مرکزی مینیو کھولیں

سکھ سلطنت (Sikh Empire) برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت کے تحت ابھری۔ جس نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گردعلاقوں پر سلطنت قائم کی۔ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔

سکھ سلطنت
Sikh Empire
سرکار خالصہ

 

 

 

1799–1849
 

پرچم قومی نشان
ترانہ
دیگ و تیغ و فتح
رنجیت سنگھ سکھ سلطنت پیلی سرحد کے اندر
دار الحکومت گوجرانوالہ (1799-1802)
لاہور (1802-1849)
زبانیں فارسی (سرکاری)[1], پنجابی
حکومت وفاقی بادشاہت
مہاراجہ
 - 1801–1839 مہاراجہ رنجیت سنگھ
 - 1839 کھڑک سنگھ
 - 1839–1840 نو نہال سنگھ
 - 1840–1841 چاند کور
 - 1841–1843 شیر سنگھ
 - 1843–1849 دلیپ سنگھ
تاریخ
 - جنرل بابا کی وفات بندہ سنگھ بہادر 1799
 - دوسری اینگلو سکھ جنگ 1849
سکہ نانک شاہی
موجودہ ممالک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
Flag of the People's Republic of China.svg چین
Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان

مہاراجا رنجیت سنگھ کون تھے؟ترميم

مہاراجا رنجیت سنگھ نے انیسویں صدی کے آغاز میں لاہور کو فتح کیا۔ ایک اندازے کے مطابق انھوں نے پنجاب پر چالیس برس حکمرانی کی۔ یہ وہی دور ہے جس میں سکھوں کو برصغیر پر مکمل طور پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔ اس خطے میں ہندووں اور مسلمانوں کی حکمرانی کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے بعد مہاراجا رنجیت سنگھ دوسرے ایسے حکمران تھے جنھوں نے خطے میں امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا۔

لاہور کے شاہی قلعے میں 'رنجیت سنگھ' کا مجسمہ نصبترميم

اہور کے تاریخی شاہی قلعے میں پنجاب کے سابق حکمران مہاراجا رنجیت سنگھ کی یاد میں ان کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے، جس میں وہ تیر کمان تھامے ایک گھوڑے پر سوار ہیں۔

یہ مجسمہ برطانیہ میں سکھ ورثے کے ڈائریکٹر بوبی سنگھ بنسال نے والڈ سٹی لاہور کے تعاون سے یہاں نصب کیا ہے، فائبر کولڈ کانسی سے تیار کیے گئے مجسمے میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی زندگی کا اصل رنگ بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مجسمے کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا جس میں سکھوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مجسمے میں پانچ فٹ پانچ انچ قد کے مہاراجا کو ان کے پسندیدہ عربی نسل کے گھوڑے 'کہار بہار' پر بیٹھا دکھایا گیا ہے، جو انھیں افغانستان کے بارکزئی دور کے مرکزی رہنما دوست محمد خان کی جانب سے تحفہ میں دیا گیا تھا۔

درمیانے قد کا یہ گھوڑا مہاراجا کو اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے بہت پسند تھا، بعض روایات کے مطابق مہاراجا رنجیت سنگھ کو گھوڑوں سے اس قدر لگاؤ تھا کہ چار ہزار گھوڑے ان کی ملکیت تھے۔

مہاراجا رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر اس برس بھی سینکڑوں سکھ یاتری لاہور پہنچے ہیں، جس دوران وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے گردوارہ ڈیرہ صاحب بھی حاضری دیں گے جہاں رنجیت سنگھ کی سمادھی بھی ہے۔

یہاں آنے والے سکھ یاتری تاریخی قلعے کا رخ بھی کرتے ہیں۔ جہاں اب سکھ گیلری کے باہر یہ مجسمہ ان سیاحوں کا استقبال کرے گا۔ سکھ گیلری مہاراجا کی اہلیہ اور سکھ دور حکومت کی آخری حکمراں مائی جنداں کی حویلی کے نچلے حصے میں واقع ہے۔

مجسمے کو ڈیزائن کرنے والے فقیر سیف الدین فقیرخانہ میوزیم کے ڈائریکٹر ہیں، جن کا خاندان مہاراجا رنجیت سنگھ کی پنجاب کی تاریخ کا امین ہے۔ فقیر سیف الدین نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے پہلے بھی سکھوں کے اس رہنما کے مجسمے بنتے رہیں ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا شاہکار ہے۔ یہ اتنا پائیدار ہے کہ تیس سے پینتیس برس کھلے آسمان تلے موسم کی سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مجسمے کی تیاری میں باریک بینی سے کام لیا گیا ہے، مہاراجا کے ہاتھ میں تیر کمان اور کمر پر ڈھال بنائی گئی ہے، مہاراجا کے کپڑوں اور جوتوں پر زری اور موتیوں کا خوبصورت کام بھی کیا گیا ہے۔

مجسمہ بنانے والے بوبی سنگھ نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تیس سال سے لاہور آ رہے ہیں اور اب وہ لاہور کو ایک تحفہ دینا چاہتے تھے۔ ایک ایسا تحفہ جو لاہور اور لاہوریوں کا ماضی کے حکمران کے ساتھ ناتا جوڑے رکھے۔

اس کے لیے انھوں نے والڈ سٹی اتھارٹی کو اپنا آئیڈیا دیا جنھوں نے اسے خوش دلی سے قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پنجاب کی مختلف جامعات یا تعلیمی اداروں میں جب لیکچر دینے جاتے ہیں تو یہ بات انھیں حیران کرتی ہے کہ موجودہ نسل رنجیت سنگھ سے ناواقف ہے۔

مجسمے کی تیاری میں باریک بینی سے کام لیا گیا ہے، مہاراجا کے ہاتھ میں تیر کمان اور کمر پر ڈھال بنائی گئی ہے، مہاراجا کے کپڑوں اور جوتوں پر زری اور موتیوں کا خوبصورت کام بھی کیا گیا ہے۔

مجسمہ بنانے والے بوبی سنگھ نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تیس سال سے لاہور آ رہے ہیں اور اب وہ لاہور کو ایک تحفہ دینا چاہتے تھے۔ ایک ایسا تحفہ جو لاہور اور لاہوریوں کا ماضی کے حکمران کے ساتھ ناتا جوڑے رکھے۔

اس کے لیے انھوں نے والڈ سٹی اتھارٹی کو اپنا آئیڈیا دیا جنھوں نے اسے خوش دلی سے قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پنجاب کی مختلف جامعات یا تعلیمی اداروں میں جب لیکچر دینے جاتے ہیں تو یہ بات انھیں حیران کرتی ہے کہ موجودہ نسل رنجیت سنگھ سے ناواقف ہے۔

وبی سنگھ کا کہنا تھا کہ رنجیت سنگھ صرف سکھوں ہی نہیں بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا بھی رہنما تھا اور جس نے صوبہ پنجاب کی بنیاد رکھی، اس کے بارے میں کئی غلط تصورات یہاں موجود ہیں۔ ان کے بقول یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاراجا کی طرف سے ناانصافی کی گئی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ رحم دل، انسان دوست اور سب سے بڑھ کر علاقائی سیاست کا پرچار کرنے والے حاکم تھے۔

تصاویرترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Iftikhar Haider Malik, Culture And Customs of Pakistan, (Greenwood Press, 2006), 33.

https://www.urduvoa.com/a/pakistan-lahore-maharaja-ranjit-singh-statue/4978715.html

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم