ترک جنگ آزادی پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد ترک قوم پرستوں کی ایک سیاسی و عسکری تحریک تھی، جس کے نتیجے میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔

ترک جنگ آزادی
TreatyOfSevres (corrected).PNG
عمومی معلومات
آغاز 19 مئی 1919  ویکی ڈیٹا پر (P580) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اختتام 24 جولا‎ئی 1923  ویکی ڈیٹا پر (P582) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک Flag of Turkey.svg ترکی  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام اناطولیہ،  تھریس  ویکی ڈیٹا پر (P276) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متحارب گروہ
ترک قوم پرست
حمایت:
روس
 متحدہ مملکت
 یونان
 فرانس
 آرمینیا
 سلطنت عثمانیہ
 اطالیہ
قائد
مصطفیٰ کمال پاشا
فوزی پاشا
کاظم قرہ بکر پاشا
عصمت پاشا
مملکت متحدہ کا پرچم جارج ملنے
مملکت یونان کا پرچم اناستاسیوس پاپولاس
مملکت یونان کا پرچم جورجیوس ہازیانیستس
فرانس کا پرچم ہنری گوراڈ
آرمینیا کا پرچم دراستمات کنایان
آرمینیا کا پرچم موسس سلیکیان
سلطنت عثمانیہ کا پرچم سلیمان شفیق پاشا
نقصانات

اس تحریک کا آغاز انقرہ میں ترک قوم پرستوں کی جانب سے مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت مجلس کبیر ملی (Grand National Assembly) کے قیام سے ہوا۔ یونان کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف عسکری مہمات اور ترک-ارمنی اور ترک-فرانس جنگ کے بعد ترک انقلابیوں نے اتحادیوں کو مجبور کیا کہ وہ معاہدۂ سیورے کو کالعدم قرار دیں۔ جولائی 1923ء میں معاہدۂ لوزان طے پایا جس کے تحت ترکی کی سالمیت تسلیم کی گئی اور اکتوبر 1923ء میں اناطولیہ اور مشرقی تراقیا میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔

اس جنگ کے نتیجے میں عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور مصطفیٰ کمال، جسے اتاترک یعنی 'ترکوں کے باپ' کا خطاب دیا گیا، نے اصلاحات کے بعد خلافت کا بھی خاتمہ کر دیا اور ایک جدید سیکولرریاست تشکیل دی۔

متعلقہ مضامینترميم