سرائے عالمگیر

اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ سراۓ
(سرائے عالمگير سے رجوع مکرر)

سرائے عالمگیر، (انگریزی: Sarai Alamgir) ضلع گجرات، پاکستان کا ایک شہر اور تحصیل ہے۔ یہ دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر جہلم شہر کے ساتھ واقع ہے۔ اپر جہلم نہر سرائے عالمگیر کے مشرق میں ہے،یہ بہت ہی پر کشش علاقہ ہے۔ جگو ہیڈ، قصبہ ڈھوک مرید(گجرات)، انور پور، مڑھی کنارہ، کریالی، دندی دارہ، بلانی بیسہ، بلوبانی، باؤلی شریف ، تھلہ مندیال، پنڈ شیخ پور، ڈھوک کھجور، موہاڑی، سعادت پور، بھاگو شاہ پور، میرہ، شکریلہ شریف، معصوم پور، کھل خانپور، رشید پور، منڈی بھلوال، بکوہل جٹاں، بکوہل چباں، موہڑہ، کس پٹی، منڈی جٹاں ، ڈاک جٹاں، ڈاک چباں، ائمہ شاہ جی، ٹھل لڑ اور موجہ کھمبی، سمبلی ، مھے کلاں، مہے خورد اورنگ آباد، پوران،)چک نتھہ، تحصیل کا حصہ ہیں۔

سرائے عالمگیر
Jhelum River Bridge.JPG
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ تحصیل سرائے عالمگیر  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متناسقات 32°54′N 73°45′E / 32.9°N 73.75°E / 32.9; 73.75  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات پاکستان کا معیاری وقت  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
50000  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 1166073  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تاریخترميم

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا بسایا ہوا قصبہ دریاۓ جلہم کے کے باٸیں کنارے پر آباد ہے۔جس کی تاریخ تقریباً 350 سال پرانی ہے جسے مغلیہ سطنت کے چھٹے طاقتور بادشاہ عالمگیر نے سرحدی قباٸل کی بغاوت کو کچلنے کے لیے 1672ء سے 1675ء تک حسن ابدال میں قیام کے دوران بنوایا اور یہاں ایک سراۓ قاٸم کی مسجد بنواٸی درخت لگواۓ اور پانی کا بندوبست کیا۔ یہ ہی سراۓ بعد میں سراۓ عالمگیر کے نام سے مشہور ہوٸی بعد زاں یہاں ہندو سکھ بھی آباد رہے جنہوں نے یہاں مندر وغیرہ بنواۓ نہر اپر جہلم سرائے عالمگیر شہر کی ایک پہچان ھے، جو اپنے خوبصورت محل وقوع کی وجہ سے ایک شاندار پکنک سپاٹ بھی ھے، جس پر برطانوی دور کا بنا ھوا ریلوے پل خوبصورتی اور مضبوطی میں اپنی مثال آپ ھے، یہاں جرنیلی سڑک بھی ہے جس کے دونوں طرف شیشم کے درخت آج بھی پوری تاب کے ساتھ کھڑے ہیں گو کہ سڑک کو اب تارکول والی سڑک میں تبدیل کر دیا گیا ہے

بلحاظ تعليمترميم

تعلیم کے لحاظ سے اس گاؤں کے لوگ تعلیم یافتہ اور با شعور ہیں۔ یہاں دو بڑے اسکول ہیں، ایک سرکاری جبکہ دوسرا پرائیوٹ ہے۔ سرکاری اسکول میں میٹرک جبکہ پرائیویٹ اسکول میں ایف اے تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ دینی تعلیم کے لیے گاؤں میں ایک مسجد اور گاؤں سے چند قدم کی مسافت پر ایک دینی درسگاہ موجود ہے۔ یہ گاؤں فرقہ وارانہ ماحول سے بالکل پاک اور پر امن ہے۔

زراعت کے لحاظ سےترميم

زرعی لحاظ سے بھی اس گاؤں کی زمین زرخیز تصور کی جاتی ہے بارانی علاقے کی وجہ سے اس گاؤں، میں کاشت کاری قابلِ تعریف ہے فصلوں میں زیادہ تر یہاں گندم باجرہ جوار مکئی سروں اور تلی وغیرہ کی کاشت کی جاتی ہے گاؤں کے اردگرد موجود زمینیں ٹیوب ویلوں جبکہ بیرونی زمینوں کا آبی نظام بارش پر منحصر ہے۔

معاشی طور پرترميم

معاشی طور پر اس گاؤں کی صورت حال بہت اچھی ہے گاؤں کے کچھ افراد کے اپنے کاروبار جبکہ نصف سے زیادہ بیرون ملک مقیم ہیں۔ گاؤں کے زیادہ تر افراد یورپ اور کچھ خلیجی ممالک میں مُقیم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گاؤں کے بیشتر افراد کی سرکاری اداروں سے وابستگی ہے۔ گاؤں کے بیشتر نوجوان پاکستان آرمی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تک اس گاؤں کے ایک نوجوان محترم جناب شہید منگو خان نے دشمن سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

ضلع گجرات کی دیگر تحصیلیںترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ سرائے عالمگیر في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 29 جنوری 2023ء.