اقامت صف بندی سے قبل نماز کے لیے موجود افراد کو بلانے کو کہتے ہیں۔ اذان و اقامت ہر دو کا اصطلاحی مفہوم بلانے یا پکار کے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اذان نماز کے وقت ہونے پر دی جاتی ہے تاکہ مسجد آنے اور نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کر لیں۔ اور اقامت صف بندی سے قبل مسجد میں موجود حاضرین اور نماز کے لیے تیار افراد کو متوجہ کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔[1] مختلف مسالک میں اذان و اقامت کے الفاظ میں فرق بھی پایا جاتا ہے۔

حنفیہ کے نزدیک اذان کی طرح اقامت کے کلمات بھی دو دو مرتبہ ہیں۔ مالکیہ کے نزدیک اقامت میں تمام کلمات صرف ایک مرتبہ کہے جائیں گے۔ شافعی اور حنبلی کے نزدیک تمام کلمات ایک ایک مرتبہ صرف قد قامت الصلاۃ دو مرتبہ کہا جائے گا۔[2] فقہ جعفریہ میں اللہ اکبر دو بار، قد قامت الصلاۃ دو بار اور لا اله الا الله ایک بار کہا جاتا ہے۔[3]

لغوی و اصطلاحی مفہومترميم

اقامت کے لغوی و اصطلاحی مفہوم کے لیے ملاحظہ فرمائیں اقامت۔

مشروعیتترميم

اقامت کی مشروعیت اور ابتدا کے لیے ملاحظہ فرمائیں مقالہ اذان۔

اقامت کا حکمترميم

حکمِ اقامت کے سلسلے میں علمائے اسلام کی دو رائے ہے۔

  1. اقامت فرض کفایہ ہے۔ یہ رائے حنابلہ بعض شوافع اور امام عطاء اور امام اوزاعی کی ہے۔ امام مجاہد کے نزدیک سفر میں اقامت کو ترک نہیں کرنا چاہیے، اگر چھوٹ جائے تو اعادہ کرے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اقامت شعائر اسلام میں سے ہے اور سفر میں شعائر کا اظہار مطلوب ہے۔[4]
  2. اقامت سنت مؤکدہ ہے۔ یہ مالکیہ اور احناف کی رائے ہے۔ نیز شوافع کے نزدیک راجح مسلک یہی ہے۔

کلمات اقامتترميم

اہل سنت و الجماعت کے تمام مسالک [5] میں کلمات اقامت اور ان کی ترتیب میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کلمات اقامت یہ ہیں :
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )
َأشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں )
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )
حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )
حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )
قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )
قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )
لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )۔

اختلاف فقہاترميم

البتہ تکرار کلمات میں اختلاف ہے، جس کی تفصیل یہ ہے :
اللَّهُ أَكْبَرُ
احناف کے نزدیک 4 مرتبہ اور دیگر مسالک میں 3 مرتبہ۔
أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
احناف کے نزدیک 2 مرتبہ اور دیگر مسالک میں 1 مرتبہ۔
حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ
احناف کے نزدیک 2 مرتبہ اور دیگر مسالک میں 1 مرتبہ۔
قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ
مالکیہ کے نزدیک 1 مرتبہ جیسا کہ مشہور ہے اور دیگر مسالک میں 2 مرتبہ۔
اللَّهُ أَكْبَرُ
تمام مسالک میں 2 مرتبہ۔
لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ
تمام مسالک میں 1 مرتبہ۔

انداز اقامتترميم

تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ کلمات اقامت اذان کے کلمات کے برعکس جلدی ادا کیے جائینگے۔ جیسا کہ اس حدیث میں وارد ہے :

إذا اذنت فترسل، وإذا اقمت فاحدر

شرائط اقامتترميم

  • وقت۔
  • نیت اقامت۔
  • عربی زبان میں کلمات اقامت کی ادائیگی۔
  • درست ادائیگی تاکہ مفہوم کلمات تبدیل نہ ہوں۔
  • بلند آواز۔ لیکن اذان کی آواز سے پست۔

شرائط مقیمترميم

اقامت کہنے والے کو مقیم کہتے ہیں۔

ان شرائط کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں کتب فقہ۔

اقامت سفر میںترميم

اذان و اقامت تنہا اور جماعت، سفر و حضر سب کے لیے مشروع ہیں۔

اجرت اقامتترميم

اقامت کہنے کی اجرت کے سلسلے میں تین آراء ہیں :

  1. ممنوع۔ یہ متقدمین احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کی رائے ہے۔
  2. جائز۔ یہ متاخرین احناف کی رائے ہے۔ نیز شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے مسالک میں بھی یہ رائے موجود ہے۔
  3. امام کے لیے جائز۔ یہ شوافع کی رائے ہے۔ تاہم شوافع کے یہاں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ بغیر اذان کے صرف اقامت کی اجرت جائز نہیں، اس لیے کہ یہ عمل قلیل ہے۔[6]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. الاختيار 1 / 42، وابن عابدين 1 / 256۔
  2. "اتجاهات الفقهاء في ألفاظ الأذان والإقامة:". www.feqhweb.com. [مردہ ربط]
  3. تفاوت اذان و اقامه در چیست؟
  4. كشاف القناع 1 / 210، والمجموع للنووي 3 / 81 ـ 82۔
  5. واضح رہے کہ یہاں صرف احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے مسالک و اختلافات بیان کیے جائیں گے، دیگر مسالک کے لیے کتب فقہ سے مراجعت فرمائیں۔
  6. ابن عابدين 1 / 263، وبدائع الصنائع 1 / 415، والمجموع للنووي 2 / 127، والمغني 1 / 415۔