تفسیر کبیر

مفاتیح الغیب

التفسیر الکبیر امام ابو عبداللہ محمد فخر الدین رازی ولادت 544ھ وفات 606ھ کی عربی تفسیر قرآن جس کا اصل نام "مفاتیح الغیب" ہے جو امام محقق فخر الدین ابن خطیب الرازی شافعی کی تفسیر ہے۔ مشکلاتِ قرآن میں سے کوئی مشکل ایسی نہیں مگر اس کا حل امام موصوف نے اس تفسیر میں فرمانے کی سعی نہ کی ہو۔ رازی حل مشکلات کے دریا میں غوطہ زنی کرتے ہیں اگرچہ بعض مشکلات کا وہ قابل اطمینان اور موجب قناعت حل پیش کرنے میں ظفر یاب نہیں بھی ہوتے ہیں۔ تفسیر کبیر کی اہمیت سے اہلِ علم واقف ہیں، رازی چھٹی صدی ہجری کے عالم ہیں، ان پر معقولات کا غلبہ تھا، تفسیر میں بھی وہی رنگ ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور نام محمد ہے، ان کے والد مرحوم ضیاء الدین عمر خطیب سے معروف تھے، وہ بھی بہت بڑے عالم اور صاحبِ تصنیف تھے۔ تفسیر کبیر میں مسائل کو دلائل کے ساتھ لکھا گیا ہے، آیت پر ہونے والے امکانی سوال قائم کرکے جواب تحریر کیا گیا ہے، زبان بھی کافی عمدہ ہے۔ آٹھ نو سوسال کے بعد بھی مقبولیت میں کمی نہیں آئی اور نہ اس کے مماثل کوئی دوسری تفسیر تصنیف کی جا سکی ہے۔

فقہی مسائل میں شافعی مسلک کی ترجمانی ہوتی ہے۔ اس تفسیر میں معتزلہ، جبریہ، قدریہ اور رافضیہ کا بہت رد کیا گیا ہے۔ آیات کا شان نزول بیان کیا گیا ہے اور احادیث کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آیات سے عمدہ اور نفیس نکات کا استنباط کیا گیا ہے۔[1] اس تفسیر میں آیات قرآنی کے باہمی ربط کی تشریح بڑے دل نشین انداز سے کی گئی ہے۔ اغلب یہی ہے کہ امام فخر الدین رازی نے سورہ فتح تک کی تفسیر خود لکھی ہے اور باقی تفسیر قاضی شہاب الدین بن خلیل الخولی الدمشقی متوفی 639ھ یا شیخ نجم الدین احمد بن محمد القمولی متوفی 777ھ نے لکھی ہے۔[2]

تراجم

ترمیم

دو نامکمل ترجمے دار العلوم دیوبند کے کتب خانہ میں ہیں:

  • (الف) مولانا خلیل احمد صاحب، اسرائیلی کا ہے، اس کا نام ’’سراجِ منیر‘‘ ہے۔
  • (ب) مولانا مرزا حیرت کی سرپرستی میں شائع ہوا ہے۔
  • مفتی محمد خان قادری نے فضلِ قدیر کے عنوان سے اس تفسیر کا مکمل اردو ترجمہ کر دیا ہے

حوالہ جات

ترمیم
  1. تبیان القرآن، جلد اول، مقدمہ تفسیر
  2. معارف القرآن، جلد اول، مقدمہ