بابا آمٹے ہندوستان کے مشہور سماجی کارکن تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کوڑھ یعنی جذام میں مبتلا مریضوں، غریب اور پسماندہ طبقہ کے بدحال لوگوں اور ترقیاتی منصوبوں کے سبب ہونی والی نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔

بابا آمٹے
Baba Amte
Baba Amte.jpg
بابا آمٹے (2005ء میں)

معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1914(1914-12-26)[1]
ہنگن گھاٹ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 فروری 2008(2008-20-90) (عمر  93 سال)
چندرپور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سرطان  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
زوجہ سادھنا آمٹے
اولاد وکاس آمٹے
پرکاش آمٹے
عملی زندگی
پیشہ سماجی کارکن،  صحافی،  وکیل  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
مہاراشٹر بھوشن اعزاز (2004)
ٹیمپلٹن انعام (1990)
شعبۂ انسانی حقوق کا اقوام متحدہ انعام (1988)
رامن میگ سیسے انعام  (1985)
IND Padma Shri BAR.png پدما شری اعزار برائے سماجیات
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
BabaAmte Autograph(Eng).jpg
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://www.anandwan.in/baba-amte.html

ابتدائی زندگیترميم

مرلی دھر دیوی داس آمٹے عرف بابا آمٹے کی پیدائش انیس سو چودہ میں مہاراشٹر کے ایک متمول گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایک اعلی سرکاری افسر تھے اور ان کا خاندان ایک زمیندار خاندان تھا۔

تعلیمترميم

ان کی ابتدائی تعلیم مسیحی مشنری اسکول ناگ پور میں ہوئی اور پھر قانون کی تعلیم انہوں نے ناگ پور یونیورسٹی سے کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کافی عرصے تک وکالت کی۔

غیر معمولی تبدیلیترميم

شادی کے بعد ان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی آئی اور انہوں نے اپنی زندگی کو سماجی خدمات کے لیے وقف کر دیا اور سماج کے پسماندہ طبقے کی زندگی میں امید کی روشنی بکھیرنا اپنا نصب العین مقرر کیا۔

خدمتِ خلقترميم

1949ء میں انہوں نے جذام کے مریضوں کے لیے ’مہا روگ سیوا سمیتی‘ بنائی اور ان کی مریضوں کی خدمت میں لگ گئے۔

اعزازاتترميم

اس کے بعد انہوں نے سماج کے مختلف طبقوں میں کئی شعبوں میں فلاحی کام کیے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انیس سو اکہتر میں انہیں اعلی شہری اعزار ’پدم شری‘،[2] انیس سو چھیاسی میں ’پدم وبھوشن‘ اور انیس سو ننانوے میں ’گاندھی شانتی ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ 9 فروری 2008ء کو ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Amte, the great social reformer". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. Microsoft Word – year-wise 07.rtf