حکم یا اَحکام (حکم کی جمع: اَحکام) فقہ میں ایک اصطلاح ہے۔یہ اصطلاح بیک وقت شریعت، فقہ، فلسفہ اور حکمت میں مستعمل ہے۔

فقہی معنی

ترمیم

لغت میں معنی

ترمیم

حُکم ح، ک اور م سے مصدر ہے جس کے اصل معنی ہیں: روکنا، باز رکھنا، منع کرنا۔ حکم کے معنی یہ ہیں کہ: اپنے سیاق و سباق کے ساتھ ایک لفظ کا وہ حقیقی عمل جو رونما ہوتا ہے یا وہ سیاق و سباق کے ساتھ ایک لفظ کا وہ عمل جو رونما ہوگا۔ اِس کا ترجمہ ’’عمل انجام دیا یا عمل انجام دیا گیا‘‘ سے ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن اِس ترجمہ سے اِس نطام کی نشان دہی نہیں ہوتی جس کا تعلق حکم سے ہے۔ یہ فرق جو بیان کیا گیا، وہ اُن متون میں نظر نہیں آتا جہاں حکم استعمال ہوا ہے، بعض اوقات اِس سے ایک یا دوسرا مفہوم لیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل مثالوں سے اس کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔جیسے کہ:

’’لَولَا‘‘ دو لفظوں ’’لَو‘‘ اور ’’لَا‘‘ کا مرکب ہے۔ یہ مرکب لفظ اپنے اجزا کا حکم کھو کر نیا حکم حاصل کرلیتا ہے، اِس لیے اِسے اُن ادویہ کا مماثل قرار دیا گیا ہے جو مختلف اجزا سے مرکب ہوتی ہے۔ اِن کی ترتیب ہم جزوی کی علاحدہ علاحدہ قوت کو زائل کرکے نئی قوت بخشتی ہے۔ موجودہ مثال سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اِس سے اندرونی عمل مراد ہے، بلکہ اِس کا مطلب خاص کام کی ایسی عملی استعداد ہے جس سے کسی چیز کو وجود میں لایا جا سکتا ہے۔

فلسفہ میں معنی

ترمیم

حکمت و فلسفہ میں حکم کے معنی سے مراد ہے کہ: تصدیق کرنا یا ذہنی فعل۔ اِس کی رُو سے ذہن ایک چیز کا دوسری چیز سے تعلق کا اِقرار یا انکار کرتا ہے اور دونوں کو اقرار یا انکار کی مدد سے متحد کرتا ہے یا جدا جدا کردیتا ہے سید شریف جرجانی (متوفی 1413ء) کے قول کے مطابق دو چیزوں کے مابین ایجابی یا سلبی تعلق کو قائم رکھنے کا نام ہی ’’حکم‘‘ ہے، جسے نسبت حکمیہ یا نسبتِ خبریہ اور کسی نسبت کا وقوع یا عدمِ وقوع بھی کہتے ہیں۔[1][2]

شرعی معنی

ترمیم

لغت کی رُو سے حکم اور حکمت تقریباً ہم معنی ہیں۔ قرآن مجید اور حدیث کے علاوہ یہ دونوں لفظ ضرب الامثال اور شعرو نقد میں کبھی فقہ اور فیصلہ کرنے کے معنی میں اور کبھی علم و دانش اور نفع بخش باتوں کے معنی میں استعمال ہوتے رہے ہیں، مثلاً سورہ مریم میں آیت  يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا     میں اتینہ الحکم یعنی ’’ہم نے اُسے علم دیا‘‘ اور سورہ بقرہ کی آیت   يُؤتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاء وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ     میں ومن یؤت الحکمۃ یعنی ’’جسے علم و دانش عطا ہوئی‘‘ ۔[3]

فقہ میں علمائے اصول فقہ و علم الکلام و العقائد کے نزدیک چونکہ حقیقی حاکم اللہ تعالیٰ وحدہُ لاشریک ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام یا اُن کے خلفا کا ہونا مجازی ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان کی بنیاد پر اِن کی اطاعت فرض کی گئی ہے۔ اِس لیے علمائے اُصول کے نزدیک حکم سے مراد اللہ تعالیٰ کا قدیم و اَزلی فرمان ہے، کیونکہ تمام احکامِ ربانی ازل میں جاری ہوئے، مگر اُن کا وجوب صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے بندوں (مخاطبین) کو اُس کا اَمر فرماتا ہے۔[4][5][6][7]

حوالہ جات

ترمیم
  1. شریف جرجانی: التعریفات، صفحہ 97۔
  2. محمد علی تھانوی: کشاف اصطلاحات الفنون، جلد 1، صفحہ 372۔ مطبوعہ کلکتہ، 1862ء
  3. لسان العرب: جلد 3، صفحہ 35۔
  4. المستصفی فی علوم الاصول، صفحہ 8۔
  5. الاحکام فی اصول الاحکام: جلد 1، صفحہ 135۔
  6. جامع العلوم:  جلد 2،  صفحہ 50۔
  7. محمد علی تھانوی: کشاف اصطلاحات الفنون،  جلد 1، صفحہ 380۔