راکھال داس بینرجی

راکھال داس بینرجی (Rakhaldas Banerji / Rakhaldas Bandyopadhyay) (ہندی: राखालदास बनर्जी) جنہیں عام طور پر آر ڈی بینرجی کے نام سے جانا جاتا ہے ایک ہندوستانی مورخ تھے۔ انہیں ہڑپہ تہذیب کے مقام موئن جو دڑو کی دریافت کے لیے جانا جاتا ہے۔[1]

راکھال داس بینرجی
Rakhaldas Bandyopadhyay
Rakhaldas Bandyopadhyay.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 12 اپریل 1885(1885-04-12)
بہرام پور، ضلع مرشداباد، بنگال پریذیڈنسی، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
وفات 23 مئی 1930(1930-50-23) (عمر  45 سال)
کولکاتہ، بنگال پریذیڈنسی، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
قومیت برطانوی ہندوستانی
زوجہ کمچن مالا دیوی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مؤرخ، ماہر آثار قدیمہ
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت بنارس ہندو یونیورسٹی،  جامعہ کلکتہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کتابیاتترميم

  • Bhattacharya, Asok K. (1999). Rakhaldas Bandyopadhyay, Delhi: Sahitya Akademi, ISBN 81-260-0848-2
  • Dasgupta, Kalyankumar (ed.) (1990). Shatabarsher Aloy Rakhaldas Bandyopadhyay (in Bengali), Kolkata: Sharat Samiti.
  • Bandyopadhyay, Umesh, Abhishapta Rakhaldas, Kansai Shilai (Bengali Journal), April–September issue 2005, Calcutta.
  • Amitabha Bhattacharyya (2012)، "Bandyopadhyay, Rakhaldas"، بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal، Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (اشاعت Second۔)، Asiatic Society of Bangladesh 

حوالہ جاتترميم

  1. Humes، Cynthia Ann (2012). "Hindutva, Mythistory, ; Pseudoarchaeology". Numen. International Review for the History of Religions. 59: 178–201. JSTOR 23244958. doi:10.1163/156852712x630770.