روہنگیا

تحریک اسلامی روہنگیا مسلمان

روہنگیا برما/میانمار کے علاقہ اراکان اور بنگلہ دیش کے علاقہ چاٹگام/چٹاگانگ میں بسنے والے مسلمانوں کا نام ہےـ صوبہ اراکان پر برمی تسلط کے بعد ظلم و تشدد کے دور سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں مسلمان تھائی لینڈ میں مہاجر ہو گئے۔ 28 مارچ 2008 کو تھائی وزیر اعظم سماک سندارواج نے کہا کہ "تھائی بحیریہ کوئی ویران جزیرہ ڈھونڈ رہی ہے تاکہ روہینگا مسلمانوں کو وہاں رکھا جا سکے۔ مہاتما بودھ کو دنیا میں امن کا سب سے بڑا پیامبر اور عدم تشدد فلسفے کا داعی سمجھا جاتا ہے اور آپ کی فکر ہے جس نے کسی جانور کو بھی قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی انسان کو قتل کیا۔ دنیا بھر میں آپ کے پیروکاروں کی تعداد قریباً 35 کروڑ ہے جو زیادہ تر ایشائی ممالک میں آباد ہیں۔ ان ممالک میں جاپان، جنوبی کوریا، لائوس، منگولیا، سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، بھوٹان اور میانمار شامل ہیں۔ جنوب مشرقی ایشائی ملک میانمار، جسے برما کے پرانے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1937ء تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر برطانیہ نے 1937ء میں اسے برصغیر سے الگ کرکے ایک علاحدہ کالونی کا درجہ دے دیا اور 1948ء تک یہ علاقہ بھی برطانوی تسلط کے زیر اثر رہا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی میانمار (برما) میں ہی جلاوطنی کے دن گزارنے پر مجبور کیا گیا اور آج بھی رنگون میں اس کی قبر مغل سلطنت کے زوال اور برطانوی سفاکیت کے نوحے سناتی نظر آتی ہے۔میانمار کی قریباً 5 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں 89 فیصد بودھ، 4 فیصد مسلمان (تقریباً ساڑھے 22 لاکھ)، 4 فیصد مسیحی، 1 فیصد ہندو اور 2 فیصد دوسری قومیں آباد ہیں۔ یہاں پر اسلام کی آمد کے آثار 1050ء سے ملتے ہیں جب اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی عرب مسلمان تجارت کی غرض سے برما آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ سات صوبوں کے اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت راکھین (رخائن) میں آباد ہے اور یہاں تقریباً 6 لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں جنہیں ’’روہنگیا‘‘ کہا جاتا ہے۔

روہنگیا قوم
Flag of the Rohingya Nation
کل آبادی
(1,424,000)
گنجان آبادی والے علاقے
میانمار (اراکان), بنگلہ دیش, ملائیشیا, پاکستان, سعودی عرب, تھائی لینڈ, بھارت
 برما800,000[1][2]
 بنگلادیش300,000[3]
 پاکستان200,000[4][5]
 تھائی لینڈ100,000[6]
 ملائیشیا24,000[7]
زبانیں
روہنگیا زبان
مذہب
اسلام

مسلم کشی تصویروں میں

ترمیم

روہنگیا نسل کے مظلوم مسلمان

ترمیم

اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں راکھین کے روہنگیا مسلمانوں کو ’’روئے عالم کی مظلوم ترین اقلیت‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق تو دور کی بات انھیں تو خود کو ملک کا شہری کہلانے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ میانمار غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کو شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ برمی بودھوئوں کا خیال ہے کہ چونکہ مسلمان یہاں غیر قانونی طور پر ہجرت کرکے آئے اس وجہ سے انھیں خود کو ملک کا شہری کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس لیے بار بار مسلمانوں کے خلاف میدان سجایا جاتا ہے تا کہ مسلمان یہاں سے واپس ہجرت کرکے اپنے ملکوں میں چلے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں پر پناہ لینے پر مجبورہوگئی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ان لوگوں کو نہ صرف شہریت دی بلکہ انھیں اپنے یہاں آباد بھی کیا۔ بے شمار روہنگیا بنگلہ دیش اور انڈیا کے راستے پاکستان میں آکر آباد ہوئے۔ ’’اراکان ہسٹوریکل سوسائٹی‘‘ کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت بھی دو لاکھ سے زائد برمی مسلمان کراچی میں آباد ہیں۔ برما کی تاریخ اُٹھا کر دیکھا جائے تو مسلمانوں پر اس طرح کی قیامتیں ٹوٹنے کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ 1559ء میں مذہبی عقائد کی آڑ میں جانور ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ عید الاضحی کے موقع پر بھی کسی مسلمان کو اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی جانور پر چھڑی چلا سکے۔ 1752ء میں بھی جانوروں کے ذبح پر پابندی لگا دی گئی۔ 1782ء میں تو بادشاہ ’’بودھاپایہ‘‘ نے پورے علاقے کے مسلمان علما کرام کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا اور انکار پر ان سب کو قتل کر دیا گیا۔ برما کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس واقعے کے بعد 7 دن تک برما کی سر زمین پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ جس پر بادشاہ نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، معافی مانگی پھر ظلم و ستم کی یہ داستان بڑھتے بڑھتے 1938 ء تک جا پہنچتی ہے جب برمی بودھ برطانوی فوجوں کے خلاف جنگِ آزادی لڑنے میں مشغول تھے تو گولیوں سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد مسلمانوں کا پہلا قتلِ عام 1962ء میں ہوا جب فوجی حکومت نے اقتدارسنبھالنے کے بعد مسلمانوں کو باغی قرار دے کر اُن کے خلاف آپریشن شروع کر دیا، جو وقفے وقفے سے 1982ء تک جاری رہا اور اس میں کم و بیش 1 لاکھ مسلمان شہید ہوئے اور اندازہً 20 لاکھ کے قریب مسلمان اس دور میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کی طرف ہجرت کر گئے۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982ء کے سیٹزن شپ قانون کے تحت روہنگیا نسل کے 8 لاکھ افراد اور برما میں موجود دوسرے دس لاکھ چینی و بنگالی، مسلمانوں کو شہری ماننے سے انکار کر دیا اور ان مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ جس وجہ سے وہاں رکنے والوں پر عرصہ حیات مزید تنگ ہو گیا۔ روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کی ایک تاریخ 1997ء میں بھی رقم کی گئی جب 16 مارچ 1997ء کو دن دیہاڑے بے لگام بودھ راکھین صوبے کے شہر’’مندالے‘‘ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں داخل ہو گئے اور مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانے لگے۔ گھروں، مسجدوں اور مذہبی کتابوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا جس کے بعد مسلمانوں نے دوسرے شہروں میں پناہ لی۔ اس فساد کی اگلی قسط 15 مئی سے 12 جولائی 2001ء کے دوران اس وقت دیکھی گئی جب بودھوئوں نے ایک مسجد پر حملہ کرکے عبادت میں مصروف نمازیوں کو قتل کر دیا اور اس فساد کے نتیجے میں 11 مساجد شہید، 400 سے زائد گھروں کو نذرِآتش اور کم و بیش 200 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ دنیا میں جب کبھی، کہیں بھی کسی نے اگر اسلام کے نام پر کوئی ظلم کیا تو اس کا شکار بے چارے روہنگیا مسلمان ہوئے۔ حتیٰ کہ جب طالبان کی طرف سے بامیان کے مجسموں کو نشانہ بنایا گیا تو اس وقت بھی روہنگیا مسلمانوں پر حملے کی خبریں سامنے آتی رہیں اور بودھ بھکشوئوں کی جانب سے مسلسل یہ ہی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ برمی حکومت کو انتقاماً برما میں موجود تمام مسجدوں کو ڈھا دینا چاہیے۔ 1962ء سے میانمار فوجی حکومت کے زیر اثر تھا۔ 2010ء میں الیکشن ہوئے جس کے نتیجے میں طویل آمریت کا یہ سورج 2011ء میں غروب ہوا اور ملک میں ایک جمہوری حکومت تشکیل دی گئی۔ اس دوران روہنگیا مسلمانوں نے بھی اپنے بنیادی انسانی حقوق اور شہریت کا مطالبہ دہرایا لیکن بڑی سختی کے ساتھ یہ آواز دبا دی گئی۔ مسلم کش فسادات کی ایک قسط مئی 2012ء میں بھی نشر ہوئی جب ایک بودھ لڑکی نے اسلام قبول کر لیا جس پر بودھ بہت رنجیدہ ہوئے اور لڑکی کو گھر بدر کر دیا، لڑکی نے مسلم آبادی میں پناہ لے لی۔ چند دن بعد اس لڑکی کی لاش ملی جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ مسلمانوں نے الزام لگایا کہ بودھوئوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اسے قتل کیا ہے جب کہ بودھوئوں نے تین مسلمان نوجوانوں کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ جس نے علاقے کے حالات کافی کشیدہ کر دیے۔ اس کے بعد 3 جون 2012ء کو بودھ بھکشوئوں نے زائرین کی ایک بس روکی اور اس میں سے عمرہ کی ادائیگی کرکے واپس آنے والے 10 مسلمان علما کو باہر نکال کرموت کے گھاٹ اتار دیا اور بس جلا دی۔ ساتھ ہی ساتھ بودھوئوں کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقوں پر بھی دھاوا بول دیا گیا۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس قتلِ عام پر بہت واویلا کیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ پہلے پہل تو مقامی حکومت کی جانب سے اسے صاف جھٹلا کر حیلے بہانے کیے جاتے رہے اور متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگادیا اور فوج بھیج کر صحافیوں کو فساد زدہ علاقوں سے نکال دیا گیا۔ مگر اگست 2012ء میں برطانوی ٹی وی چینل ’چینل فور‘ نے ایک دستاویزی رپورٹ نشر کی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح مسلمان، کیمپوں میں جانوروں والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں قریباً 10 ہزار مکانات کا ملبہ بھی دکھایا گیا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے پناہ گزین نے اپنی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق تشدد کی اس لہر میں کم از کم 80 ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدے دار ’نوی پلے‘ نے انتظامیہ کے سلوک و رویے کے حوالے سے بھی ایک رپورٹ دی کہ مقامی پولیس اور بے امنی پر قابو پانے کے لیے بھیجے جانے والی فوج بھی بے گناہ مسلمانوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ پھرجولائی 2012ء میں برطانوی نشریاتی ادارے نے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں پر ایک رپورٹ شائع کی جس میں اکثر نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں کومیانمار کی فوج نے قتل کیا۔ اکتوبر 2012ء میں جب مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے مسلمانوں کی مدد کے لیے میانمار میں دفتر کھولنے کی اجازت طلب کی تو میانمار کے صدر نے نہ صرف اجازت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس طرح کے دفاتر ’’لوگوں کی خواہشات‘‘ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ہیومن رائٹس واچ نے با رہا عالمی برادری کے سامنے بے شمار ٹھوس دستاویزی اور تصویری ثبوت پیش بھی کیے اور اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد روکنے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن ساری کوششیں بے سود رہیں۔ دوسری جانب میانمار کی عالمی شہرت یافتہ رہنما ’’آنگ سان سوچی‘‘ نے مسلمانوں کو ’’صبر‘‘ کی تلقین کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ’’رہنما کو مسائل کی بنیاد دیکھے بغیر کسی خاص مقصد کے لیے کھڑے نہیں ہو جانا چاہیے‘‘، انسانی حقوق کی تمام تنظیموں نے اس پر سوچی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انھیں اس قسم کے رد عمل پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔ پھر 2012ء میں عین عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجہ میں عید کے روز ہونے والے فساد میں 50 مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ویسے بھی جہاں انسانوں کا گلا کاٹا جا رہا ہو وہاں سنتِ ابراہیمی کی یاد میں جانور نہ کاٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور فرق پڑتا ہی کسے ہے،تمام عالم ہی چپ چاپ تماشا دیکھنے میں مصروف ہے۔ میانمار کی حکومت اور اس کا موقف کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میانمار کے صدر نے تو جولائی 2012ء میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ’’اس سارے مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ یا تو مسلمانوں کو ملک بدر کیا جائے یا پھر انھیں مہاجر کیمپوں میں منتقل کیا جائے‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے حکومت سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا با رہا مطالبہ کیا ہے مگر ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ ان عالمی اداروں کی کاوشوں سے فسادات کی تحقیقات کے لیے 2012ء میں مسلمانوں، بودھ، عالمی اور مقامی لوگوں پر مشتمل ایک کمیشن بھی تشکیل دیا گیا مگر عین وقت پر میانمار کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی قیادت میں کمیشن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ان فسادات میں ایک ٹھہراو سا آ گیا لیکن بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہ ٹھہراو ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھا کیونکہ اس کے بعد فسادات کی لہر راکھین سے نکل کر ملک کے سب سے بڑے شہر رنگون تک پہنچ گئی۔ اس تمام عرصے کے دوران متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگا رہا جبکہ مسلم ممالک اور انسانی حقوق کے دعوایدار ’’روز روز کی اس چک چک اور بک بک‘‘ سے تنگ آ چکے تھے۔ اسی دوران 2013ء میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے میانمار کے دو صوبوں میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی جبکہ ان کے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ بودھوئوں سے تو کسی کو کوئی گلہ بھی نہیں تھا کیونکہ وہ درست انداز میں گوتم بودھ کے فلسفے پر عمل کر رہے ہیں کہ آپ کا فلسفہ تھا جس نے کسی جانور کو بھی قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی انسان کو قتل کیا۔ بس ذرا سا سمجھنے کا فرق ہے کہ میانمار کے بودھ بھکشوئوں نے یہ سمجھ لیا جس نے کسی انسان کو قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی جانور کو قتل کیا۔ البتہ مسئلہ توروہنگیا مسلمانوں کا تھا کہ وہ کہاں جاتے، کس کو دکھڑے سناتے۔ شرع یہ کہتی ہے کہ جب تم پر زمین تنگ کردی جائے تو ہجرت کر جاؤ، روہنگیا ئی ہجرت کرکے بنگلہ دیش پہنچے جہاں پر ان کا گولیوں کے ساتھ استقبال کیا گیا، کئی مرگئے، کچھ زخمی ہوئے مگر مجال کہ کسی نے دنیا کے اس سوتیلے بچے کو جسے اس کا ملک بھی تسلیم نہیں کرتا، اپنانے میں ہامی بھری ہو۔ انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ، سنگا پور، سری لنکا، کون سا ایسا ملک تھا جہاں انھوں نے رحم طلب نگاہوں سے پناہ کی اپیل نہ کی ہو۔ وہ بھارت گئے مگر وہاں بھی رد عمل مختلف نہ تھا۔ یہ تو فطرتِ انسانی ہے کہ وہ مہمان کو بھی چند دن سے زیادہ قبول نہیں کرتی۔ اسی لیے بنگلا دیشی حکومت نے اپنا اصل رخ دکھلایا اور جو پناہ گزین بنگلہ دیش میں محصور تھے انھیں فوری طور پر بنگلہ دیش سے نکل جانے کو کہا۔ یہ ساڑھے تین ہزار افراد خدا کے سہارے کشتیوں میں بیٹھ کر نکل پڑے کہ شاید کوئی ان پر مہربان ہو جائے مگر یہ تو دنیا کے لیے ایک پنگ پانگ بال کی حیثیت رکھتے تھے، بنگلہ دیش نے بال کو ہٹ کیا تو یہ سری لنکا پہنچا، وہاں سے ہٹ ہوئے تو تھائی لینڈ، وہاں سے ملائیشیا، وہاں سے انڈونیشیا، وہاں سے سنگاپور۔ دنیا کو کیا فکر کہ یہ انسانوں کی بات ہو رہی ہے، ان کے بھی کچھ حقوق ہیں، سب کو اپنا بارڈر محفوظ اور پناہ گزین سے پاک چاہیے تھا۔ 2013ء میں پھر برما میں روہینگا مسلمانوں کے خلاف فسادات کیے گئے۔ [8]

"Myanmar accused of blocking aid to Rohingyas"۔ نیشن۔ 29 مارچ 2013ء۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ  </ref> میانمار کے دو صوبوں میں مسلمانوں پر دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔[9]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Marwaan Macan-Markar (June 15, 2012)۔ "Ethnic Cleansing of Muslim Minority in Myanmar?"۔ Inter Press Service۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2012 
  2. 729,000 (United Nations estimate 2009)
  3. "Myanmar Rohingya refugees call for Suu Kyi's help"۔ Agence France-Presse۔ June 13, 2012۔ 31 جنوری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2012 
  4. SRI On-Site Action Alert: Rohingya Refugees of Burma and UNHCR’s repatriation program - Burma Library
  5. From South to South: Refugees as Migrants: The Rohingya in Pakistan
  6. Irfan Husain (30 July 2012)۔ "Karma and killings in Myanmar"۔ Dawn۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اگست 2012 
  7. Jamil Maidan Flores (July 16, 2012)۔ "The Lady's Dilemma Over Myanmar's Rohingya"۔ Jakarta Globe۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2012 
  8. بی بی سی، 17 جنوری 2009ء، "Thailand's deadly treatment of migrants "
  9. "Burmese Muslims given two-child limit"۔ گارجین۔ 25 مئی 2013ء۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ