محمد تقی الدین بن ابراہیم بن مصطفی بن اسماعیل بن یوسف النبہانی (1909ء – 11 دسمبر، 1977ء) جو تقی الدین النبہانی کے نام سے معروف ہے، یروشلم کے ایک عالم دین[1] جنھوں نے 1953ء کے آغاز میں ایک اسلام پسند سیاسی جماعت حزب التحریر کی بنیاد رکھی۔

محمد تقی الدین بن ابراہیم بن مصطفی بن اسماعیل بن یوسف النبہانی
پیدائش1909ء
اجزم، تاریخ فلسطین
وفات11 دسمبر، 1977ء
وفاداریحزب التحریر

زندگی

ترمیم

سنہ 1909ء انتداب فلسطین کے شمال میں واقع حیفا سے قریب ایک گاؤں اجزم میں تقی الدین النبہانی کی پیدائش ہوئی، النبہانی کا تعلق قبیلہ نبہان سے تھا۔ ان کے والد فقہ کے عالم تھے اور ان کی والدہ بھی عالمہ تھیں۔[2] النبہانی نے جامعۃ الازہر قاہرہ کے دار العلوم کالج میں فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1931ء میں عالمیت کی سند حاصل کر کے واپس فلسطین پہنچے، جہاں وہ پہلے ایک مدرس اور بعد ازاں قاضی رہے۔[2] ریاست اسرائیل کے قیام، عرب اسرائیل جنگ 1948 اور فلسطین پر یہودی قابض ہو جانے کی وجہ سے انھوں نے 1953ء کے اوائل میں حزب التحریر کی بنیاد رکھی۔ لیکن اردن میں اس جماعت پر فوراً پابندی عائد کر دی گئی۔

پابندی کے باوجود شیخ تقی الدین نبہانی نے اپنا سیاسی کام جاری رکھا اور تنظیمی سرگمیاں کئی ممالک تک پھیلا دی۔ اس دوران وہ خود بھی اردن، لبنان، عراق، شام، مصر اور ترکی میں سفر کرتے رہے۔ اسلامی انقلاب کی کوشش کی وجہ سے مختلف ممالک کے سکیورٹی ادارے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتے رہے ، 1973 میں اسی طرح کے ایک دورے میں ان کو عراق میں گرفتار کیا گیا۔[3]

اردن میں حکومتی مخالفت بڑھنے کے بعد انھوں نے لبنان کے شہر بیروت کو اپنا مرکز بنا کر وہی رہائش اختیار کرلی۔ مسلم دنیا میں خلافت کے حوالے سے سب سے پہلی اور منظم جماعت کو قائم کرنے والے تقی الدین نبہانی کا انتقال 20 دسمبر 1977ء کو ہوا۔[2] جس کے بعد ان کی تدفین بیروت کے الأوزاعي قبرستان میں کی گئی۔

سیاسی فلسفہ

ترمیم

النبہانی کا خیال تھا کہ معاصر دنیا میں مسلمانوں کی شکستہ سیاسی صورت حال کی اصل وجہ 1924ء میں خلافت اسلامی کی غیر موجودگی ہے۔ نیز سلطنت عثمانیہ کا اجتہاد کے دروازے کو بند کرنا اور عربی زبان کو نظر انداز کرنا بھی اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔[4]

اثر اندازی

ترمیم

مسلم دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں تقی الدین نبہانی کی قائم کردہ تنظیم نے اپنی شاخ نہ بنائی ہو، آج بھی حزب التحریر 40 سے زائد مسلم ممالک اور کئی مغربی ممالک میں قائم ہے جہاں ارکان کی بنیادی تربیت اسی فکر پر رکھی جاتی ہے جو تقی الدین نبہانی نے اپنی کتب میں بیان کی۔ [5]

کتابیں

ترمیم

شیخ تقی الدین نبہانی نے اپنی زندگی میں کئی کتابیں لکھی جن میں سب سے زیادہ مقبول 1953 میں عربی میں لکھی گئی نظام الاسلام ہوئی جس کا ترجمہ انگریزی، روسی، اردو، فارسی، جرمن، مالے، بھاشا انڈونیشیا، ازبک، قازق، ترکمن، بنگالی، ولندیزی اور دیگر کئی زبانوں میں کیا جاچکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کتاب کا عالمی اسلامی جماعت حزب التحریر کے بنیادی لٹریچر میں شامل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ تقی الدین نبہانی نے دیگر کئی کتابیں لکھی:

  • نظام الإسلام
  • التكتل الحزبي
  • مفاهيم حزب التحرير
  • النظام الاقتصادي في الإسلام
  • النظام الاجتماعي في الإسلام
  • نظام الحكم في الإسلام
  • الدستور
  • مقدمة الدستور
  • الدولة الإسلامية
  • الشخصية الإسلامية في ثلاثة أجزاء
  • مفاهيم سياسية لحزب التحرير
  • نظرات سياسية
  • نداء حار
  • الخلافة
  • التفكير
  • سرعة البديهة
  • نقطة الانطلاق
  • دخول المجتمع
  • تسلح مصر
  • الاتفاقيات الثنائية المصرية السورية واليمنية
  • حل قضية فلسطين على الطريقة الأميركية والإنكليزية
  • نظرية الفراغ السياسي حول مشروع أيزنهاور
  • بالإضافة إلى آلاف النشرات الفكرية، والسياسية، والاقتصادية

بعد میں جب تقی الدین نبہانی کی کتابیں شائع کرنا مشکل ہو گئی تو انھوں نے کتابیں دیگر ناموں سے شایع کی۔[6]

گرچہ حزب التحریر کو جن ممالک میں وہ قائم ہے زیادہ مقبولیت میسر نہیں ہوئی، لیکن تقی الدین النبہانی کی تحریریں معاصر اسلام پسند ادب کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔[7]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Umm Mustafa (28 February 2008)۔ "Why I left Hizb ut-Tahrir"۔ New Statesman۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2015 
  2. ^ ا ب پ Marshall Cavendish Reference۔ Illustrated Dictionary of the Muslim World۔ Marshall Cavendish.۔ صفحہ: 124۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2015 
  3. "Founder of Hizb ut Tahrir"۔ Hizb Ut Tahrir Central Media Office۔ 12 اپریل 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2020 
  4. Christopher Flood,، Galina Miazhevich,، Stephen Hutchings,، Henri Nickels، مدیران (2012)۔ Political and Cultural Representations of Muslims: Islam in the Plural۔ BRILL۔ صفحہ: 29۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2015 
  5. Saad Hasan (8 September 2017)۔ "The lingering shadow of Hizb-ut-Tahrir"۔ TRT World۔ TRT۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2020 
  6. authorlink authorlink (2 FEBRUARY 2014)۔ "تقي الدين النبهاني، الشيخ المؤسس"۔ hizb-ut-tahrir۔ حزب التحریر المکتب الاعلالمی المرکزی۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 اپریل 2020 
  7. C.E. Bosworth، E. van Donzel، W.P. Heinrichs، G. Lecomte، P.J. Bearman، Th. Bianquis (2000)۔ Encyclopaedia of Islam (New Edition)۔ Volume X (T-U)۔ Leiden, Netherlands: Brill۔ صفحہ: 133۔ ISBN 9004112111