انگریزی نام۔Doris Lessing
2007ء کی ادب کی نوبل انعام یافتہ ادیبہ ۔1919ء کو ایران میں پیدا ہوئیں۔ زندگی کا کچھ حصہ انھوں نے افریقا میں گزارالیکن با لآخر 1949ء میں انھوں نے برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

ڈورس لیسنگ
(انگریزی میں: Doris May Lessing ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Doris Lessing 3.jpg
 
،  ویکی ڈیٹا پر (P18) کی خاصیت میں تبدیلی کریں 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Doris May Tayler ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 22 اکتوبر 1919[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کرمانشاہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 نومبر 2013 (94 سال)[8][1][2][3][4][9][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سکتہ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (–12 اپریل 1927)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت رائل سوسائٹی آف لٹریچر  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ،  شاعرہ،  ناول نگار،  ڈراما نگار،  آپ بیتی نگار،  منظر نویس،  مضمون نگار،  سائنس فکشن مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[10]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری،  مضمون  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
نوبل انعام برائے ادب  (2007)[11][12]
کیٹالونیا بین الاقوامی انعام (1999)[13]
فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Doris May Lessing signature.svg
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

گذشتہ ایک صدی سے زیادہ کے عرصے میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی وہ صرف گیارہویں خاتون ہیں۔ ان کی معروف کتابوں میں’دی گولڈن نوٹ بک‘، ’میموائرز آف اے سروائیور‘ اور ’دی سمر بیفور دی ڈارک‘ شامل ہیں۔

انیس سو باسٹھ میں جب’دی گولڈن نوٹ بک‘ منظرِعام پر آئی تو تحریکِ نسواں کے حامیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا لیکن خود مصنفہ نے کبھی نسوانی تحریک کے لیے کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔

گذشتہ تیس برس کے دوران میں انھیں تین بار ُبکرپرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا لیکن یہ انعام ان کے مقدر میں نہ تھا۔

بیرونی روابطترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/118572113  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11912701t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Doris-Lessing — بنام: Doris Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cz35ht — بنام: Doris Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب Internet Speculative Fiction Database author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?831 — بنام: Doris Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=153946715 — بنام: Doris May Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/1517879 — بنام: Doris Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. Doris Lessing dies aged 94
  9. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/doris-lessing — بنام: Doris Lessing — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  10. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11912701t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  11. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/literature/laureates/2007/lessing-facts.html
  12. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/
  13. http://web.gencat.cat/ca/generalitat/premis/pic/