جامعہ العلوم الاسلامیہ

جامعہ علوم اسلامیہ پاکستان کے شہر کراچی کے بنوری ٹاؤن میں واقع ہے۔ اس کی بنیاد 1954ء میں محدث العصر حضرت مولانا علامہ سید محمد یوسف بنوری الحسینی رحمہ اللہ نے رکھی۔ جامعہ کا مقصد ایسے علمائے کرام پیدا کرنا ہے جو کمال علم کے ساتھ تقوی وللہیت کے زیور سے آراستہ ہوں، تاکہ دین اسلام کی حفاظت، اس کی نشرواشاعت کے ساتھ امت مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف صحیح رہنمائی کی جاسکے۔ درجن کے قریب شاخوں سمیت طلبہ کی تعداد دس ہز ار سے زیادہ ہے، طلبہ کے لیے قیام وطعام کے ساتھ علاج کی سہولت بھی میسر ہے، جامعہ میں شوروی نظام ہے۔ شخصی نہیں۔

جامعہ العلوم الاسلامیہ
جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری تاون، کراتشی
Jame'at Ul-uloom ul Islamia, Banori town, Karachi
قسمجامعہ اسلامیہ
قیام1954ء (1374 اسلامی تقویم)
بانیمحمد یوسف بنوری
الحاقدار العلوم دیوبند
چانسلرعبدالرزاق اسکندر
وائس چانسلرسید سلیمان یوسف بنوری
طلبہ12,000 (کل)[1]
پتہعلامہ بنوری ٹاؤن، کراچی 5، کراچی، پاکستان
کیمپسشہری علاقہ
وابستگیاںوفاق المدارس العربیہ پاکستان
ویب سائٹ[1]

یہ دار العلوم دینی تعلیم کے حوالے سے کراچی کی صف اوّل کی درسگاہ شمار ہوتی ہے۔ مولانا یوسف بنوری اس کے بانی تھے۔اس دار العلوم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی جیسے نامور علما اس ادارے سے منسلک رہے ہیں۔

دارلاقامہترميم

دار العلوم میں کئی ہزار طلبہ کو رہائش کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے طالبان علم یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔

دارالافتاءترميم

دینی ودنیاوی رہنمائی کے لیے جامعہ میں دارالافتاء بھی قائم ہے جہاں مفتیان کرام شریعت کی روشنی میں عوام الناس کے دینی و دنیاوی مسائل کا حل تجویز کرتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Archived copy". 05 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2010.