حشمونی سلطنت یا سلطنت حشمونیہ (عبرانی :חַשְׁמוֹנַּאִים، عربی: السلالة الحشمونية، انگریزی: Hasmonean dynasty) زمانہ قدیم میں یہوداہ اور اس کے مضافات پر حکمران ایک نیم خود مختار سلسلہ شہنشاہی تھا جس نے 160 قبل مسیح سے لے کر 116 قبل مسیح تک سلوقیوں کے زیر خراج یہوداہ پر حکومت کی۔ سلسلہ حشمونی 110 قبل مسیح میں سلطنت سلوقیہ کے زوال کے بعد خود مختار و مستقل ہو گیا اور اپنی ریاست کی حدود میں مضافات مثلاً سامیریا، گلیل، اطوریا، پیریا اور ادومیا کو بھی شامل کرکے سلطنت کو مزید وسیع کر لیا اور باسیلوس (بادشاہ یا سلطان) کا خطاب اختیار کیا۔ عصر حاضر کے کچھ محققین اس عہد کو آزاد سلطنت اسرائیل قرار دیتے ہیں۔ سنہ 63 قبل مسیح میں اسے رومیوں نے فتح کر لیا اور سلطنت کے ٹکڑے کر کے اس کو جمہوریہ روم کے تحت کئی صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ سلطنت حشمونی 103 برس تک قائم رہی تاوقتیکہ 37 قبل مسیح میں سلطنت ہیرود نے ان لوگوں کو فتح کر لیا جو ایک جابر اور خود مختار حکومت تھی۔ درحقیقت وہ ظاہراً خود مختار اور عملاً شاہزادہ روم کے احکامات کے پابند تھے۔[3]

حشمونی سلطنت
ממלכת החשמונאים
مملکت ھا حشمونیئم
140 ق م–37 ق م
حیثیتسلوقی سلطنت تابعدار (140–110 ق م)
آزاد سلطنت (110–63 ق م)
رومی جمہوریہ کی اسامی ریاست (63–40 ق م)
سلطنت اشکانیان کی اسامی ریاست (40-37 ق م)[1][2]
دار الحکومتیروشلم
عمومی زبانیںقدیم عبرانی، قدیم آرامی (سرکاری)، کوئنے یونانی
مذہب
ہیکل دوم کی یہودیت
حکومتحکومتِ الہٰیہ کی ملوکیّت
کاہن، بعد میں باسیلیوس 
• 140–135 ق م
Simon Thassi
• 134 (110)–104 ق م
John Hyrcanus
• 104–103 ق م
Aristobulus I
• 103–76 ق م
Alexander Jannaeus
• 76–67 ق م
Salome Alexandra
• 67–66 ق م
Hyrcanus II
• 66–63 ق م
Aristobulus II
• 63–40 ق م
Hyrcanus II
• 40–37 ق م
Antigonus
مقننہابتدائی سنہیڈرن
تاریخی دورہیلینیائی دور
167 ق م
• 
140 ق م
• مکمل آزادی
110 ق م
• پومپی حشمونی خانہ جنگی میں حائل ہوا
63 ق م
• اشکانی حملہ
40 ق م
• 
37 ق م
کرنسیحشمونی تسکیک
ماقبل
مابعد
کھوکھلی سوریہ
ہیرودیسی سلطنت
موجودہ حصہ اسرائیل
 اردن
 لبنان
 سوریہ
 مصر
 فلسطین

سلطنت حشمونی شمعون مکابی کی قیادت میں اس کے بھائی یہوداہ مکابی (יהודה המכבי یہوداہ ھا مکابی) کی انقلاب مکابیین میں سلوقی فوج کو شکست دینے کے دو دہائیوں بعد قائم ہوئی تھی۔

حشمونی کاہن تھے لیکن ان کے اعمال آداب کہانت کے مطابق نہ تھے؛ لہذا بحیثیت مجموعی یا قومی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے قانون قدیم کی پاسداری زیر تشریحات آداب کہانت و کردار کہانت مذہبی کی تھی یا کرتے رہے تھے۔ اسی وجہ سے فریسی نہیں چاہتے تھے کہ شاہ حشمونی سکندر یانیوس کاہن اعظم بھی ہو بلکہ انھوں نے اس سے کہا کہ تم صرف بادشاہ رہو یا دوسرے لفظوں میں اسے بتا دیا گیا کہ صرف حکومت کرو، مذہبی اجارہ داری نہیں۔[4]

نگار خانہ

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Neusner 1983, p. 911.
  2. Vermes 2014, p. 36.
  3. Leon James Wood, David O'Brien, A survey of Israel's history، Zondervan, 1986
  4. باشگاہ اندیشہ: نظریہ سیاسی در تورات و تلمود آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ bashgah.net (Error: unknown archive URL)۔ بازدید: مہ 2015.