رانجھا، جٹ قبیلہ ہے۔ پاکستان میں اس ذات کے افراد بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ہیر رانجھا کی کہانی دریائے چناب کے گرد میں گھومتی ہے۔ اس کہانی میں رانجھا کا اصل نام دتو تھا جو رانجھا قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے رانجھا مشہور ہوا۔ ان کے عشق کی داستان لا زوال ہے۔ رانجھا قوم جٹ قبیلہ ہے جو محمد بن قاسم کے ہمراہ سند پر حملہ آور ہوئے تھے انھوں نے پنجاب سندھ کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا اور یہاں اپنی نسل کو پروان چڑھایا یہ وہ واحد جٹ قبیلہ ہیں جنھوں نے سب سے قبل اسلام کو قبول کیا تھا۔ تاریخ کے مطابق جٹ قبائل خاص طور پر رانجھا قوم سیدنا اکرمہ رضی اللّٰہ عنہ کی اولاد ہیں جو ابو جہل کے بیٹے تھے۔ آپ رضی اللّٰہ عنہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی قریبی صحابی ہیں ۔۔[1] قبیلہ رانجھا خود کو قریشی النسل کہتا ہے۔۔ان کی تاریخ کے مطابق وہ صحابی رسول ﷺ اكرمہ رض کی نسل پاک ہیں۔ جو ابو الحکم عمرو بن حشام المخزومی القرشی یعنی ابو جهل کے بیٹے تھے۔ یاد رہے ہیر رانجھا کہانی میں جو رانجھا ہے وہ بھی اسی قبیلے سے تھا جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ رانجھا قبیلے کے بزرگوں کی تاریخ کے مطابق امیر شام امیر معاویہ کے دور حکومت میں مولا علی ع کے ماننے والوں کو چن چن کر قتل کیا جانے لگا اور ان پر زمین تنگ کردی گئی۔ ان کے بعد ان کے پیارے بیٹے یزید نے بھی ایسا ہی کیا بلکہ انسے چار ہاتھ آگے نکل گیا۔ اسی ظلم کی کڑی واقعہ کربلا ہے جو شاید ہی ہم میں سے کسی کو نہ پتا ہو۔ اب اس ظالمانہ دور میں حق پر قایم رہنا مشکل تھا چنانچہ بنو امیہ کے ظلم سے بچنے کے لیے ہجرتیں شروح ہوئیں۔ انہی مہاجرین میں سے قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والا ابوزر نامی شخص بھی تھا۔ جو اپنے كنبے کے ہمرا جان بچا کر موجودہ پاکستان کے علاقے بلوچستان کے گاؤں لسبیله اگیا۔ اس شخص ابوزر  کا تعلق حضرت اکرمہ بن ابو جهل رض کی نسل پاک سے تھا۔ لسبیلا آکر انھوں نے سارا ماجرا سنایا کہ کیسے وہ عشق بنی ھاشم، عشق اہل بیت اور شیعان مولا علی ع ہونے کی پاداش میں اموی ظلم و ستم کا نشانہ بنے اور جان بچا کر یہاں آے۔ ان کی رداد سے متاثر مقامی لوگوں نے ان کے لیے بڑی همدردی دکھائی یہاں تک کہ اک مقامی حاکم نے ان کو اک بہت بڑی جاگیر بھی عطاء کردی۔ یہاں ابوزر کا خاندان پھلا پھولا اور اسی کی نسل سے اک شخص رونجھا خان پیدا ہوا اور آگے اس کا بیٹا ہزرو خان پیدا ہوا۔ اس دور میں اک مقامی گونگا نامی قبیلہ سامنے آیا جنكی لڑائی هزرو خان سے ہوئی۔ کیوں کہ وہ مقامی قبیلہ تھا اس لیے غالب تھا لہٰذا هزرو خان نے ہجرت کی اور موجودہ پنجاب کے شہر گجرات میں دریا کنارے آکر آباد ہو گیا۔ کیوں کہ اس قبیلہ یعنی رانجھا قریشی قبیلہ کے ساتھ نسبت رسول ﷺ تو تھی ہی اس کے ساتھ ہی ساتھ مولا علی ع کے شیعہ میں سے بھی تھے لہٰذا لوگ ان کے گرویدہ ہو گئے اور گجرات میں بھی ان کو تحفہ کے طور پر بہت بڑی جاگیر مل گئی۔ یہاں ان کی کافی تعداد ہو گئی اس وقت ان کے قبیلے کو رجہ قریشی کہتے تھے۔ لکن جیسے ہمیں معلوم ہے دریا رخ موڑتے ہیں تو یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور زمین اتنی زرخیز نہ رہی لہٰذا یہاں سے بھی ہجرت کرنی پڑی۔ لہٰذا گجرات سے سرگودها آبسے۔ یہ دور غیاث الدین بلبن کا تھا۔ اس قبیلے کے افراد نے سرکاری عھدے قبول کیے اور کرسی نشین بن گئے۔ ایسا ہونے کی دیر تھی کہ خوب جاگیریں بھی بنا لیں اور امیر تر ہو گئے۔ جلد ہی ان کی جاگیر خود مختار ہو گئی اور اس علاقے کا نام تخت ہزارہ رکھدیا۔ ہزارہ لفظ ان کے جد هزرہ خان کے نام سے آتا ہے۔ اس دور میں ان کے قبیلے میں موجدار خان پیدا ہوا جسے موجو رانجھا بھی کہتے ہیں

موجدار خان نے بہلول لودھی کا دور حکومت پایا۔ موجو رانجھا یا موجدار خان کا بیٹا تیدو رانجھا ہوا۔ یہ وہ رانجھا ہے جس کا قصہ ہم ہیر رانجھا کے نام سے سنتے ہیں۔ رانجھا قریشی قبیلے پر اللّه کا بہت احسان و کرم ہے جو شروح سے آج تک عزت و سربلندی انکا مقدر رہی ہے۔ یہاں یہ بات کرنا بھی ضروری ہے کہ زمین دار ہونے کی وجہ سے ان کو جاٹ یا جٹ بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں صوبہ پنجاب میں آباد ہے۔ اکثریت اپنے نام کے ساتھ چودھری، جٹ اور رانجھا لکھتی ہے۔ لکن اب قریشی لکھنے کا رجهان بھی دیکھا گیا ہے۔

علاقے ترمیم

  • مڈھ رانجھا (ضلع سرگودھا)

° میانوال رانجھا (ضلع منڈی بہاؤ الدین)

° دھول رانجھا (منڈی بہاؤ الدین)

° نین رانجھا (منڈی بہاؤ الدین)

شخصیات ترمیم

  • سابق صدر ڈسٹرکٹ بار محمود پرویز رانجھا (منڈی بہاؤ الدین)
  • محسن شاہنواز رانجھا (ن لیگی سیاسی رہنما)
  • میو ہسپتال کے میڈیکل سپریڈنٹ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا (سماجی کارکن)
  • میاں مناظر حسین رانجھا (ضلع سرگودھا/ رکن پنجاب اسمبلی)
  • امتیاز احمد رانجھا سابق MPA(منڈی بہاؤ الدین)

مزید دیکھیے ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. H. A Rose (1997)۔ A Glossary of the Tribes and Castes of Punjab۔ Atlantic Publishers & Distributors۔ ISBN 81-85297-68-1