مذہب عشق نہال چند لاہوری کی تصنیف کردہ ایک نثری داستان ہے اور یہ تاج الملوک اور بکاولی کی داستانوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب اردو ادبیات عالیہ کی اہم داستانوں میں سے ایک ہے۔ اس کی اساس شیخ عزت اللہ بنگالی کا فارسی قصہ ہے۔ مذہب عشق کی تکمیل 1803ء مطابق 1217 ہجری کو ہوئی اور 1804ء میں پہلا ایڈیشن شائع ہوا۔ نہال چند نے فارسی سے اس کا ترجمہ ڈاکٹر گلکرسٹ کی درخواست پر کیا تھا جو اس کی مقبولیت کی اہم دلیل ہے۔

تاریخی پس منظرترميم

اردو میں قصہ تاج الملوک و گل بکاؤلی کو کئی مصنفین نے نظم اور نثر میں لکھا ہے جن میں دیا شنکر نسیم کا شاہکار گلزار نسیم بہت مشہور ہوئی۔ لیکن یہ امر مختلف فیہ ہے کہ اس قصہ کو سب سے پہلے کس نے لکھا۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ سب سے پہلے اس قصہ کو فارسی میں عزت اللہ بنگالی نے 1124 ہجری میں فارسی نثر میں تخلیق کیا جسے بعد میں 1217 ہجری میں نہال چند لاہوری نے اردو نثر میں منتقل کیا اور مذہب عشق نام دیا۔[1] اور آخر میں دیا شنکر نسیم نے لکھنوی نے 1254 ہجری میں کم و بیش اسی قصہ کو اردو نظم کے قالب میں ڈھالا اور مثنوی کا انداز اختیار کیا اور یہ مثنوی اتنی مقبول ہوئی کہ نہ صرف دیا شنکر نسیم بلکہ اردو مثنوی کی تاریخ میں چند سب سے بہترین مثنویوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یہی نہیں اردو کلاسیکی معیاری ادب میں اس مثنوی کا ایک اہم مقام ہے۔ ان تینوں کے علاوہ بھی دیگر قلم کاروں نے اسی قصہ کو مختلف انداز میں لکھا ہے جن میں ایک کتاب تحفہ مجلس سلاطین (1053) ہے جس میں قصہ گل بکاؤلی بیان کیا گیا ہے۔ اور دوسری کتاب دکنی ہے جس کا سن تصنیف 1035 ہجری ہے۔ ان دونوں کتابوں کا تذکرہ شاہان اودھ کے کتب خانوں کی فہرست (مطبوعہ کلکتہ 1854ء) مرتبہ ڈاکٹر اسپرنگر میں موجود ہے۔[2] رام بابو سکسینہ نے اول الذکر کتاب کا نام تحفۃ المجالس بتایا ہے۔[3] ایک اور کتاب جو اپنے زمانہ میں بہت مشہور رہی اور بعد میں اسی طرح معدوم ہو گئی وہ ریحان الدین ریحان لکھنوی کی باغ بہار ہے۔ جسے انہوں نے 1212ہجری میں تنصنیف کیا ہے اور یہ گلزار نسیم سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے۔ اسی طرح ایک اور فارسی مثنوی کا بھی پتہ چلتا ہے جسے رفعت لکھنوی نے منظوم کیا ہے اور گلزار نسیم ان دونوں کتابوں پر بہت حد تک مبنی ہے۔ ریحان الدین ریحان نے گل بکاؤلی کے قصۃ کو نثر سے نظم میں منتقل کیا اور ان کی اس مثنوی میں 4000 سے زائد اشعار ہیں جن میں تسلسل اور ربط کلام بدرجہ اتم موجود ہے۔ [4]

اور یہ کہنا بیجا نا ہو گا کہ مثنوی گلزار نسیم مثنوی باغ و بہار کا نقش ثانی ہے۔[5]

تنازع اولیتترميم

قصہ گل بکاؤلی کو سب سے پہلے کس نے لکھا ہے۔ دیا شنکر نسیم اور ان کے مداح یہ دعوی کرتے ہیں انہوں نے سب سے پہلے اردو نظم میں اس قصہ کو تحریر کیا ہے مگر یہ بات کسی حد تک درست نہیں ہے کیوں کہ ان سے قبل ریحان الدین ریحان اردو نظم میں اس قصہ کو قلم بند کر چکے تھے۔ چکبست نے اپنے مضمون میں ثابت کیا ہے کہ گلزار نسیم 1254 ہجری میں لکھی گئی ہے اور باغ و بہار 1211 ہجری میں لکھی جا چکی تھی یعنی پورے 44 برس بعد اور دونوں میں بلا کی یکسانیت ہے۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ گلزار نسیم گل بکاؤلی کی اولین مںظوم داستان نہیں ہے بل کہ گلزار نسیم میں کافی کچھ باغ و بہار سے لیا گیا ہے۔[6] سید ظہور حسن رامپوری نے ماہنامہ معارف اعظم گڑھ نے اگست 1946ء کے شمارہ میں قصہ گل بکاؤلی پر ایک تحقیقی مضمون لکھا اور انہوں نے خصوصی طور پر باغ و بہار مصنفہ ریحان اور منظوم فارسی قصہ از رفعت لکھنوی کو زیر نظر رکھا اور یہ دعوی کیا کہ “ یہ دونوں مثنویاں گلزار نسیم کی اساس ہیں۔[7] انہوں نے لکھا ہے:

ان تینوں کا ایک ہی قصے سے تعلق ہے۔ یہ ایک ہی بحر ہے، اکثر مصرعوں اور اشعار کا لفظ بہ لفظ مثنوی گلزار نسیم میں موجود ہونا خود اس خیال کا بڑا موید ہے کہ نسیم کی نظر سے پہلی یا دوسری یا دونوں مثنویاں ضرور گزری ہیں۔ باغ بہار کا سال تالیف 1211 ہجری ہے۔ رفعت لکھنوی نے اپنی فارسی مثنوی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ افسانہ انہیں نثر میں ملا۔ لیکن اس کے بعض بعض مصرعوں اور شعروں کا ہو بہو ترجمہ گلزار نسیم میں پایا جاتا ہے۔ جس سے اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ رفعت لکھنوی نسیم سے پہلے گزرے ہیں۔[8]

البتہ ڈاکٹر گیان چند جین کے مطابق فارسی مثنوی کے خالق راسخ عظیم آبادی کے شاگرد شیخ فرحت اللہ فرحت عظیم آبادی ہیں۔[9]

گل بکاؤلی کے مختلف نسخےترميم

  1. 1035 ہجری - دکنی نسخہ- ڈاکٹر اسپرنگر نے لکھا ہے کہ یہ نسخہ اودھ کے بارود خانہ میں محفوظ تھا۔[10]
  2. 1053 ہجری- تحفہ مجالس سلاطین (اردو مثنوی) - ڈاکتر اسپرنگرنے فہرست کتب خانہ شاہان اودھ مطبوعہ کلکتہ (1854ء) اور گارسان دی تاسی نے ترجمہ خطبات گارسان دی تاسی مطبوعہ انجمن ترقہ اردو ہند اور رام بابو سکسینہ نے تاریخ ادب اردو میں کیا ہے
  3. 1124 ہجری - فارسی نثر - مصنفہ شیخ عزت اللہ بنگالی
  4. فارسی مثنوی - مصنفہ رفعت لکھنوی[11] یا فرحت عظیم آبادی[12]
  5. 1211 ہجری - مثنوی باغ بہار- اردو نظم - مصنفہ ریحان لکھنوی [13] یہ 4000 سے زائد اشعار پر مشتمل ایک طویل مثنوی ہے۔
  6. 1217 ہجری مطابق 1803ء - مذہب عشق - اردو نثر مصنفہ نہال چند لاہوری۔ یہ شیخ عزت اللہ بنگالی کے فارسی نسخہ کا ترجمہ
  7. 1254 ہجری - مثنوی گلزار نسیم - اردو مثنوی مصنفہ پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی

مذہب عشق کے ایڈیشنترميم

  1. مذہب عشق کی اولین اشاعت 1804ء میں کلکتہ ہوئی اور یہ کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ بہت جلد اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو گیا
  2. دوسرا ایڈیشن میر شبیر علی افسوس کی نظر ثانی کے بعد شائع ہوا۔
  3. تیسرا ایڈیشن 1815ء میں شائع ہوا اور نظر ثانی ودبک نے کی۔
  4. چوتھا ایڈیشن 1827ء میں محمد فیض اور محمد رمضان کا مرتب کردہ نسخہ شائع ہوا
  5. پانچواں ایڈیشن کلکتہ سے ہی 1832ء میں شائع ہوا۔
  6. چھٹا ایڈیشن 1873ء میں ممبئی میں شائع ہوا۔
  7. ساتواں ایڈیشن نعمت اللہ کی زیر نگرانی سحر البیان کے ساتھ ممبئی میں شائع ہوا۔
  8. آٹھواں ایڈیشن مطبع دارالسلام دہلی نے 1846ء میں شائع کیا۔
  9. نواں ایڈیشن مطبع محسنی نے نستعلیق میں لکھنوی میں 1848ء میں شائع کیا
  10. دسواں ایڈیشن ممبئی میں 1850ء میں شائع ہوا
  11. گیارہواں ایڈیشن کانپور میں 1851ء میں شائع ہوا
  12. بارہواں ایڈیشن دہلی سے 1852ء میں شائع ہوا
  13. تیرہواں ایڈیشن مطبع مسیحائی سے 1853ء میں شائع ہوا
  14. چودہواں ایڈیشن کانپور سے 1859ء میں شائع ہوا۔
  15. پندرہواں ایڈیشن 1869ء میں کانپور سے شائع ہوا
  16. سولہواں ایڈیشن دہلی سے 1872ء میں ناگری رسم الخط میں شائع ہوا۔
  17. سترہواں ایڈیشن اسی مطبع سے دہلی سے 1873ء میں تصویری نسخہ شائع ہوا۔
  18. اٹھارہواں ایڈیشن کانپور سے 1875ء
  19. انیسواں ایڈیشن لکھنؤ سے 1875ء میں شائع ہوا، اسی مطبع سے 1877ء میں شائع ہوا
  20. انیسواں ایڈیشن دہلی سے 1877ء میں شائع ہوا
  21. کانپور سے 1877ء میں تصویری نسخہ شائع ہوا۔ اسی مطبع سے دوبارہ 1876ء میں شائع ہوا
  22. دہلی سے 1879ء میں ایک ایڈیشن شائع ہوا۔
  23. مدراس سے 1879ء میں ایک ایڈیشن شائع ہوا۔
  24. دہلی سے 1881ء میں ایک تصویری ایڈیشن شائع ہوا
  25. کانپور سے 1789ء میں ایک ایڈیشن شائع ہوا
  26. الہ آباد سے 1927ء میں ایک ایڈیشن شائع ہوا
  27. مطبع نولکشور نے 38ویں بار اس کتاب کو 1954ء میں شائع کیا ہے۔ نولکشور نے اس کتاب کو کل 38 بار شائع کیا ہے۔

اردو ایڈیشن کے علاوہ انگریزی میں لفٹننٹ آر پی انڈرسن نے دہلی سے 1851ء میں شائع کیا۔ اس سے قبل ٹی پی مینول اس کا انگریزی ترجمہ شائع کر چکے تھے۔ 1835ء میں جنرل ایشیاٹک کی جلد دوم کے 16ویں حصہ کے صفحہ 193 اور 388 میں اس کی تلخیص بیان کی گئی ہے۔ گارسان دی تاسی نے 1835ء میں پیرس میں شائع کیا۔ انہوں نے 1858ء میں پیرس میں پھر سے شائع کیا۔ ہندی زبان میں بیج سنگھ ورما نے 1874ء میں اس کا ترجمہ لکھنؤ سے شائع کیا۔ اردو تھیٹر نے اس داستان سے تین ناٹک بنائے: گل بکاؤلی، سنگین بکاؤلی اور چترا بکاؤلی۔ جن میں چترا بکاؤلی کو خوب شہرت ملی۔

حوالہ جاتترميم

  1. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 1
  2. خطبات گارسان دی تاسی، صفحہ 155
  3. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 2
  4. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 4
  5. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 5
  6. ماہنامہ مخزن، نومبر و دسمبر 1908ء
  7. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 5
  8. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 6
  9. اردو کی نثری داستانیں۔ طبع اول 1954ء۔ صفحہ 162
  10. مقدمہ مذہب عشق، صفحہ 7
  11. معارف اگست 1946ء
  12. اردو کی نثری داستانیں، ڈاکٹر گیان چند جین
  13. مخزن، نومبر و دسمبر 1908ء