بیٹنی- Bettani or Bhittani پشتو میں " بېټني" پشتون قبیلہ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایف۔آر لکی مروت،ضلع ایف۔آر جنڈولہ، ضلع ٹانک کشمیراور ضلع بنوں کے علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ضلع ژوب،ضلع قلعہ سیف اللہ، کچلاغ اور کویٹہ نواں کلی میں آباد ہے۔ اس کے علاوہ یہ قبیلہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغانستان کے صوبہ کابل،صوبہ ننگرہار اور صوبہ غزنی کے کچھ علاقوں میں بھی آباد ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے کچھ اور ممالک جیسے عرب آمارات، انڈیا، نیوزیلینڈ اور اٹلی میں بھی آباد ہیں۔پشتو کے معروف شاعر اکبر مہجور کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے.

وجہ تسمیہترميم

بٹن نعمت اللہ ہراتی لکھتا ہے کہ بٹن بن قیس اپنی ریاضت اور عبادت گزاری کی وجہ سے شیخ بیت کہلاتا تھا اور پٹھان کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے دوبیٹے اشپون اور کجین تھے۔ ان کی اولاد بٹنی کہتے ہیں۔ جب کہ اس کی بیٹی متو کی اولاد اس کے نام سے متو کہلاتی ہے۔[1] شیر محمد گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اس کے لڑکوں کے نام وڑسپون اور کجین تھے جس سے بٹنی قبیلہ نکلا ہے۔[2] اس کلمہ کی اصل بٹ ہے۔ جسے ہند آریائی میں بھٹ پکارا جاتا ہے۔ بٹ کشمیری قبیلہ ہے۔ جب بھٹ ہندوں کی ایک ذات ہے۔ بٹن سے منسوب قبیلہ بٹانی کہلاتا ہے جسے ڈیرہ جات میں بھٹانی کہتے ہیں۔ یہ بٹ جسے ہند آریائی میں بھٹ کہتے ہیں اور یہ اندوسیھتک یا چندر بنسی ہیں۔ یہ کلمہ بٹ اور بھٹ کے علاوہ بھٹی، بھاٹیا، بھٹو چھٹہ اور بھٹہ وغیرہ کی شکل میں ملتا ہے اور یہ تمام قبائیل آریا نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

بیٹنی قوم کے مشہور اشخاص:ترميم

1): خلیفہ دین محمد بیٹنی المعروف دین فقیر:-

سال 1892 کو ایف۔آر لکی میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک سادہ مزاج کے مالک تھے۔ لیکن بہت ہوشیار اور ایک زیرک انسان تھے۔اپ اپنی قوم کے معاملات برطانیہ حکومت اور دوسرے قبائل کے ساتھ بہت دانائی سے حل کرواتے تھے۔انھوں نے فرنگی سامراج کے خلاف 1930 سے لیکر 1938 تک پھرپور جھاد کیا۔اور حاجی مرزاعلی خان کے ساتھ ملکر وہ کارنامے سر انجام دیے جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں۔ آپ اور فقیر ایپی ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ہر محاذ پر ملکر دشمن کو پسپا کرتے تھے۔ آپ نے وزیر،محسود اور بیٹنی قبائل کے درمیان بہت دوستانہ تعلقات قائم کیے تھے۔اس لیے آ ج تک یہ قبیلے ایک دوسروں میں بہت اچھے تعلقات قائم ہیں۔ اللّٰہ بابا روح کو ښاد رکھے آباد رکھے۔ آمین ثم آمین۔

2)ایم۔این۔اے مفتی عبدالشکور بیٹنی:-

تعلق ایف۔ار لکی سے ہے۔وہ اس وقت جمعیت علمائے اسلام پاکستان فاٹا کے امیر ہے۔

3):-عبد اللہ ننگیال بیٹنی:-

تعلق ایف۔ار ٹانک سے ہیں۔ وہ اس وقت پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہان میں سے ہیں۔

4):-محمود احمد خان بیٹنی:-

تعلق ضلع ٹانک سے ہیں۔ وہ سال 2013 سے لیکر ابھی تک ضلع ٹانک کے ایم۔پی۔اے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان جماعت سے ان کا تعلق ہے۔

5):- ایم۔این۔اے ظفر بیگ بیٹنی:-تعلق ایف آر ٹانک سے ہیں۔ وہ 2008 سے لیکر2013 تک آزاد امیدوار کے طور پر آل ایف۔ارز کے ایم۔این۔اے رہ چکے ہیں۔ 6):- سہیل خان بیٹنی: آپ کا تعلق جنڈولہ سے ہے آپ نے بیٹنی قبیلے پر پہلی دفعہ ایک کتاب "دا بیٹنو تاریخ "لکھی. 7:-سید بادشاہ احقر ورہوری:

8):- قتل بیگ خان سولویں صدی عیسوی میں اپنے بھائی شاہ بیگ کے ساتھ اس وقت موجودی لکی مروت آئے تھے ، آپ کا تعلق بیٹنی قبیلے کی شاخ رتن زئی کی اولاد آدم بیگ سے ہے،جب مروت قوم اور سرہنگ نیازیوں کے درمیان گھمسان لڑائی جاری تھی، عین اس وقت جب لڑائی عروج پر تھی سرہنگ نیازیوں کے سپورٹ میں ایک دستہ جس کا تعلق موسی خیل قوم سے تھا،وہ سرہنگ نیازیوں کا ساتھ دینے کیلئے میدان جنگ کے بالکل عقب میں نمودار ہوئے، موسی خیل جنگجو قبیلہ دریائے سندھ کے کنارے کنارے موجودہ اغضر خیل اور خیروخیل کی پہاڑی سلسلے میں گھس آئے اور موجودہ غاشی خولہ کے مقام پر نکل کر انہوں نے مروت فوج پر عقب سے حملہ کرنا تھا، لیکن اس وقت اس پہاڑی سلسلے پر ایک بہادر مروت جنگجو اسماعیل خان اور مموت کی نگرانی تھی ، انہیں جب خبر ہوئی تو انہوں نے بہترین جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ جنگی محاذ پر موجود مروت فوج سے مدد لی جائے، بلکہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مورچہ سمبھال لیا، اور اس حکمت عملی سے کہ کہی مروت فوج کو یہ خبر ملنے سے ان کے حوصلے پست نہ ہوجائے، انہوں نے ایک وفد آدم خان کی سربراہی میں بیٹنی قبیلہ کی طرف مدد کی غرض سے بھیجا، جو رشتے میں ان کے مامو زاد بھی تھے، آدم خان کی سربراہی میں جب یہ قبیلہ عقبی راستے سے علاقہ قلندرخیل پہنچے، تو وہاں آدم بیگ نے ان کے ساتھ اپنے بیٹوں شاہ بیگ اور قتل بیگ خان کو بھیج دیا اور درجنوں جنگجو مزید بھی اپنے قبیلے سے ساتھ بھیج دئے، قتل بیگ خان اپنے جنگجو ساتھیوں کے ساتھ عین اس وقت موجودہ شہبازخیل غاشی خولہ کے مقام پر پہنچے کہ جب اسماعیل خان اور موسی خیل قبیلوں کے درمیان جنگ برابری کی سطح پر ہوگئی تھی، اور دونوں طرف سے سپاہی شدید تھکن کا شکار تھے، قتل بیگ خان کی سربراہی میں تازہ دم سپاہی پہنچے تو اسماعیل خان کے سپائیوں کا مورال اور بلند ہوگیا، اور عین اسی وقت جنگ کی بازی پلٹی اور موسی خیل کے سپاہیوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے درہ کی طرف کا رخ کیا، اور جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ موسی خیل قبیلے کی پسپائی کے بعد جب زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھوایا گیا، تو قتل بیگ خان کے بھائی شاہ بیگ خان بھی شہیدوں کی صف میں شامل تھے، ، آپ کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ پہاڑی سلسلے کے ساتھ اونچی جگہ پر دفنادیا گیا، مزید شہیدوں کو بھی دفنادیا گیا۔ کہ خبر ملی کہ درہ تنگ کے مقام پر لڑی جانے والی جنگ میں بھی سرہنگ نیازیوں نے پسپائی اختیار کی اور درہ تنگ پار چلے گئے، بعد ازاں مینا خان اور تترخان اور کئی علاقائی مشران کی دخل اندازی سے ایک معایدہ ہوا، اور درہ تنگ پار کا علاقہ سرہنگ نیازیوں جبکہ موضع اصان پور اور لکی مروت پر مروت برادری کی آبادکاری ہوئی اور درہ تنگ سے مغربی طرف کا علاقہ مروت قبیلے کو دیا گیا، جنگ کے مکمل اختتام پر جب تمام طوریالی جنگجو مہمان سپاہی واپس جانے لگے، تو قتل بیگ خان نے یہی پر رہایش اختیار کی ، اور شیخ بدین کی دامن میں ہزاروں کنال بنجر زمین کوآباد کرکے کھیتی باڑی کا کام کرنے لگے۔ بعد ازاں آپ کے ہاں ایک بیٹا بامک پیدا ہوا، ، کچھ عرصہ بعد بامک کے چار بیٹے پیدا ہوئے، ایک کا نام موسی خان دوسرے کا نام علی خان تیسرے کا نام سید خان اور چھوتے کا نام ولی خان تھا ۔

 احقر صاحب ایک علم دوست شخصیت ہے آپ پچھلے دس سال سے قبائلی علاقے میں اپنی مدد آپ کے تحت مفت تعلیم کی روشنی پھیلا رہے ہیں.
  1. نعمت اللہ ہراتی، مخزن افغانی، 431۔ 433
  2. شیر محمد گنڈا پور۔ تاریخ پشتون۔ 456