راجا رام راجے بھونسلے (24 فروری 1670ء – 3 مارچ 1700ء بمقام سنھ گڑ)[1] مرہٹہ سلطنت کے بانی، چھترپتی شیواجی کے بیٹے اور سمبھاجی کے سوتیلے بھائی تھے۔ سنہ 1689ء میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں اپنے بھائی کی وفات کے بعد راجا رام مرہٹہ سلطنت کے تیسرے چھترپتی بنے۔ ان کا عہد حکومت بہت مختصر رہا اور اس عرصے میں وہ مغلوں کے ساتھ ہی مصروف پیکار رہے۔

راجا رام اول
راجا رام اول
Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت کے تیسرے چھترپتی
معیاد عہدہ11 مارچ 1689– 3 مارچ 1700
پیشروسمباجی
جانشینشیواجی دوم
شریک حیات
نسل
خاندانبھونسلے
والدشیواجی
والدہسوئیرا بائی
پیدائش24 فروری 1670(1670-02-24)
قلعہ راج گڑھ
وفات3 مارچ 1700(1700-30-30) (عمر  30 سال)
قلعہ سنھ گڑ، مہاراشٹر
مذہبہندو مت

ابتدائی زندگی اور خاندانترميم

راجا رام 24 فروری 1670ء کو پیدا ہوئے، وہ اپنے بھائی سمبھاجی سے تیرہ برس چھوٹے تھے۔ اپنے والد شیواجی کی وفات کے بعد سنہ 1680ء میں مرہٹہ سلطنت کے تخت پر بیٹھے۔ تاہم سمبھاجی نے مرہٹہ جرنیلوں کو اپنے ساتھ ملا کر تخت کا دعویٰ کیا۔ راجا رام اور ان کی والدہ قید کر دیے گئے اور ان کے مشیروں کو برخاست کر دیا گیا۔ راجا رام سنہ 1689ء تک سمبھاجی کے قید میں رہے، بعد ازاں مغلوں نے سمبھاجی کو گرفتار کرکے قتل کر دیا اور ان کے خاندان کو قید کرکے لے گئے۔ چنانچہ پھر راجا رام مرہٹہ سلطنت کے جانشین اور اس کے چھترپتی بنے۔[2]

راجا رام نے تین دفعہ شادی کی۔ پہلی شادی دس برس کی عمر میں جانکی بائی سے ہوئی جو شیواجی کے سپہ سالار پرتاپ راؤ گوجر کی پانچ سالہ بیٹی تھی۔[3] دوسری بیوی تارا بائی تھیں جو پرتاپ راؤ کے جانشین سپہ سالار ہمبی راؤ موہتے کی بیٹی تھیں۔ تیسری شادی راجس بائی سے ہوئی جو کاگل کے بااثر گھاٹگے خاندان سے تھی۔ راجا رام کے تین بیٹے تھے۔ راجا کرن جو ایک باندی سے تھے، شیواجی دوم تارا بائی سے اور سمبھاجی دوم راجس بائی سے ۔[4]

وفاتترميم

راجا رام پھیپھڑوں کے کسی مرض میں مبتلا ہوئے اور پونہ سے قریب واقع سنھ گڑ میں 1700ء کو وفات پائی۔ ان کی بیواؤں میں سے امبیکا بائی[5] نے اپنے شوہر کی وفات پر ستی کیا۔[6] ان کی دوسری بیگم تارا بائی نے اپنے فرزند شیواجی دوم کو تخت پر بٹھایا اور خود نائب السلطنت بنیں۔ تاہم اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد ان کے جانشینوں نے شاہو مہاراج کو آزاد کر دیا تو تخت کے حصول کے لیے تارا بائی اور شاہو میں ٹھن گئی۔ بالآخر شاہو مہاراج فتحمند رہے اور تخت پر متمکن ہوئے۔[7][8][9]

حوالہ جاتترميم

  1. Majumdar, R.C. (ed.) (2007). The Mughul Empire, Mumbai: Bharatiya Vidya Bhavan, سانچہ:Listed Invalid ISBN, p.296
  2. Mehta، J. L. (2005). Advanced study in the history of modern India, 1707-1813. Slough: New Dawn Press, Inc. صفحہ 45-52. ISBN 9781932705546. 
  3. Mehta، J. L. (2005). Advanced study in the history of modern India, 1707-1813. Slough: New Dawn Press, Inc. صفحہ 51. ISBN 9781932705546. 
  4. Pati، Biswamoy (editor)؛ Guha، Sumit؛ Chatterjee، Indrani (2000). Issues in modern Indian history : for Sumit Sarkar. Mumbai: Popular Prakashan. صفحات 29,30. ISBN 9788171546589. 
  5. Gokhale، Kamal. Rajaram Chhatrapati in Marathi Vishwakosh. Wai, Maharashtra India: Marathi Vishwakosh. 
  6. Feldhaus، ed. by Anne (1996). Images of women in Maharashtrian literature and religion. Albany: State University of New York Press. صفحہ 183. ISBN 978-0791428375. 
  7. mehta، JL (1981). Advanced study in the history of medieval India. Sterling Publishers Pvt. Ltd. صفحہ 562. ISBN 978-81-207-1015-3. 
  8. Cox, Edmund Charles. A short history of the Bombay Presidency. Thacker, 1887, pages 126-129.
  9. Thompson، Edward؛ Garratt، G.T. (1999). History of British rule in India. New Delhi: Atlantic Publishers. صفحہ 56. ISBN 81-7156-803-3.