لَدّاخ بھارت کا ایک یونین علاقہ ہے۔ یہ شمال میں قراقرم اور جنوب میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں ہے۔ یہ بھارت میں سب سے کم آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔

لداخ
لداخ
Tanglanglapass.jpg
 

Ladakh locator map.svg
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت لیہہ  ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 34°08′36″N 77°31′06″E / 34.143333°N 77.518333°E / 34.143333; 77.518333  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[2]
رقبہ 59196 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعلىٰ بلندی 7,742
ادنىٰ بلندی 2550
آبادی
کل آبادی 274289 (2011)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+05:30  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گاڑی نمبر پلیٹ LA[3]
آیزو 3166-2 IN-LA  ویکی ڈیٹا پر (P300) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 1265343  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

لداخ اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث مشہور ہے۔ علاقے پر تبتی ثقافت کی گہری چھاپ ہے اور اسے "تبت صغیر" (Little Tibet) بھی کہا جاتا ہے۔ لداخ کے دو بڑے قصبے لیہہ اور کارگل ہیں۔ لیہہ کی اکثریت بدھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ کارگل کی آبادی شیعہ مسلمان ہے۔ یہاں کے مکینوں نے حال ہی میں لداخ کو مسلم اکثریتی ریاست کشمیر سے علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ علاقہ کیونکہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازع کا بنیادی سبب ہے، اس لیے عالمی سطح پر اسے متنازع علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

تاریخی لحاظ سے یہ علاقہ بلتستان، زانسکر، لاہول سپتی نوبرا وادی اور اکسیئ چن پر مشتمل تھا۔ موجودہ لداخ کی سرحدیں مشرق میں چین کے علاقے تبت، جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں جموں اور شمال میں چین سے اور جنوب مغرب میں پاکستان سے ملتی ہیں۔

1960 میں چینی اہلکاروں نے علاقے کی تاریخی تجارتی راستہ جو مشہور ریشم راستے کا حصہ تھا کو بند کر دیا تھا جس سے پہلے یہ علاقہ وسط ایشیا کے قدیم تجارتی مقامات کو جوڑتا تھا۔ 1970 کے دہائیوں میں بھارتی حکومت نے علاقے کو سیاحت کو کامیابی کے ساتھ فروغ دیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ لداخ في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2020ء. 
  2.     "صفحہ لداخ في خريطة الشارع المفتوحة". OpenStreetMap. اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2020ء. 
  3. http://egazette.nic.in/WriteReadData/2019/214357.pdf
  4. http://egazette.nic.in/WriteReadData/2019/210412.pdf
  5. "Ladakh Gets Civil Secretariat". 17 اکتوبر 2019. 
  6. Excelsior، Daily (12 نومبر 2019). "LG, UT Hqrs, Head of Police to have Sectts at both Leh, Kargil: Mathur". اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2019. 
  7. "MHA.nic.in". MHA.nic.in. 8 دسمبر 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 جون 2012. 
  8. "Saltoro Kangri, India/Pakistan". peakbagger.com. اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2019. 

بیرونی روابطترميم