نیپال(نیپالی: नेपाल [neˈpal]) سرکاری نام وفاقی جمہوری جمہوریہ نیپال[9] جنوبی ایشیا کا ایک زمین بند ملک ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ سلسلہ کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے مگر سندھ و گنگ کا میدان کا بھی کچھ حصہ نیپال میں آتا ہے۔ اس کی کل آبادی 26.4 ملین ہے اور [[فہرست ممالک بلحاظ آبادی}بلحاظ آبادی]] یہ دنیا کا 48واں بڑا ملک ہے اور بلحاظ رقبہ یہ دنیا کا 93واں بڑا ملک ہے۔[2][10] اس کی سرحدیں شمال میں چین، جنوب، مشرق اور مغرب میں بھارت ہے۔ بنگلہ دیش یہاں سے محض 27 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ بھوٹان اور نیپال کے بیچ میں بھارت کی ریاست سکم ہے۔ نیپال کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہے۔ یہاں زرخیز میدانی زمین،[11] ، جنگلاتی پہاڑ اور دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑ بھی نیپال میں ہی ہے بشمول سب سے زیادہ بلند پہاڑی چوٹی جسے دنیا ماونٹ ایورسٹ کے نام سے جانتی ہے۔ نیپال کا دارالحکومت کاٹھمنڈو ہے اور یہی ملک کا بڑا شہر بھی ہے۔ نیپال میں کئی نسل کے لوگ رہتے ہیں جبکہ نیپالی زبان یہاں کی سرکاری زبان ہے۔

وفاقی جمہوری جمہوریہ نیپال
Federal Democratic Republic of Nepal

  • सङ्घीय लोकतान्त्रिक गणतन्त्र नेपाल (نیپالی)
  • Sanghiya Loktāntrik Ganatantra Nepāl
Flag of Nepal
Flag
نشان of Nepal
نشان
Motto: जननी जन्मभूमिश्च स्वर्गादपि गरीयसी (سنسکرت)
ماں اور مادر وطن جنت سے بھی بڑے ہوتے ہیں (اردو)
ترانہ: सयौं थुँगा फूलका हामी (نیپالی)
سیکڑوں پھولوں سے بنے ہم (اردو)
Location of Nepal
Location of Nepal
دار الحکومت
and سب سے بڑا شہر
کاٹھمنڈو
27°42′N 85°19′E / 27.700°N 85.317°E / 27.700; 85.317
دفتری زبانیںنیپالی
تسلیم شدہ علاقائی زبانیں
نسلی گروہ
(2011)
مذہب
81.3% ہندو مت
9% بدھ مت
4.4% اسلام
3% Kirant
1.4% مسیحیت
0.4% روحیت
0.5% لادینیت[3][4]
نام آبادینیپالی
حکومتوفاقی جمہوریہ پارلیمانی نظام جمہوریہ
• صدر
بدیا دیوی بھنڈاری
Nanda Kishor Pun
Sher Bahadur Deuba
اولساری دھرتی ماگر
Gopal Parajuli (قائم مقام)
مقننہپارلیمان
اتحاد
25 ستمبر 1768[5]
• ریاست کا اعلان
15 جنوری 2007
• جمہوریہ کا اعلان
28 مئی 2008
رقبہ
• کل
147,181 کلومیٹر2 (56,827 مربع میل) (95th)
• پانی (%)
2.8
آبادی
• 2017 تخمینہ
28,825,709 (48th)
• 2011 مردم شماری
26,494,504[2]
•  کثافت
180/کلو میٹر2 (466.2/مربع میل) (62nd)
جی ڈی پی (پی پی پی)2016 تخمینہ
• کل
$74.020 بلین[6]
• فی کس
$2,573[6]
جی ڈی پی (برائے نام)2016 تخمینہ
• کل
$24.067 بلین[6] ((107th))
• فی کس
$837[6]
جینی (2010)negative increase 32.8[7]
متوسط
ایچ ڈی آئی (2016)Increase2.svg 0.558[8]
متوسط · 144th
کرنسینیپالی روپیہ (NPR)
منطقۂ وقتیو ٹی سیمتناسق عالمی وقت+05:45 (نیپال معیاری وقت)
روشنیروز بچتی وقت لاگو نہیں
ڈرائیونگ سائیڈبائیں
کالنگ کوڈ+977
آیزو 3166 رمزNP
انٹرنیٹ ٹی ایل ڈیNp.
Np.

لفظ نیپالترميم

کہا جاتا ہے کہ نیپال کا لفظ نیوار قوم کے معنی رکھتا ہے، جو انکی زبان نیواری کے لفظ "نیپا" سے نکلا ہےـ نیوار قوم وادی کھٹمنڈو میں پائی جاتی ہے اور نیپا اس قوم کا لقب ہےـ نیپال میں صرف 3 فیصد آبادی نیواری بطور مادری زبان بولتی ہے ـ[12]

نیپال ایک غریب ملکوں میں سے آتا ہے اس کا سبب بہارت کا سیاسی تداخل ہے اس کے اس تداخل کا بھی سبب ہے وہ یہ ہیکہ سب سے پہلے نیپال میں ہندووں کی تعداد بکثرت ہونا اور دوسرا سبب اس کو چین سے خطرہ ہونا۔

نیپال میں اسلامترميم

ملک نیپال میں اسلام تقریباً 600 سال پہلے داخل ہو چکا تھا نیپال میں اسلام تین راستے سے داخل ہوا۔

  1. - جنوبی- شمال ہند سے
  2. -غربی- کشمیر کے راستے سے
  3. - شمالی- تبت کی جانب سے

شاید اسی وجہ سے اس ملک میں تین مختلف ثقافث کے مسلمان ملتے ہیں سب نیپالی مسلمان ہوکر بھی الگ الگ زبان کھانے پہننے کا طریقہ سب الگ ہے سب کا مشغلہ الگ پایا جاتا ہے بسا اوقات یہ فرق تلخی کا سبب بنتا ہے۔ نیپال کی تاریخ کا مطالعہ کر کے اسلام کے بارے میں جاننا تو ممکن نہیں پر تخمینہ ضرور کیا جا سکتا ہے 14ویں صدی م میں اسلام نیپال میں داخل ہوا اس میں تو کوی شک نہیں، اور اس میں بھی شک نہیں کہ صوفیاء کرام کے ہاتھوں پہوںچا اس بات پر دلالت کرتی ہے شاہ غیاث الدین کا مزار شاہی محل کے بالکل سامنے کچھ 100مٹر کے فاصلے پر پایا جانا ہے اور وہیں انہیں کی تاسیس کردہ کشمیری مسجد کا ہونا ہے۔ اسلام اور ہندوستان کا تجارتی رشتہ بہت پرانا ہے اور نیپال اس کا پڑوسی ملک ہونے کے سبب نیپال میں اقلیات مسلمہ ہے 4۔2% بتایا جاتا ہے اس میں سے 90% جنوبی علاقے میں پاے جاتے ہیں اور 5% راجدھانی کٹھمنڈو میں اور باقی پہاڑی علاقے میں رہتے ہیں ان علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے کو کچھ ہی ضلعوں میں پاءے جاتے ہیں ہیسے گورکھا، کاسکی، تنہو، پالپا، اور سیاںجا۔

نیپال میں مسلمان زراعت یا چھوٹی چھوٹی دکانوں سے اپنی روزی روٹی حاصل کرتے ہیں ان کے اقتصادی حالات کمزور ہیں اس کا ایک سبب مسلمانوں پر عالی تعلیم پر اندرونی پابندی اور حکومتی دفاتر میں وظائف نہ ہونا ہے ۔

فہرست متعلقہ مضامین نیپالترميم

فہرست متعلقہ مضامین نیپال

حوالہ جاتترميم

  1. "Nepal". Ethnologue. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2016. all Regional languages are now considered national language of Nepal 
  2. ^ ا ب پ "National Population and Housing Census 2011 (National Report)" (PDF). Central Bureau of Statistics (Nepal). 18 اپریل 2013 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2012. 
  3. 2011 Nepal Census Report آرکائیو شدہ 18 اپریل 2013 بذریعہ وے بیک مشین
  4. Shrestha، Khadga Man (2005). "Religious Syncretism and Context of Buddhism in Modern Nepal". Voice of History 20 (1): 51–60. doi:ڈی او ئي. http://www.nepjol.info/index.php/VOH/article/view/85/78. 
  5. "Nepal5". Royalark.net. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2014. 
  6. ^ ا ب پ ت "Nepal". International Monetary Fund. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2016. 
  7. "Gini Index". World Bank. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 مارچ 2011. 
  8. (PDF). United Nations Development Programme. 2017 http://web.archive.org/web/20181226113106/http://hdr.undp.org/en/sites/default/files/2016_human_development_report.pdf. 26 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 مارچ 2017.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  9. "CIA – The World Factbook". Cia.gov. اخذ شدہ بتاریخ 5 دسمبر 2012. 
  10. "The World Factbook: Rank order population". CIA. اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2014. 
  11. Shaha (1992)، p. 1.
  12. Pach

نیپال نے کسی کی غلامی کی ہے ????

بیرونی روابطترميم

متناسقات: 26°32′N 86°44′E / 26.533°N 86.733°E / 26.533; 86.733