مہاراجا کھڑک سنگھ (پنجابی زبان: ਖੜਕ ਸਿੰਘ) (پیدائش: 22 فروری 1801ء5 نومبر 1840ء) سکھ سلطنت کا دوسرا حکمران تھا۔ وہ مہاراجا رنجیت سنگھ کا بیٹا تھا۔ جون 1839ء کو تخت نشیں ہوا مگر اُس کے بیٹے نو نہال سنگھ نے اُسے معزول کر دیا اور نظر بند کر دیا۔ نومبر 1840ء کو قید میں ہی وفات پائی۔

مہاراجہ کھڑک سنگھ
مہاراجہ کھڑک سنگھ
27 جون 1839ء8 اکتوبر 1839ء
( 3 ماہ 10 دن)
شریک حیاتچاند کور کنہیا
نسلنو نہال سنگھ
والدمہاراجہ رنجیت سنگھ
والدہمہارانی داتار کور
پیدائش22 فروری 1801ء
وفات5 نومبر 1840ء (39 سال)
مذہبسکھ مت
پیشہمہاراجہ سکھ سلطنت

خاندانی پس منظر

ترمیم

مہاراجا کھڑک سنگھ 22 فروری 1801ء کو پیدا ہوا۔ باپ کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ماں کا نام مہارانی داتر کور (بعض روایات میں دراج کور) تھا۔ کھڑک سنگھ مہاراجا رنجیت سنگھ کے سب سے بڑا بیٹا تھا۔

دور حکومت

ترمیم

مہارجہ رنجیت سنگھ نے 1812ء میں جموں کا علا قہ اس کی جاگیر قرار دیا اور 20 جون 1839ء کو اسے ولی عہد نامزد کر دیا۔ 30 جون 1839ء مہاراجا رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد اس کا سب سے بڑا بیٹا کھڑک سنگھ حکمران بنا، مگر اس میں اپنے باپ جیسی کوئی صلاحیت نہیں تھی۔ وہ افیون کا رسیا تھا۔ دن کا بڑا حصہ وہ افیون کے نشے میں گزارتا تھا۔ اس کے باپ نے مرتے وقت اسے وصیت کی تھی کہ وزارت عظمیٰ دھیان سنگھ ڈوگرہ کو دی جائے گی، مگر کھڑک سنگھ نے اپنے ایک قریبی دوست چیت سنگھ کو اپنا مقرب خاص بنا لیا اور ڈوگرہ سرداروں دھیان سنگھ، سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ کو نظر انداز کر دیا، جس سے خالصہ دربار میں ڈوگرہ برادری کی قدر و قیمت کم ہو گئی۔ قلعہ لاہور میں ان کی آمدو رفت محدود کردی گئی۔ ڈوگرہ برادران جوڑ توڑ کے ماہر تھے خالصہ فوج ان کے ہاتھ میں تھی۔ انھوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا۔ لاہور میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ مہاراجا کھڑک سنگھ نے انگریزوں سے معاہدہ کیاہے، جس کے تحت انگریز خالصہ علاقہ جات سے مالیہ وآبیانہ اور دیگر واجبات وصول کریں گے، جس کے عوض انگریزوں کو ایک روپے میں سے 6آنے معاوضہ دیاجائے گا۔ یہ صورت حال سکھ امرا کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی کیونکہ وہ ان ریاستوں کا انجام دیکھ چکے تھے جو انگریزوں سے معاہدوں کے باعث ان کی غلامی میں چلے گئے تھے، چنانچہ انھوں نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ چیت سنگھ مقرب خاص نے اس خبر کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ افواہ ڈوگروں نے اڑائی ہے اور انھیں اس کی سزا ملے گی۔

معزولی

ترمیم

گلاب سنگھ ڈوگرہ اور دیگر سرداروں نے کھڑک سنگھ کی بیوی چاند کور اور اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو باور کروایا کہ سکھ حکومت کی بقاء کے لیے لازم ہے کہ کھڑک سنگھ کو معزول کیا جائے اور نونہال سنگھ کو راجا کی گدی پر بٹھایاجائے۔ چاند کور اور نونہال سنگھ نے اس تجویز کو مان لیا، مگر انھوں نے کھڑک سنگھ کی زندگی کی شرط عائد کر دی۔ فریقین میں گفت وشیند کے بعد 5 اکتوبر 1839ء کی رات دھیان سنگھ، اس کے بھائی سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ، اس کا بیٹا ہیرا سنگھ، لال سنگھ اور دیگر رفقا کے ہمراہ کھڑک سنگھ کی خواب گاہ (متصل شیش محل) میں داخل ہوئے۔ کھڑک سنگھ نے مزاحمت کی مگر مہارانی چاندکور اور نونہال سنگھ نے کنیزوں کے ساتھ مل کر اسے بے بس کر دیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کا مقرب خاص چیت سنگھ اپنے اہل و عیال اور دوستوں کے ہمراہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

کھڑک سنگھ معزول ہونے کے بعد 10ماہ تک زندہ رہا۔ اس کی حویلی (موجودہ نسبت روڈ لاہور) میں اور ایک روایت کے مطابق اندرون لاہور ایک حویلی میں نظربند رکھا گیا۔ وہاں جوالہ سنگھ نام کا ایک حکیم مقرر کیا گیا، جو دھیان سنگھ کا ایک خاص آدمی تھا۔ اس نے معزول مہاراجا کو زہر خوانی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں مہاراجا کھڑک سنگھ پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر 5 نومبر 1839ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

مہاراجا کی وفات کی خبر کا باقاعدہ اعلان قلعہ لاہور میں توپیں چلا کر کیا گیا۔ مہاراجا کھڑک سنگھ کی چتا میں دو بیواؤں اور سات کنیزوں نے ستی ہونا قبول کیا۔ جب یہ عورتیں چتا میں بٹھائی گئیں تو وزیر اعظم دھیان سنگھ نے ان سے کہا کہ نوجوان راجا (نونہال سنگھ) کے لیے خیروبرکت کی دعائیں کریں، مگر وہ چپ رہیں۔

ماقبل  مہاراجہ سکھ سلطنت
27 جون 1839ء8 اکتوبر 1839ء
مابعد 

حوالہ جات

ترمیم