مرکزی مینیو کھولیں
کورولینکو
Vladimir Korolenko bw.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 جولا‎ئی 1853  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زحیتومیر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 دسمبر 1921 (68 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پولتاوا  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن پولتاوا  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Russia.svg سلطنت روس
Flag of the Ukrainian Soviet Socialist Republic (1919-1929).svg یوکرینی سوویت اشتراکی جمہوریہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن روس کی اکادمی برائے سائنس  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف[4]، آپ بیتی نگار، ادبی تنقید نگار، صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان روسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Vladimir Korolenko Signature.png 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ولادیمیرکورولینکو (یوکرینی: Володимир Галактионович Короленко، Volodymyr Halaktyonovych Korolenko; روسی: Влади́мир Галактио́нович Короле́нко) (پیدائش: 27 جولائی 1853ء - وفات: 25 دسمبر 1921ء) یوکرین کے افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن تھے۔

حالات زندگی و تخلیقی دورترميم

کورولینکو 27 جولائی 1853ء کو ولہینین گورنریٹ، یوکرین، روسی سلطنت میں پیدا ہوئے[5]۔

گوگول کی طرح کورولینکو کی تعلیم بھی روس میں ہوئی اور اس کی زبان بہت شستہ اور فصیح ہے۔ اپنے سیاسی خیالات کی بنا پر کورولینکو "سینٹ پیٹرز برگ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ" اور پھر ماسکو کالج برائے زراعت و جنگل بانی سے نکالا گیا اور 1879ء میں ملک بدر کرکے سائبیریا بھیج دیا گیا۔ پانچ سال کے بعد انھیں روس واپس آنے کی اجازت ملی اور اسی وقت اس کی پہلی قابلِ قدر تصنیف ایک طویل افسانہ جس کا عنوان "ماکار کا خواب" تھا، شائع ہوا۔ دس برس تک کورولینکو افسانہ نویسی میں مشغول رہا اور اس نے خاصی مقبولیت اور شہرت حاصل کرلی، مگر پھر وہ انشا پردازی ترک کرکے پولیس اور نظام عدالت کی اصلاح کی فکر میں پڑ گیا اور آخر عمر تک بس ایک ناول اور لکھ سکا جو اس کی آپ بیتی ہے۔ کورولینکو بولشویک پارٹی کا ہم خیال نہیں تھا مگر اس نے بولشویکوں کی عملی مخالفت بھی نہیں کی۔ کورولینکو سیاسی معاملات میں بہت دلچسپی لیتا تھا اور اس کا میلان انتہا پسندی کی طرف تھا، لیکن اس کے افسانوں مں اس کے سیاسی خیالات کا عکس بہت کم نظر آتا ہے۔ اس کا ٔفلسفۂ حیات ترگنیف کے عقائد سے بہت ملتا جلتا ہے اور ترگنیف کی طرح وہ بھی چاہتا ہے کہ انسانی زندگی اور اس کے قدرتی ماحول کو ایک شعر کے دو مصرعے بنا دے۔ اس کا یہ رنگ بہت پسند کیا گیا، اس وجہ سے جس زمانے میں کورولینکو نے ادب کے میدان میں قدم رکھا اس وقت ترگنیف کا دوبارہ چرچا ہو رہا تھا۔ لیکن کورولینکو کو محض ایک مقلد کی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے بیان شاعرانہ انداز کے ساتھ ایک ظرافت پائی جاتی ہے جو ترگنیف کی تصانیف میں نہیں ملتی اور وہ اس حزن سے بھی ناآشنا معلوم ہوتا ہے جو ترگنیف کے تخیل پر چھایا ہوا تھا۔ دراصل کورولینکو اپنے یوکراینی پیش رو گوگول سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، اگرچہ اسے گوگول کا جوش، جولانیت اور تخیل کی فراوانی نصیب نہیں ہوئی۔ مگر دوسری طرف کورولینکو کی ظرافت مردم بیزاری کے دھبے سے بالکل پاک ہے اور اس کو انسان کی خلقی نیکی کا اتنا گہرا اور سچا اعتقاد ہے کہ اس کے افسانے پڑھنے والے کو مایوس یا مغموم نہیں کرتے اور اس اعتبار سے وہ روسی انشا پردازوں میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔[6]

"ماکار کا خواب" میں کورولینکو نے شمال مشرقی سائبیریا کے مناظر کی کیفیات بیان کی ہیں۔ افسانے کا ہیرو اس علاقے کی ایک نیم وحشی قوم "یاقوت" کا ایک آدمی ہے۔ کورولینکو نے اس کی طبعی خودغرضی کو واضح کیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ دکھایا ہے کہ اس خود غرضی کی تنگ و تاریک فضا میں انسانیت اور اخلاقی بے غرضی کا چراغ بھی ٹمٹما رہا ہے۔ "بری صحبت" میں مناظرِ قدرت کا عکس اتارنے میں کمال دکھایا گیا ہے، مگر اس کے پلاٹ اور کرداروں میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ "رات"، "یومِ جزا" اور "بے زبان" کورولینکو کی ظرافت کے بہترین نمونے ہیں۔ "رات" میں بچوں کی ایک شبانہ مجلس کی کارروائی بیان کی گئی ہے، جس میں وہ بیٹھ کر اس اہم مسئلے پر رائے زنی کرتے ہیں کہ بچے کیسے بنائے جاتے ہیں۔ "یومِ جزا" ایک مسیحی کی سرگزشت ہے جسے شیطان نے ایک سودخوار یہودی کے شبہ میں جہنم پہنچا دیا، کیوں کہ مسیحی میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو سود خوار یہودی کو واصل جہنم کنے کے لیے کافی سمجھی گئی تھیں۔ "بے زبان" تین یوکرینی مزدوروں کا قصہ ہے جو کسبِ معاش کے لیے امریکا گئے، انھیں اپنی زبان کے سوا اور کوئی بولی آتی نہیں تھی اور اس سبب سے نہایت ہی مضحکہ خیز وارداتیں پیش آئیں۔ کورولینکو کی بہترین تصنیف اس کا آخری ناول ہے جس کا عنوان "میرے زمانے کے ایک صاحب کی سوانح عمری" ہے۔ اس میں اس کے سارے کمالات، مناظرِ قدرت کی مصوری، ظرافت، انسانیت اور نوعِ انسانی سے عقیدت مندی، سب یک جا ہو گئے ہیں اور اس انشاپردازی کا حسن نکھر آیا ہے۔[7]

کورولینکو روسی سائنس اکادمی کے رکن منتخب کیے گئے لیکن انھوں نے میکسم گورکی کی روسی سائنس اکادمی سے بے دخلی کی وجہ سے چیخوف کے ساتھ احتجاجاً استعفٰی دے دیا۔

تخلیقاتترميم

  • بری صحبت (1885ء)
  • ماکار کا خواب (1885ء)
  • نابینا موسیقار (1886ء)
  • رات
  • یومِ جزا
  • بے زبان (1895ء)
  • میرے زمانے کے ایک صاحب کی سوانح عمری (1922ء)

وفاتترميم

ولادیمیر کورولینکو 25 دسمبر 1921ء کو 68 سال کی عمر میں پولتاوا،یوکرین، سویت یونین وفات پا گئے[5]۔

حوالہ جاتترميم

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Vladimir-Korolenko — بنام: Vladimir Korolenko — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/korolenko-wladimir-galaktionowitsch — بنام: Wladimir Galaktionowitsch Korolenko
  3. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12170470b — بنام: Vladimir Galaktionovič Korolenko — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/kle/ — عنوان : Краткая литературная энциклопедия — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  5. ^ ا ب ولادیمیر کورولینکو، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  6. روسی ادب (دوسرا حصہ)، محمد مجیب، انجمن ترقی اردو پاکستان، 1992ء، ص 300-301
  7. روسی ادب (دوسرا حصہ)، محمد مجیب، انجمن ترقی اردو پاکستان، 1992ء، ص 301-302