1934ء نیپال- بہار زلزلہ 1934ء میں بھارت اور نیپال میں محسوس کیا جانے والا شدید ترین زلزلہ تھا۔ یہ زلزلہ 15 جنوری 1934ء کی دوپہر میں محسوس ہوا۔ چھ ہزار سے ساڑھے دس ہزار افراد کی موت واقع ہوئی۔ بیسویں صدی عیسوی میں نیپال میں آنے والا یہ شدید ترین زلزلہ تھا۔ اِس زلزلہ میں تقریباً دس ہزار سے بارہ ہزار افراد کی اموات ہوئیں۔ بھارت میں اموات کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زائد تھی۔

1934ء نیپال- بہار زلزلہ is located in Nepal
1934ء نیپال- بہار زلزلہ
Kathmandu
Kathmandu
یو ٹی سی وقت??
تاریخ *15 جنوری 1934ء
اصل وقت *8:43:25 متناسق عالمی وقت [1]
شدت8.0 Mw [1]
گہرائی15 کلومیڑ
مرکز26°52′N 86°35′E / 26.86°N 86.59°E / 26.86; 86.59 [1]
متاثرہ علاقےنیپال، بھارت
ز س ز. شدتانتہائی شدید
اموات6,000–10,700 [2]
فرسودہ دستاویز دیکھیے.
موہن داس گاندھی جائے زلزلہ پر - 1934ء

اوقات

ترمیم

یہ زلزلہ 15 جنوری 1934ء کو متناسق عالمی وقت کے مطابق صبح 08:43 پر اور نیپال معیاری وقت کے مطابق دوپہر 02:28 پر محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اِس کی شدت 8.0 تھی۔

مرکز زلزلہ

ترمیم

زلزلہ کا مرکز مشرقی نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ کے جنوب میں 9.5 کلومیٹر دور تھا۔ کھٹمنڈو سے یہ مرکز 320 کلومیٹر دور تھا۔ ایک خبر کے مطابق یہ زلزلہ لہاسا سے ممبئی تک محسوس کیا گیا تھا۔ یہ زلزلہ مرکز سے 650 کلومیٹر دور کولکتہ تک محسوس کیا گیا تھا۔

نقصانات

ترمیم

نیپال کے تین بڑے شہر کھٹمنڈو، بھگتاپور اور پٹن، نیپال تباہ ہوئے۔ اِن تین شہروں میں تقریباً ہر بلند عمارت منہدم ہو گئی۔ کھٹ٘نڈو میں سڑکوں پر تباہ شدہ عمارات کا ملبہ جان بچانے والے اداروں کے لیے تکلیف کا سبب بنتا رہا۔ پشوپتی کا مندر اِس زلزلے میں کسی نقصان کے بغیر باقی بچ گیا۔ سیتا ماڑی اور پٹنہ میں صرف ایک قدیمی قلعہ تباہی سے بچا۔ راج دربھنگا میں عمارات اور مشہور نولکھا محل بھی منہدم ہوئے۔ جھریا میں زلزلے کے باعث بجلی کا نظام تباہ ہوا اور آتشزدگی ہوئی۔ نیپال کا شہر برگنج مکمل تباہ ہوا اور ٹیلی فون کا نظام بھی ختم ہو گیا جس سے نیپال کا رابطہ دوسرے ممالک سے منقطع ہو گیا۔ 10,700 سے 12,000 تک افراد کی اموات ہوئیں اور اِن میں 7,253 افراد صرف بہار (بھارت) میں جاں بحق ہوئے۔[3]

مشہور شخصیات کا دورہ

ترمیم

1934ء میں زلزلے کے کچھ دِن بعد کانگریسی رہنما موہن داس گاندھی نے اِس علاقے کا دورہ کیا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ
  2. Encyclopedia of Disasters: Environmental Catastrophes and Human Tragedies. Greenwood Publishing Group. pp. 337–339