مجاہد بن جبر عبد اللہ ابن کثیر قاری مکہ کے استاد ہیں جو قراء سبعہ میں شامل ہیں۔آپ نے 103ھ میں وفات پائی۔

مجاہد بن جبیر
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 642ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 722ء (79–80 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ (642–661)
سلطنت امویہ (661–722)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ عبد اللہ بن عباس   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ابو عمرو بن علاء بصری ،  ایوب سختیانی   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان ،  محدث   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تفسیر قرآن ،  علم حدیث ،  فقہ ،  قرأت   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب

ترمیم

مجاہد نام ، ابوالحجاج کنیت ، قیس بن مخزومی کے غلام تھے۔

ولادت

ترمیم

ان کی پیدائش 21ھ میں زمانہ خلافت فاروق میں ہوئی۔

فضل وکمال

ترمیم

اگرچہ مجاہد غلام تھے، لیکن اقلیم علم کے تاجدار تھے، علمی اعتبار سے وہ امامِ وقت تھے، علامہ ابن سعد لکھتے ہیں ‘کان فقیھا عالما ثقۃ کثیر الحدیث ’ حافظ ذہبی کا بیان ہے کہ وہ علم کا ظرف تھے [2]امام نووی لکھتے ہیں کہ ان کی جلالت اور امامت پر سب کا اتفاق ہے [3] ان کو تفسیر حدیث اور فقہ جملہ علوم میں درجہ امامت حاصل تھا۔

قرأت وتفسیر

ترمیم

قرأت اور تفسیر کے اس عہد کے نہایت نامور عالم تھے، تفسیر انھوں نے خیر الامۃ ابن عباس سے حاصل کی تھی اور پورے تیس مرتبہ ان سے قرآن کا دورہ کیا تھا اور اس محنت اور تحقیق کے ساتھ کہ ہر ایک سورہ پر رک کر اس کی شانِ نزول اور اس کے جملہ متعلّقات پوچھتے جاتے تھے اس محنت اور ابن عباس جیسے مفسر قرآن کی تعلیم نے ان کو بہت بڑا مفسر بنا دیا،خصیف کا بیان ہے کہ مجاہد تفسیر کے سب سے بڑے عالم تھے قتادہ کہتے تھے کہ اس وقت کے باقیات صالحات میں مجاہد تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں قرآن کے قاری بھی تھے۔

حدیث

ترمیم

حدیث کے بھی وہ نہایت مشہور حافظ تھے،امام ذہبی ان کو مضر اور حافظِ حدیث ابن سعد کثیر الحدیث اور امام نووی امام حدیث لکھتے ہیں[4]حبر الامۃ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے حفظ کے اتنے معترف تھے کہ فرماتے تھے کہ کاش نافع کا حفظ بھی تمھاری طرح ہوتا ۔ [5]

اکابر صحابہ میں انھوں نے حضرت علیؓ، ابن عمرؓ، ابن عباسؓ ، عبداللہ بن زبیرؓ، عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ، ابو سعید خدریؓ، ابوہریرہؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، رافع بن خدیجؓ، عائشہ صدیقہؓ ، جویریہ بنت حارثؓ، ام ہانیؓ اور تابعین میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، طاؤس ، عبد اللہ بن سائب ، عبد اللہ بن سنجرہ، عبد الرحمن بن صفوان ، عمر بن اسود، مورق العجل، ابو عیاالزرق اور عبیداللہ بن عتبہ بن عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے استفادہ کیا تھا۔ [6] ان کے تلامذہ کا دائرہ بھی خاصہ وسیع تھا، ایوب سختیانی، عطاء، عکرمہ بن عون ، عمرو بن دینار، ابواسحٰق سبیعی، ابو الزبیر مکی، قتادہ ، جیب بن ابی ثابت، حسن بن عمرو، سلمہ بن کہیل ، سلیمان الاحول، سلیمان الاعمش، مسلم البطین ،طلحہ بن مصرف اور عبد اللہ بن کثیر قاری وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [7]

اخلاص فی العلم

ترمیم

علم کا مقصد کسی نہ کسی دنیاوی منفعت سے کم خالی ہوتا ہے لیکن مجاہد کا دامن ان تمام آمیزشوں سے بالکل پاک تھا۔ مسلمہ بن کہیل کا بیان ہے کہ عطاء ، طاؤس اور مجاہد کے علاوہ میں نے کسی کو نہیں پایا،جس کا مقصد علم سے خالصۃً لوجہ اللہ رہا ہو۔[8][9]

زہد وورع

ترمیم

علم کے ساتھ ان میں زہد و ورع بھی اسی درجہ کا تھا، ابن حبان لکھتے ہیں کہ مجاہد فقیہ متورع اور عابد و زاہد تھے۔ [10]

دنیا سے بے تعلقی

ترمیم

وہ دنیا سے ہمیشہ بے تعلق اور بیگانہ رہے،اس سے ان کا دل اس قدر برداشتہ تھا کہ کسی دنیاوی چیز سے دلچسپی نہ لیتے تھے، ہمیشہ مغموم رہا کرتے ،اعمش کا بیان ہے کہ مجاہد کو جب ہم دیکھتے مغموم پاتے ان سے کسی نے اس کا سبب پوچھا،جواب دیا کہ عبداللہ بن عباسؓ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ عبد اللہ دنیا میں اس طرح رہو کہ معلوم ہوکہ مسافر یا راہ رو ہو۔ [11]

سادگی

ترمیم

ظاہر زیب وزینت سے اتنے بے پروا تھے کہ ان میں اور ادنی درجہ کے آدمیوں میں امتیاز مشکل تھا، اعمش کا بیان ہے کہ جب میں مجاہد کو دیکھتا تھا تو (ان کی ظاہری حالت سے ) ان کو نہایت حقیر سمجھتا تھا، وہ اپنی ظاہری وضع سے سائیس معلوم ہوتے تھے جس کا گدھا گم ہو گیا ہو اور وہ حالتِ پریشانی میں اس کو تلاش کررہا ہو [12] لیکن اس سے ان کی علمی عظمت میں کوئی فرق نہ آتا تھا،جب وہ بولتے تھے تو منہ سے موتی ٹپکتے تھے [13] بڑے بڑے صحابہ ان کی عظمت ووقعت کرتے تھے،حضرت عبداللہ بن عمرؓ جیسے بزرگ ان کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے۔ [14]

سیر وسیاحت

ترمیم

مجاہد کو سیرو سیاحت اور عجائبات عالم دیکھنے کا بہت شوق تھا،انھوں نے آس پاس کے تمام عجائبات دیکھے تھے۔

وفات

ترمیم

سنہ وفات کے بارہ میں روایات مختلف ہیں، باختلاف روایت 172ھ یا 103ھ میں وفات پائی،عین سجدہ کی حالت میں سفرِ آخرت کیا راجع 103ھ ہے۔83 برس کی عمر میں 103ھ میں وفات پائی۔ عین سجدہ کی حالت میں سفرِ آخرت کیا وفات کے وقت تر اسی سال کی عمر تھی۔[15]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Diamond Catalogue ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/7515 — بنام: Muǧāhid ibn Ǧabr
  2. (تذکرۃ الحفاظ:1/80)
  3. (تہذیب الاسماء،ج اول،ق 2،ص83)
  4. (تہذیب التہذیب:10/44)
  5. (دیکھو کتب مذکور حالات مجاہد)
  6. (شذرات الذہب :1/125)
  7. (ایضاً)
  8. تہذیب التہذیب:10/43
  9. شذرات الذہب :1/125
  10. (تہذیب التہذیب:10/44)
  11. (شذرات الذہب :1/125)
  12. (شذرات الذہب:1/125)
  13. (تذکرۃ الحفاظ:1/80)
  14. (ایضاً)
  15. النشر فی القراءات العشر ،مؤلف : شمس الدين ابو الخير ابن الجزری