مرکزی مینیو کھولیں
  
انگولہ
(پرتگالی میں: Angola خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
انگولہ
پرچم
انگولہ
نشان

Angola on the globe (Angola centered).svg 

شعار
(لاطینی میں: Virtus Unita Fortior خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 12°21′S 17°21′E / 12.35°S 17.35°E / -12.35; 17.35  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
پست مقام بحر اوقیانوس (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 1246700 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت لواندا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان پرتگالی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 21471618 (2013)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
46.105 سال (1999)[3]
47.113 سال (2000)[3]
48.2 سال (2001)[3]
49.341 سال (2002)[3]
50.508 سال (2003)[3]
51.676 سال (2004)[3]
52.833 سال (2005)[3]
53.974 سال (2006)[3]
55.096 سال (2007)[3]
56.189 سال (2008)[3]
57.231 سال (2009)[3]
58.192 سال (2010)[3]
59.042 سال (2011)[3]
59.77 سال (2012)[3]
60.373 سال (2013)[3]
60.858 سال (2014)[3]
61.241 سال (2015)[3]
61.547 سال (2016)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1975  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
مشترکہ سرحدیں
نمیبیا (Angola–Namibia border)
جمہوری جمہوریہ کانگو (Angola–Democratic Republic of the Congo border)
زیمبیا (Angola–Zambia border)
جمہوریہ کانگو (Angola–Republic of the Congo border)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
124209385825.22 امریکی ڈالر (2017)[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 2994.948 بین الاقوامی ڈالر (1990)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 664 امریکی ڈالر (1980)[11]
600 امریکی ڈالر (1981)[11]
579 امریکی ڈالر (1982)[11]
582 امریکی ڈالر (1983)[11]
596 امریکی ڈالر (1984)[11]
711 امریکی ڈالر (1985)[11]
647 امریکی ڈالر (1986)[11]
720 امریکی ڈالر (1987)[11]
761 امریکی ڈالر (1988)[11]
862 امریکی ڈالر (1989)[11]
922 امریکی ڈالر (1990)[11]
844 امریکی ڈالر (1991)[11]
640 امریکی ڈالر (1992)[11]
430 امریکی ڈالر (1993)[11]
320 امریکی ڈالر (1994)[11]
388 امریکی ڈالر (1995)[11]
512 امریکی ڈالر (1996)[11]
506 امریکی ڈالر (1997)[11]
419 امریکی ڈالر (1998)[11]
385 امریکی ڈالر (1999)[11]
555 امریکی ڈالر (2000)[11]
526 امریکی ڈالر (2001)[11]
869 امریکی ڈالر (2002)[11]
978 امریکی ڈالر (2003)[11]
1248 امریکی ڈالر (2004)[11]
1890 امریکی ڈالر (2005)[11]
2585 امریکی ڈالر (2006)[11]
3108 امریکی ڈالر (2007)[11]
4068 امریکی ڈالر (2008)[11]
3117 امریکی ڈالر (2009)[11]
3585 امریکی ڈالر (2010)[11]
4615 امریکی ڈالر (2011)[11]
5102 امریکی ڈالر (2012)[11]
5258 امریکی ڈالر (2013)[11]
5412 امریکی ڈالر (2014)[11]
4170 امریکی ڈالر (2015)[11]
3509 امریکی ڈالر (2016)[11]
4100 امریکی ڈالر (2017)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 228335521 امریکی ڈالر (1995)[12]
555691254 امریکی ڈالر (1996)[12]
392514285 امریکی ڈالر (1997)[12]
202442614 امریکی ڈالر (1998)[12]
491400189 امریکی ڈالر (1999)[12]
1198212373 امریکی ڈالر (2000)[12]
731866197 امریکی ڈالر (2001)[12]
375545950 امریکی ڈالر (2002)[12]
634199422 امریکی ڈالر (2003)[12]
1379588148 امریکی ڈالر (2004)[12]
3196850749 امریکی ڈالر (2005)[12]
8149079644 امریکی ڈالر (2006)[12]
11196800894 امریکی ڈالر (2007)[12]
17869411575 امریکی ڈالر (2008)[12]
13664098011 امریکی ڈالر (2009)[12]
19678660394 امریکی ڈالر (2010)[12]
27039762623 امریکی ڈالر (2011)[12]
31161778915 امریکی ڈالر (2012)[12]
31500815659 امریکی ڈالر (2013)[12]
27032345236 امریکی ڈالر (2014)[12]
23790543293 امریکی ڈالر (2015)[12]
23672191388 امریکی ڈالر (2016)[12]
17455327770 امریکی ڈالر (2017)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.581 (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 7 فیصد (2014)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+01:00  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم ao.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ،باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 AO  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +244  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

انگولہ جسے جمہوریہ انگولہ کے نام سے جانا جاتا ہے، وسطی افریقہ کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔ اس کے جنوب میں نمیبیا، شمال میں جمہوریہ کانگو، مشرق میں زیمبیا جبکہ مغرب میں بحر اوقیانوس موجود ہے۔ اس کا دار الحکومت لوانڈا ہے۔

16ویں صدی سے 1975 تک انگولہ پرتگال کی نو آبادی رہا ہے۔ آزادی کے بعد 1975 سے 2002 تک انگولہ میں انتہائی خونریز خانہ جنگی جاری رہی ہے۔ صحرائے صحارا کے علاقے میں تیل اور ہیروں کی پیداوار کے لیے انگولا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ تاہم اوسط عمر اور بچوں کی شیرخوار عمر میں شرحِ اموات دنیا بھر میں سب سے بلند شرح والے ملکوں میں سے ایک ہیں۔ اگست 2006 میں مختلف چھاپ مار گروہوں کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا جو اب بھی لاگو ہے۔

تاریخترميم

ابتدائی ہجرتیںترميم

اس علاقے کے قدیم ترین آباد کاروں میں خوئیسن قبائل کے شکاری اور چرواہے شامل ہیں۔ بعد ازاں ان کی جگہ بنٹو قبائل آئے تاہم خوئیسن قبال آج بھی معمولی تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ بنٹو قبائل موجودہ کیمرون کی جانب سے یہاں آئے تھے۔

پرتگالی دور حکومتترميم

جغرافیائی اعتبار سے آج کے انگولا کا رقبہ 15ویں صدی کے اواخر میں پہلی بار پرتگالی قبضے میں آیا۔ انگولا کو یورپی ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے۔

بنگوئلا نامی پرتگالی قلعہ جو 1587 میں قصبہ بنا، بھی ایک اہم آبادی کا درجہ رکھتا تھا۔ پرتگالیوں نے بہت ساری بستیاں، قلعے اور تجارتی چوکیاں ساحلی علاقوں پر بنائیں جن کا انحصار غلاموں کی تجارت، خام مواد کی منتقلی وغیرہ پر تھا۔ افریقی غلاموں کی تجارت سے ہی یورپیوں اور ان کے افریقی ایجنٹوں کو بڑی تعداد میں سیاہ فام غلام ملتے تھے۔

یورپی تاجر اپنی تجارتی اشیاء کو افریقہ کے ساحل تک لاتے اور اس کے بدلے غلام لے جاتے۔ پرتگالی دور میں ہونے والی اس تجارت کا زیادہ تر حصہ برازیل میں زرعی مقاصد کے لیے سستے مزدور مہیا کرنا تھا۔ یہ تجارت 19ویں صدی کے نصف تک جاری رہی۔

پرتگالی بتدریج ساحلی علاقوں پر قبضہ کرتے گئے۔ اسی دوران پرتگال کی جنگ کے دوران فائدہ اٹھاتے ہوئے ولندیزیوں نے 1641 سے 1648 تک مقامی لوگوں کی مدد سے لوانڈا پر قبضہ کر لیا۔ 1648 میں ایک بحری بیڑا لوانڈہ کو واپس لے لیا اور پھر اپنے دیگر علاقوں کو بازیاب کرانے نکلا۔

1880 کی دہائی تک کچھ فائدے حاصل ہوتے رہے۔ 1885 میں برلن کانفرنس نے اس نوآبادی کی سرحدوں کا تعین کر دیا۔ برطانوی اور پرتگالی سرمایہ کاری نے کان کنی، ریلوے اور زراعت کے میدانوں کا رخ کیا۔ تاہم 20ویں صدی ہی میں پرتگال اس پورے علاقے پر اپنا قبضہ کرنے کے قابل ہو سکا۔ 1951 میں اسے پرتگال کا سمندر پار انگولا کا صوبہ بنا دیا گیا۔ پرتگالی تقریباً 500 سال تک انگولا میں موجود رہے۔ 1950 کی دہائی میں سیاسی جماعتوں نے منظم ہو کر اپنے حقوق مانگنا شروع کیے۔

پرتگالی سلطنت نے اس دوران قوم پرستوں کے آزادی کے مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ 1961 میں اس کے نتیجے میں مسلح جد و جہد شروع ہو گئی اور سیاہ فام چھاپہ ماروں نے بلا تفریق سیاہ فام اور سفید فام افراد کا قتل شروع کر دیا۔ اس جنگ کو نوآبادیاتی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں کئی چھاپہ مار تنظیمیں شامل تھیں۔ بہت سالوں کی مسلح لڑائیوں کے بعد 11 نومبر 1975 کو پرتگال میں ہونے والے انقلاب کے دوران انگولا نے آزادی حاصل کر لی۔

پرتگال کے نئے انقلابی رہنماؤں نے جمہوری تبدیلیوں کا عمل شروع کیا اور اپنی سمندر پار افریقی نوآبادیوں کی علیحدگی کو تسلیم کیا۔

آزادی اور خانہ جنگیترميم

نومبر 1975 میں آزادی کے بعد انگولا میں انتہائی تباہ کن خانہ جنگی شروع ہوئی جو کئی دہائیوں پر محیط تھی اور لاکھوں بے گناہوں کے ناحق قتل کی ذمہ دار بھی۔ پرتگال میں ہونے والے مذاکرات اور انتہائی شدید سیاسی اور سماجی دباؤ کے بعد تینوں مسلح چھاپہ مار گروہوں نے جنوری 1975 میں عارضی حکومت کے قیام کا فیصلہ کیا۔

تاہم دو ہی مہینوں کے دوران یہ گروہ پھر سے ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہو گئے اور انہوں نے اپنے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں پر اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ عالمی طاقتیں جلد ہی اس جنگ کا حصہ بن گئیں جو سرد جنگ کا انتہائی اہم مرحلہ بن گیا۔ امریکا، کانگو اور جنوبی افریقا ایک گروہ جبکہ روس اور کیوبا دوسرے گروہ کی حمایت کر رہے تھے۔

سیاستترميم

انگولا کا مقولہ ہے "اتحاد اچھائی کو بڑھاتا ہے "۔ ملک میں حکومت کی ایگزیکٹو برانچ صدر، نائب صدور اور وزراء کی کونسل پر مشتمل ہوتی ہے۔ کئی دہائیوں سے سیاسی طاقت صدر کے ہی پاس ہے۔

18 صوبوں کے گورنروں کا تقرر اور اختیارات صدر کی مرضی سے متعین ہوتے ہیں۔ 1992 کے آئین میں حکومتی ڈھانچے اور شہریوں کے حقوق و فرائض کا تذکرہ موٹے موٹے الفاظ میں کر دیا گیا ہے۔ قانونی نظام پرتگالی انداز کا ہے تاہم کمزور اور بکھرا ہوا ہے۔ ملک میں موجود کل 140 بلدیات میں سے صرف 12 میں عدالتیں کام کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ اپیل کورٹ کے طور پر کام کرتی ہے اور آئینی عدالت کا کام قوانین پر نظرِ ثانی کرنا ہے۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی دباؤ کے تحت ملک میں جمہوریت کا فروغ ہوا۔ تاہم زیادہ تر تبدیلیاں محض دکھاوے کی حد تک ہیں۔

5 ستمبر 2008 میں پارلیمانی انتخابات ہوئے اور ایم پی ایل اے نامی جماعت نے 81 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ 1992 کے بعد یہ پہلے عام انتخابات تھے۔ ان انتخابات کو جزوی طور پر آزاد لیکن غیر شفاف قرار دیا گیا ہے۔

2010 میں اپنائے جانے والے نئے آئین کے مطابق صدارتی عہدے کے لیے انتخابات ختم کر دیے گئے ہیں۔ صدر اور نائب صدور انتخابات جیتنے والی جماعت کے رہنما بنیں گے۔ عام طور پر صدر حکومت کے زیادہ تر امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ تاہم انگولا کا صدارتی نظام امریکی یا فرانسیسی صدارتی نظام نہیں بلکہ نپولن بونا پارٹ وغیرہ سے زیادہ مماثل ہے۔

فوجترميم

انگولا کی مسلح افواج کا سربراہ چیف آف سٹاف ہوتا ہے جو وزیرِ دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے۔ انگولا کی فوج بحری، بری اور ہوائی فوج پر مشتمل ہیں۔ کل افرادی قوت 1٫10٫000 ہے۔ زیادہ تر روسی ساخت کا اسلحہ استعمال ہوتا ہے۔ تربیت کے لیے برازیل اور چیک اور مغربی ساخت کے جہاز استعمال ہوتے ہیں۔

پولیسترميم

قومی پولیس میں پبلک آرڈر، کرمنل انوسٹی گیشن، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ، معاشی سرگرمیوں کی تفتیش اور تحقیق، ٹیکس اور سرحدی دیکھ بھال وغیرہ کے محکمے شامل ہیں۔

انتظامی تقسیمترميم

انگولا میں 18 صوبے اور 163 بلدیات ہیں۔

نقل و حملترميم

انگولا میں نقل و حمل درجِ ذیل پر مشتمل ہے :

  • ریلوے کے تین نظام جو کل 2٫761 کلومیٹر طویل ہیں
  • 76٫626 کلومیٹر طویل شاہراہیں جن میں سے 19٫156 کلومیٹر پختہ سڑکیں شامل ہیں
  • 1٫295 کشتی رانی کے قابل دریا وغیرہ
  • 8 اہم بندرگاہیں
  • 243 ہوائی اڈے جن میں سے 32 پختہ ہیں

شہروں اور قصبوں سے باہر شاہراہوں کے سفر کے لیے بالمعوم فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔

جغرافیہترميم

رقبے کے اعتبار سے انگولا دنیا کا 23واں بڑا ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ 12٫46٫620 مربع کلومیٹر ہے۔

انگولا کے جنوب میں نمیبیا، مشرق میں زیمبیا، شمال مشرق میں عوامی جمہوریہ کانگو اور مغرب میں جنوبی بحرِ اوقیانوس ہیں۔

موسمترميم

انگولا کا سالانہ اوسط ساحلی درجہ حرارت سردیوں میں 16 ڈگری جبکہ گرمیوں میں 21 ڈگری رہتا ہے۔ یہاں کل دو موسم ہوتے ہیں۔ نم اور خشک۔ نم موسم نومبر سے اپریل جبکہ خشک موسم مئی سے اکتوبر تک رہتا ہے۔

معیشتترميم

انگولا کی معیشت حالیہ برسوں میں تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہی معیشت چوتھائی صدی سے خانہ جنگی کا شکار تھی اور اب یہی معیشت افریقہ کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ 2001 سے 2010 تک انگولا کی معیشت نے 11.1 فیصد رفتار سے ترقی کی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ 2004 میں چینی بینک سے 2 ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر استعمال ہوگا۔ اس کے علاوہ اس قرضے سے عالمی مالیاتی فنڈ کا اثر انگولا میں کم ہوا ہے۔

دی اکانومسٹ نے 2008 میں رپورٹ دی ہے کہ انگولا کی معیشت کا 60 فیصد حصہ تیل اور ہیروں سے آتا ہے۔ برآمدات پر بھی ہیروں اور تیل کا غلبہ ہے۔

ملکی ترقی کا تقریباً سارا ہی دار و مدار تیل کی بڑھتی ہوئی پیداوار پر ہے جو 20 لاکھ بیرل روزانہ تک ہو چکی ہے۔ دسمبر 2006 میں انگولا کو اوپیک کا رکن بنا دیا گیا ہے۔ 2002 کے امن معاہدے کے بعد 40 لاکھ افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں اور زرعی سرگرمیاں پھر سے عروج پر ہیں۔

اگرچہ ملک کی معیشت تیل کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور سیاسی استحکام کی وجہ سے ترقی کر رہی ہے تاہم اس وقت انگولا کو سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کی تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ دیہاتوں کی 58 فیصد آبادی جبکہ شہروں کی 19 فیصد آبادی غربت کی سطح کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ شہری اور دیہی آبادی نصف نصف ہیں۔ انسانی ترقی کے اعشاریے میں انگولا مسلسل سب سے نیچے والے گروہ میں شامل ہے۔

دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے مطابق تیل کی پیدوار بڑھنے سے انگولا اب چین کو تیل مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

1975 میں آزادی سے قبل انگولا جنوبی افریقہ میں بریڈ باسکٹ یعنی غلے اور غذائی اجناس کی پیداوار کا مرکز تھا۔ انگولا سے کیلے، کافی اور سیسل کی برآمدات دوسرے ملکوں کو جاتی تھیں۔ تاہم خانہ جنگی سے زرخیز زمینیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہر جگہ بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

آبادی کی خصوصیاتترميم

انگولا کی کل آبادی کا اندازہ 1٫84٫98٫000 افراد ہے۔

اندازہ ہے کہ انگولا میں 2007 کے اواخر تک 12٫100 مہاجرین اور 2٫900 پناہ گزین موجود تھے۔ اس کے علاوہ ملک میں 4٫00٫000 تارکین وطن عوامی جمہوریہ کانگو سے، 30٫000 پرتگالی اور 1٫00٫000 سے زیادہ چینی باشندے بھی آباد ہیں۔

زبانیںترميم

انگولا میں مقامی قبائل کی زبانوں کے علاوہ پرتگالی بھی بولی جاتی ہے۔ اُمبنڈو، کِمبنڈو اور کیکونگو بڑی زبانیں ہیں۔ پرتگالی زبان سرکاری زبان ہے۔

مذہبترميم

اندازہً ملک میں 1٫000 سے زیادہ مختلف مسیحی گروہ موجود ہیں۔ ان میں نصف سے زیادہ تعداد رومن کیتھولک ہیں۔ مغربی افریقہ اور دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی زیادہ تر تعداد مسلمان ہے جو سنی العقیدہ ہیں۔ تاہم ان کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 1 فیصد ہے۔ سعودی عرب اس کوشش میں ہے کہ اس کے فقہہ سے تعلق رکھنے و الے افراد کی تعداد بڑھ جائے۔ لادین افراد کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔ قدیم افریقی مذاہب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔

صحتترميم

ہیضہ، ملیریا، مرضِ کلب یعنی پاگل کتے کے کاٹے کی بیماری اور افریقی جریانِ خون کے بخار عام ہیں۔ تپ دق اور ایڈز کی شرح بھی بہت بلند ہے۔ انگولا میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

تعلیمترميم

قانونی طور پر 8 سال تک تعلیم لازمی اور مفت ہے لیکن سکولوں کی عمارات اور تدریسی عملے کی کمی کی وجہ سے شرح خواندگی کم ہے۔

ثقافتترميم

پرتگالی انگولا میں 400 سال سے زیادہ موجود رہے ہیں۔ نتیجتاً دونوں ممالک میں مشترکہ ثقافتی اقدار مثلاً تعلیم اور مذہب وغیرہ موجود ہیں۔ تاہم انگولا کی اپنی ثقافت بنٹو قبائل سے تعلق رکھتی ہے جس پر پرتگالی اثرات واضح ہیں۔

فہرست متعلقہ مضامین انگولاترميم

  1.     "صفحہ انگولہ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2019۔
  2. ناشر: عالمی بنک
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  4. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  5. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  6. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  7. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  8. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  9. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=AO — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  10. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  11. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  12. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  14. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  15. http://chartsbin.com/view/edr