ادرنہ ترکی کے مغربی حصے میں تراقیا (تھریس) کے علاقے میں واقع شہر ہے۔ اس شہر کی سرحدیں یونان اور بلغاریہ سے ملتی ہیں اور یہ ترکی کے یورپی حصے ميں واقع ہے۔ انگریزی زبان میں اس شہر کو پہلی جنگ عظیم تک ایڈریانوپل (Adrianople) کہا جاتا تھا۔ ادرنہ ترکی کے صوبہ ادرنہ کا صدر مقام ہے اور 2002ء کے مطابق اس شہر کی آبادی اندازہ 128،400 ہے۔

بلدیہ
سلیمیہ مسجد, جسے سلیم ثانی کے حکم پر معمار سنان پاشا نے 1575ء میں تعمیر کیا
سلیمیہ مسجد, جسے سلیم ثانی کے حکم پر معمار سنان پاشا نے 1575ء میں تعمیر کیا
ملکترکی
علاقہمرمرہ
صوبہادرنہ
حکومت
 • میئرRecep Gürkan (CHP)
رقبہ[1]
 • ضلع829.93 کلومیٹر2 (320.44 میل مربع)
آبادی (2012)[2]
 • شہری148,474
 • ضلع162,161
 • ضلع کثافت200/کلومیٹر2 (510/میل مربع)
منطقۂ وقتمشرقی یورپی وقت (UTC+2)
 • گرما (گرمائی وقت)مشرقی یورپی گرما وقت (UTC+3)
لائسنس پلیٹ22
ایک مسجد کے باہر فن خطاطی کا ایک شاندار نمونہ

اس شہر کو 1360ء میں عثمانی سلطان مراد اول نے فتح کیا اور بعد ازاں دارالحکومت قرار دیا۔ یہ 1365ء سے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ تک عثمانی سلطنت کا دار الخلافہ رہا۔

اس شہر پر 1829ء میں یونانی جنگ آزادی کے دوران روس نے، 1878ء میں بلغاریہ کی آزادی کی جنگ کے دوران بلغاریہ اور 1920ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں یونان نے قبضہ کر لیا تھا۔

ادرنہ مغربی دنیا کے لیے "بابِ ترکی" کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ یورپ کی جانب سے ترکی آتے ہوئے پہلا شہر ہے۔ یہ یونان کی سرحد سے محض 7 اور بلغاریہ کی سرحد سے 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔

یہ خوبصورت شہر اپنی مساجد کے باعث مشہور ہے۔ جن میں سب سے مشہور سلیمیہ مسجد ہے جسے ترکی کے عظیم ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا نے 1575ء میں تعمیر کیا۔ اس مسجد کے مینار ترکی میں سب سے بلند ہیں جن کی بلندی 70.9 میٹر ہے۔ اس مسجد کا نام عثمانی سلطان سلیم دوم کے نام پر مسجد سلیمیہ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ سلطان مراد ثانی کا تعمیر کردہ ادرنہ محل بھی قابل دید مقامات میں سے ایک ہے۔

فاتح قسطنطنیہ عثمانی سلطان محمد ثانی اسی شہر میں پیدا ہوئے جبکہ بہائی مذہب کے بانی بہاء اللہ بھی 1863ء سے 1868ء تک یہاں مقیم تھے۔

کلام اقبال میں ادرنہ کا ذکر

ترمیم

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا میں محاصرۂ ادرنہ نامی نظم میں اس شہر کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :

يورپ ميں جس گھڑی حق و باطل کی چھڑ گئی

حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گيا

گرد صليب گرد قمر حلقہ زن ہوئی

شکری حصار درنہ ميں محصور ہو گيا

مسلم سپاہيوں کے ذخيرے ہوئے تمام

روئے اميد آنکھ سے مستور ہو گيا

آخر امير عسکر ترکی کے حکم سے

'آئين جنگ' شہر کا دستور ہوگيا

ہر شے ہوئی ذخيرہ لشکر ميں منتقل

شاہيں گدائے دانۂ عصفور ہو گيا

ليکن فقيہہ شہر نے جس دم سنی يہ بات

گرما کے مثل صاعقہ طور ہو گيا

ذمی کا مال لشکر مسلم پہ ہے حرام

فتویٰ تمام شہر ميں مشہور ہو گيا

چھوتی نہ تھی يہود و نصاریٰ کا مال فوج

مسلم، خدا کے حکم سے مجبور ہوگيا

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Area of regions (including lakes), km²"۔ Regional Statistics Database۔ Turkish Statistical Institute۔ 2002۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2013 
  2. "Population of province/district centers and towns/villages by districts - 2012"۔ Address Based Population Registration System (ABPRS) Database۔ Turkish Statistical Institute۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2013 

نگار خانہ

ترمیم