چندر بنسی: جیمز ٹاڈ لکھتا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم آباد تھی۔ ان کا مذہب ایک تھا، ان کی زبان ایک تھی اور یہ یادو یا جادو تھے۔ ان کی اصل اندوسیتھک ہے اور قدیم زمانے میں یہ برصغیر پر حملہ آور ہوئے تھے۔[1]رگ وید میں یادو قبیلے کا ذکر آیا ہے۔ جس نے بھارت قبیلے اور اس کے حلیف ستجنی قبیلے کے خلاف ایک اتحاد بنایا تھا اور اس کے خلاف جنگ کی تھی۔ اگرچہ یادو قبیلے کو شکست ہوئی مگر یہ افغانستان سے لے کر گنگا کے طاس تک پھیل گئے۔[2] ابو الغازی لکھتا ہے کہ تاتاریوں کی روایت ہے جس کے مطابق اغوز کے بڑے لڑکے کا نام کین یعنی سورج تھا۔ دوسرے لڑکے کا نام آیو یعنی چاند تھا۔ آیو کا ایک لڑکا جلدس تھا۔ تاتاریوں کا دعویٰ ہے وہ آیو یعنی چاند کی نسل سے ہیں۔ جبکہ پرانوں میں آیا ہے کہ کہ اکشو کی لڑکی ایلا نے بدھ دیوتا جو چندر یعنی چاند کا بیٹا تھا سے شادی کی تھی اور آیو اسی کی نسل سے تھا جس کا بیٹا یادو تھا۔ جس کو جادو بھی کہا جاتا ہے اور ہری کشن اسی آیو کی نسل سے تھا۔ اس لیے یہ اقوام یادو یا چندر بنسی کہلاتی ہیں۔[3]

اقوام قندر سیتھک میں قوم جادو نہایت مشہور تھی۔ جو بحیرہ خز سے گنگا کے کنارے تک پھیلی ہوئی تھی۔ ہری کرشن جو چھپن چندر بنسی اقوام کا مورث اعلیٰ ہے۔ وہ قوم جادو کا بڑا سردار تھا۔ جس کو اس کی وفات کے بعد وشنو کے اوتاروں میں شامل کر لیا گیا۔ ورنہ کرشن سے پہلے بدھ دیوتا جو ان کا آبا اجداد میں سے تھا کی پوجا کی جاتی تھی اور اس قوم کا سب سے بڑا دیوتا جادوناتھ تھا۔ جس کے نام سے جالندر شہر کا نام رکھا گیا۔ یہاں جادو ناتھ کا مندر تھا۔ اس کا سورت میں بھی مندر ہے اور متھرا میں پہلے اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ محمود غزنوی نے اپنے حملے میں اس مندر کو تباہ برباد کر دیا تھا۔ سکندر نے جس وقت برصغیر پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت جادو یمنا (جمنا) کی وادی میں حکمران تھے اور ان کے دارلحکومت کا نام پراگ (موجودہ الہ آباد) تھا۔[4]

کرشن سام یعنی شاہ سیاہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس کی آٹھ رانیوں میں سے ایک کا نام جمبوتی تھا اور اس کے بڑے لڑکے کا نام سامب تھا۔ جاریجاہ قبائل اس کی نسل سے ہیں اور اسی کی نسبت سے ساما اور اور جام کہلاتے ہیں۔ اس کو دریائے سندھ کے اطرف کی حکومت ملی تھی اور سامبس جن کے دارلحکومت کا نام سامانگری تھا، جسے یونانی منارگاہ لکھتے ہیں۔ انہوں نے سکندر کا مقابلہ کیا تھا۔ زمانہ حال کے جایجاہ قبائل اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی نسبت جام اور اپنی اصلیت جمشید سے بتا نے لگے ہیں۔[5]

بھٹی جو چندر بنسی ہیں اور ان کی روایات کے مطابق وہ پہلی غزنی و زابلستان میں حکومت کرتے تھے اور وہ وہیں سے آئے ہیں اور ان کے پس مند گان نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ جنجوعہ، گہکر اور دوسرے قبائل کے بارے میں بابر بھی ذکر کرتا ہے۔[6] بابر لکھتا ہے کہ ہم جس وقت جہاں پہنچے وہاں ہمارے پیچھے ایک پہاڑ واقع تھا۔ اس کا نام ظفر نامہ میں کوہ جوہ تحریر ہوا ہے۔ اس پہاڑ میں دو قومیں آباد ہیں، ایک جودہ دوسری جنجوعہ۔ دونوں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ آدھے پہاڑ کی مالک جودہ اور آدھے پہاڑ کی مالک جنجوعہ ہے۔[7] یہ دونوں کلمے جادو کی تخریب ہیں۔ تاریخ بھٹی میں ہے کہ جد اور جج دونوں قوموں کے مورث اعلیٰ تھے۔ جو بالترتیب راجا اور راجکمار تھے۔ اور غالباً ان ہی اقوام کے مورث اعلیٰ ہیں۔[8] ابو القاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ ان قوموں میں مسلمان ہونے سے پہلے رواج تھا، کہ جب لڑکی جوان ہو جاتی تھی تو اس کا باپ بھائی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر بازار میں لے جاتا اور رہا چلتے لوگوں کو لڑکی کی خریداری کے لیے بلاتا۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی لڑکی کو پسند کرلیتا تو لڑکی اس کے حوالے کردی جاتی، ورنہ اس بے زبان عورت اسی وقت موت کے گھاٹ اتار دی جاتی تھی اور یہ دستور بھی تھا کہ ایک عورت کے کئی کئی شوہر ہوتے تھے۔ جو شوہر عورت کے پاس آتا تھا وہ باہر نشان لگا دیتا تھا کہ دوسرے شوہروں کو عورت کے پاس اس کی موجودگی کا علم رہے۔ ایسے میں اگر کوئی عورت کے پاس آتا تو نشان دیکھ کر اندازہ کرلیتا کہ عورت تنہا نہیں ہے۔[9] یادو اقوام جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد تھیں، اسلام قبول کرنے کے بعد یہود سے اپنی نسبت کرنے لگیں۔ یہ گمان انہیں یادو کی نسبت سے پیدا ہوا ہے۔ بلاشبہ ان کی اصلیت اندوسیتھک ہے اور ان کی رسومات اس کی تائید کرتی ہیں۔ جس طرح یادو سے یہود میں بدل گئے، اس طرح پٹھانوں کا ایک قبیلہ یوسف زئی کی اصل بھی یادو ہے۔ اس علاقہ کا ایک قبیلہ جدون ہے جو جادو کی تخریب ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجھستان جلد دوم، 249
  2. ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 230
  3. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستھان جلد اول، 70۔ 71، 574۔ 576
  4. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستھان جلد اول، 97، 574
  5. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستھان جلد اول، 98 جلد دوم، 252۔ 253
  6. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد دوم، 259۔ 272
  7. ظہیر الدین بار تزک بابری۔ 151
  8. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد دوم، 272
  9. ابو القاسم فرشتہ۔ تاریخ فرشتہ، جلد اول، 228