رُبع (quadrant) ایک فلکیاتی آلہ ہے جو 90 درجے تک کے زاویے کو ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ طول بلد، عرض بلد اور وقت کی پیمائش کے لیے اِس کی مختلف اقسام استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے سب سے پہلے بطلیموس (Ptolemy) نے ایک اچھے قسم کے اصطرلاب کے طور تجویز کیا۔ بعد میں قرونِ وسطٰی کے مسلم فلکیاتدانوں نے اس کی کئی مختلف اقسام بنائیں۔ 18 ویں صدی عیسوی میں یورپ کی رصد گاہوں میں موقعی فلکیات (positional astronomy) (جسے کروی فلکیات (spherical astronomy) بھی کہتے ہیں۔) کے لیے دیواری رُبع (Mural quadrants) استعمال کیے جاتے تھے۔

وجہ تسمیہترميم

عربی زبان کے لفظ رُبع الدائرة کا مطلب دائرے کا چوتھا حصہ ہے۔ چونکہ دائرے میں 360 درجے ہوتے ہیں یوں دائرے کا چوتھائی حصہ 90 درجوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور آلہ رُبع بھی 90 درجے کی قوس پر مُشتمل ہوتا ہے۔ لفظ رُبع کے معنی ایک چوتھائی کے ہیں۔ چونکہ یہ آلہ، اسطرلاب (astrolabe) کے چوتھائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے رُبع کا نام دیا گیا ہے۔

تاریخترميم

ربع کا تصور تقریباً 150صدی عیسوی میں بطلیموس (Ptolemy') کی کتاب المجسطی (Almagest) میں ملتا ہے۔ جس میں اس نے آلہ پلینتھ (plinth) کی وضاحت کی ہے۔ جس کے ذریعے سورج اور چاند کا زاویہ ارتفاع (altitude) معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ آلہ دیوار یا پتھر کی سِل (جسے انگریزی میں plinth کہتے ہیں۔) پر نصب کیل پر مشتمل تھا جس کا سایہ سِل پر درج، درجہ دار قوس پر پڑتا تھا۔ یہ درجہ دار قوس 90 درجوں پر مشتمل تھی۔ جب وقت کے کسی بھی لمحے میں سورج یا چاند کا زاویہ ارتفاع معلوم کرنا مقصود ہوتا تو کیل کا سایہ دیوار یا سِل پر لگے درجہ دار قوس پر درج زاویے سے زاویہ ارتفاع کی پیمائش لے لی جاتی تھی۔ دراصل ربع، آلہ پلینتھ کی ہی تبدیل شدہ شکل ہے۔ آلہ پلینتھ، ربع کے برعکس بڑا اور کئی متحرک حصوں پر مشتمل تھا۔ بطلیموسی ربع (پلینتھ) اسطرلاب سے ماخوذ شدہ ہے۔ اور اس کا مقصد سورج کا زاویہ نصف النہار (meridian angle) معلوم کرنا ہے۔

قرون وسطٰی میں مسلم فلکیاتدانوں نے سمرقند (ازبکستان)، رے (ایران) اور مراغہ (ایران) کی رصدگاہوں میں ربع کو مزید بہتر بنایا۔ ابتدا میں یہ ربعے بہت بڑے اور ساکن ہوتے تھے جنہیں کسی بھی جرمِ سماوی کے زاویہ ارتفاع (altitude) اور السمت (azimuth) معلوم کرنے کے لیے کسی بھی سمت میں گھمایا نہیں جاسکتا تھا۔ قرونِ وسطٰی میں جیسے ہی مسلم فلکیاتدانوں نے فلکیاتی نظریات اور مشاہداتی دُرستی میں ترقی کی انہیں چار مختلف قسم کے ربع بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان میں سے پہلا جیب ربع (sine quadrant) ہے۔ جسے نویں صدی عیسوی میں بغداد میں پر عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ خوارزمی نے بیت الحکمت (House of Wisdom) میں ایجاد کیا۔ دوسرے تین ربعوں میں آفاقی ربع (universal quadrant)، ساعتی ربع (horary quadrant) اور اصطرلابی ربع (astrolabe quadrant) شامل ہیں۔

اقسامترميم

رُبع کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں۔

1. دیواری ربع (mural quadrant):

فلکیات میں دیواری آلات (mural instrument) ایسے زاویہ پیما آلات ہوتے ہیں جو کسی دیوار میں نصب ہوتے ہیں یا باقاعدہ دیوار میں بنائے جاتے ہیں۔ فلکیاتی مُشاہداتی مقاصد کے لیے ان دیواروں کی رُخ بندی اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ عین نصف النہار (meridian) پر واقع ہوں۔ ایسا دیواری آلہ جو صفر سے 90 درجے تک کے زاویے کی پیمائش کرتا ہو دیواری ربع کہلاتا ہے۔ انہیں قدیم مصر اور قدیم یونان میں فلکیاتی آلات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

2. ڈیوس ربع (Davis quadrant):

ڈیوس ربع (Davis quadrant) یا پشت عصا backstaff) ایک سمت رانی کا آلہ ہے جو اجسامِ سماوی کا زاویہ ارتفاع معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس سے سورج اور چاند کا زاویہ ارتفاع معلوم کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے سورج کا زاویہ ارتفاع معلوم کرنے کے لیے، اس کا استعمال کنندہ سورج کو پشت پر رکھتا ہے۔ بالائی سطح کے سائے کا مشاہدہ افقی سطح پر کیا جاتا ہے۔ اسے انگریز جہاز ران جان ڈیوس نے ایجاد کیا ہے جس کی وضاحت اس نے اپنی کتاب سیکریٹ آف سی مین (Seaman's) میں 1594 صدی عیسوی میں کی ہے۔ اس لیے اسے ڈیوس ربع (Davis quadrant) بھی کہا جاتا ہے۔

3. رُبع المجیّب (sine quadrant):

ربع کی ایک قسم ہے جو قرونِ وسطٰی کے مسلم فلکیات دان استعمال کرتے تھے۔ انگریزی میں اسے سائنکل کواڈرینٹ ("sinecal quadrant") کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ربع المجیب عربی زبان کے دو لفظوں ربع اور المجیب سے مل کر بنا ہے۔ ربع کا مطلب چوتھا حصہ یا چوتھائی ہے اور المجیب کا مطلب جیب (sine) ہے۔  اسے تکونیاتی مسائل (trignometric problems)، وقت کی پیمائش اور فلکیاتی مُشاہدات کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس آلے کو سماوی زاویے یا وقت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے  یا  کسی بھی وقت، کسی بھی فلکی جسم کا زاویہ ارتفاع یا ظاہری محلِ وقوع (apparent position) معلوم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے نویں صدی عیسوی میں مسلم فلکیات دان عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ خوارزمی نے بغداد میں ایجاد کیا اور یہ نویں صدی عیسوی میں رائج رہا۔

4. رُبع الاٰفاقیہ ( The universal quadrant):

اسے رُبع الشکازیہ (shakkāzīya quadrant) بھی کہتے ہیں۔ اس رُبع کی وضاحت مسلم فلکیات دان خلف بن شكاز الاندلسی نے اپنی کتاب صفيحة الشكازية میں کی ہے۔ یہ کسی بھی عرض بلد پر فلکیاتی مسائل کے حل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس رُبع کے ساتھ ایک یا دو شکازیہ کَٹھرے (shakkāzīya grids) بھی ہوتے ہیں جو چودھویں صدی عیسوی میں شام میں مرتب کیے گئے تھے۔ کچھ اصطرلاب آفاقی رُبع کی پشت پر نقش ہوتے ہیں۔ جیسے ابنِ سراج کا بنایا ہوا اصطرلاب۔

رُبع الساعت (horary quadrant):

رُبع الساعت، اجرامِ سماوی کی حرکت سے وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے سورج کی حرکت سے وقت کی پیمائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مساوی یا غیر مساوی گھنٹوں میں وقت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اس پر مساوی اور غیر مساوی گھنٹوں کے مختلف نشانات لگے ہوتے ہیں۔ مساوی گھنٹوں میں وقت کی پیمائش کے لیے ربع ساعت کسی ایک مخصوص عرض بلد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ غیر مساوی گھنٹوں کے لیے رُبع ساعت کسی بھی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رُبع المقنطر (almucantar quadrant):

اسے رُبع الاصطرلاب ( astrolabe quadrant) بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ اصطرلاب سے بنایا گیا ہے۔ اس رُبع پر عام اصطرلاب کی نصف پلیٹ کندہ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ رُبع کی اور کئی اقسام ہیں جن میں ربع المقنطر، ربع المقنطرات، ربع المجيب، ربع المقطوع، ربع الجامع، ربع التام، ربع الهلالي، ربع العلائي اور ربع المستتر، شامل ہیں۔