مرکزی مینیو کھولیں

پاک بھارت جنگ 1965ء

بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 17 روزہ اِس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔

25 اگست 1965ء کو 5,000 سے 7,000(پاکستانی دعوے) یا30،000 سے 000، 40 (بھارتی دعوی) پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا، بھارتی افواج کو بتایا گیا 15 اگست کو سرحد عبور کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر، بھارتی فوج کو کافی کامیابی ملی، توپ خانہ کے ذریعے کی گئی گولہ باری سے بھارت نے تین اہم پہاڑی مقامات پر قبضہ کر لیا۔ اگست کے آخر تک، البتہ فریقین کی ایک جیسی پیش رفت رہی۔ پاکستان نے تتوال، پونچھ اور اوڑی کے علاقوں میں پیش رفت کی جبکہ بھارت نے حاجی پیر پاس میں پاکستانی کشمیر میں 8 کلو میٹر تک قبضہ کر لیا۔ 1ستمبر 1965ء کو، پاکستان نے ایک جوابی حملے کا آغاز کیا، جسے "آپریش گرینڈ سلام" کا نام دیا گیا۔ جس کا مقصد جموں کے اہم شہر اکھنور پر قبضہ کرنا تھا، جہاں سے بھارتی فوجیوں تک رسد کا راستہ اور مواصلاتی سلسلہ کاٹ دیا جاتا۔ ایوب خان نے حساب لگایا کہ، ہندو صحیح وقت اور جگہ پر کھڑے رہنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔


پاک بھارت جنگ 1971ء

یہ جنگ دسمبر 1971ء میں لڑی گئی۔ حکومت پاکستان کے متنازع اقدامات کے باعث بنگالی علیحدگی پسندوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے مشرقی حصے میں علیحدگی کی تحریک "مکتی باہنی" شروع کی جو بعد میں ایک تشّدد پسند گوریلہ فورس میں تبدیل ہو گئی۔ بھارت نے اِس سنہری موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ پاکستان کی اندرونی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھایا اور مکتی باہنی کی کھل کر سیاسی و فوجی حمایت شروع کی اور اِسی دوران بھارتی حکومت نے مشرقی پاکستان کے دفاعی نظام کا بغور معائنہ کیا۔ اِس وقت بھارتی فوج کو پاکستانی فوج کے مقابلے میں کئی آسانیاں دستیاب تھیں جن میں زیادہ تعداد، زیادہ اسلحہ وغیرہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے، مغربی پاکستان سے بُرے تعلقات (جو مشرقی پاکستان میں بھارت کی بلا وجہ مداخلت کے باعث تھے) بھی شامل تھے۔ اِس کے علاوہ پاکستانی فوج کو مشرقی پاکستان (جو اب پاکستان ہے ) سے مغربی پاکستان( بنگلہ دیش) تک جانے کے لیے بہت لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور پاکستان کے پاس ڈھاکہ کے قریب موجود صرف ایک ائیر فیلڈ موجود تھا، جس کے ذریعے پاکستان کے 14 سیبر جہاز لڑے۔ جبکہ بھارت کے پاس 5 ائیر فیلڈ موجود تھے جن کے ذریعے بھارت نے اپنے 11 لڑاکا طیارے جنگ میں اُتارے جن میں 4 ہنٹر ایک SU-7اور 3 عدد Gnat اور 3 عدد MIG-21 طیارے شامل تھے۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان مشرقی پاکستان کے بد دل ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔ مشرقی پاکستان کی افواج بھارت کے ساتھ اتحاد کرنا چاہ رہے تھے اِس لیے انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ جس کی وجہ سے بھارت نے 90،000 پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا لیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے اختتام پر نوّے ہزار پاکستانی فوجی ھتیار ڈال کر بھارتی قید میں جاچکے تھے اور  اُن کی زندگی کے لیے امریکا اور چین نے پاکستان کو جنگ بندی کے لیے کہا۔ جب پاکستان نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تو پاکستان کے فوجی آفسر سے ایک امریکی ساختہ دستاویز پر دستخط کروائے گئے جس کو بنیاد بنا کر بھارت نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دستخط کر کے اپنی ہار تسلیم کر لی۔ حالانکہ پاکستان کے جنگ بندی پر عمل کرنے کی وجہ سے پاکستانی علاقوں کو واپس کر دیا گیا تھا، لیکن مشرقی پاکستان نے واپسی کی بجائے ایک نئے ملک کے طور پر آزاد ہونے کی ٹھان لی ۔  اور اِس طرح مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے نمودار ہوچکا تھا اور دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو حصوّں میں تقسیم ہو گئی۔


کارگل جنگ (پاک بھارت جنگ) 1999ء

کارگل جنگ کنٹرول لائن پر ہونے والی ایک محدود جنگ تھی جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1999ء میں لڑی گئی۔ اِس جنگ میں واضح کامیابی کسی ملک کو نہ مِل سکی۔ لیکن پاکستانی فوج نے بھارت کے تین لڑاکا جہاز مار گرائے۔ اِس کے علاوہ بھارتی فوج کارگل سیکٹر میں توازن کھو بیٹھی اور 700 سے زائد فوجی ہلاک کر دیے۔ اِس جنگ میں بھارت کو بُرا جھٹکا لگا لیکن بعد میں دونوں فریقین نے جنگ بندی کا علان کیا۔