فلاح اور بہتری اور رشد و ہدایت پاؤ۔

اہل سنت کے مشہور عالم دین ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں پر ابو طالب(ص) کا حق واجب ہے۔ اور متعدد اسناد سے ابن عباس و دیگر سے روایت کرتے ہیں کہ "ابوطالب(ع)" دنیا سے رخصت نہیں ہوئے حتی کہ انھوں نے شہادتین زبان پر جاری کر دیں اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں: اگر ابو طالب(ع) نے ہوتے تو اسلام کا نام و نشان نہ ہوتا اور مزید کہتے ہیں کہ اگر ابو طالب(ع) اپنا ایمان آشکار کرتے تو قریش کے ہاں اپنی عزت اور سماجی حیثیت کھو بیٹھتے اور قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے اسلام کا دفاع و تحفظ کرنے کے قابل نہ رہتے۔

اب یہ سوال باقی ہے کہ جو مسلمان اور مؤمن نہ ہو اور جو نمازگزار نہ ہو وہ کیونکر کسی کو اسلام و ایمان اور نماز کی دعوت دے سکتا ہے؟! اور جو رسول خدا(ص)کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کیوں قریش اور بنو ہاشم کو دعوت ایمان دے گا؟!

ابوطالب بن عبد المطلب کے اشعارترميم

ابوطالب شاعر تھے اور ان کے بے شمار اشعار تاریخ میں ملتے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس کا ابن کثیر نے تذکرہ و تعریف کی ہے۔ یہ سو سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے اور تمام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح و ثنا میں ہے۔ ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا سچا جانثار ہوں۔ اور انہیں اللہ کا سچا رسول مانتا ہوں۔ خدا نے انہیں دنیا کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ان کا معبود ایسا ہے جو ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ممتاز ہے کہ ہر بلندی اس کے آگے پست ہے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے ہم نے اپنے سینوں کو سپر بنا لیا ہے۔ خدا اس کو اپنی حمایت و حفاظت میں رکھے اور اس کے نہ مٹنے والے دین کو دنیا پر غالب کر دے۔

تاریخ ابوالفداء میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ ابوالفداء کے دیے ہوئے اشعار میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے: بخدا کفارِ قریش اپنی جماعت سمیت تم (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں زمین میں دفن نہ ہوجاؤں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم کو جو خدا کا حکم ہے اس کا بے خوف اعلان کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم نے مجھ کو اللہ کی طرف دعوت دی ہے۔ مجھے تمہاری صداقت و امامت کا محکم یقین ہے اور تمہارا دین تمام مذاہبِ عالم سے بہتر اور ان کے مقابلے میں کامل تر ہے۔[6]سیرت ابن ہشام میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں کچھ شعر ایسے ہیں جس میں حضرت ابوطالب نے ابولہب کو متنبہ کیا ہے کہ اسے عرب کے میلوں اور محفلوں میں برا کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اشعار سیرت ابن ہشام نے نقل کیے ہیں۔[4]

وفاتترميم

آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال خدیجہ بنت خویلد کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی "دکھ کا سال" قرار دیا۔

اولادترميم

ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں سب سے بڑے بیٹے کا نام طالب ابن ابی طالب تھا۔ باقی بیٹوں میں جعفر الطیار، عقیل ابن ابی طالب اور علی ابن ابی طالب شامل تھے اور تین بیٹیاں ام طالب بنت ابی طالب، ام ہانی بنت ابی طالب اور جمانہ بنت ابی طالب۔

طالب بن ابی طالبترميم

ان کے بڑے بیٹے طالب کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ملتیں۔ کچھ روایات کے مطابق ان کی وفات شرک کی حالت میں جنگِ بدر میں ہوئی۔ ”عباس بن عبد المطلب‘ نوفل بن حارث‘ طالب بن ابی طالب‘ عقیل بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ (بدر) روانہ ہو گئے“۔[7][8]
تاریخ خمیس میں علامہ دیار بکری نے لکھا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے زبردستی طالب کو جنگ کے لیے گھسیٹا جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔۔[9] علامہ مسعودی نے لکھا ہے کہ کفارِ قریش نے طالب کو زبردستی جنگ کے میدان کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران میں سفر غائب ہو گئے پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی مگر ان کے اس موقع پر اشعار علامہ مسعودی نے نقل کیے ہیں جن کا ترجمہ ہے : اے پروردگار یہ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ تو ان کو شکست دے اور اس درجہ کمزور کر دے کہ یہ خود لوٹ لیے جائیں اور کسی کو لوٹ نہ سکیں۔[10]

عقیل ابن ابی طالبترميم

آپ کربلا کے واقعے سے پہلے کوفہ میں شہید ہونے والے حضرت مسلم ابن عقیل کے والد تھے۔ عقیل بن ابی طالب (عربی زبان: عقيل بن أبي طالب) 590 میں پیدا ہوئے۔ عقیل ابن ابی طالب علی کے بھائی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ عقیل ابو طالب کے چار بیٹوں میں سے دوسرے بیٹے ہیں۔ عقیل کی کنیہ ابو عقیل ہے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ پیدائش 590ء ملتا ہے۔ غزوہ موتہ میں شرکت فرمائی جس کے بعد نابینا ہو گئے۔ 96 سال کی عمر پائی۔ آپ کے کئی بیٹے تھے جن میں سے حضرت مسلم ابن عقیل سفیرِ حسین کے نام سے مشہور ہوئے اور کربلا کے واقعہ سے کچھ عرصہ قبل انہیں یزید کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے قتل کر دیا۔ آپ نے 96 سال کی عمر میں وفات پائی۔

جعفر ابن ابی طالب (جعفر طیار)ترميم

آپ صحابیٔ رسول تھے اور ایک حدیث کے مطابق انہیں جنت میں پر ملیں گے کیونکہ ان کے ہاتھ ایک جنگ میں کاٹے گئے تھے اسی لیے آپ جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔

علی ابن ابی طالبترميم

علی ابن ابی طالب اولین مسلمانوں میں شامل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داماد، دینی بھائی اور خلیفہ تھے۔ اہل سنت و اہل حدیث کے مطابق چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے مطابق پہلے امام تھے۔ تمام غزوات میں حضرت علی نے سب سے زیادہ کفار و مشرکین کو تہ تیغ کیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/123907519 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. گرین انسائکلوپیڈیا کیٹلینا آئی ڈی: https://www.enciclopedia.cat/EC-GEC-0000398.xml — بنام: Abū Ṭālib — عنوان : Gran Enciclopèdia Catalana
  3. عنوان : Али ибн Абу Талиб
  4. ^ ا ب سیرت ابن ہشام[مکمل حوالہ درکار]
  5. اس جملے کو اس کے ذرایع سے دوبارہ دیکھیں۔ اس میں گرائمر کی غلطی ہے۔ اصل جملے میں [ لیے] کا لفظ نہیں تھا۔
  6. تاریخ ابوالفداء جلد اول
  7. تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی، الانفال، 5
  8. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی، الانفال، 7
  9. تاریخ خمیس از علامہ دیار بکری
  10. مروج الذہب از علامہ مسعودی بر حاشیہ کامل ابن اثیر جلد 5 صفحہ 176