رنجیت سنگھ

پنجاب کا پنجابی حکمران
(مہاراجہ رنجیت سنگھ سے رجوع مکرر)

مہاراجا رنجیت سنگھ (پیدائش: 13 نومبر 1780ء– وفات: 27 جون 1839ء) پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا۔ تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں اُس کی فتوحات کے سبب سکھ سلطنت کشمیر سے موجودہ خیبر پختونخوا اور جنوب میں سندھ کی حدود سے مل چکی تھیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ
ਰਣਜੀਤ ਸਿੰਘ
مہاراجہ پنجاب
MaharajaRanjitSIngh - L Massard.gif
مہاراجہ رنجیت سنگھ
اپریل 1792ء11 اپریل 1801ء
(بحیثیت سربراہ سکرچکیہ مثل)
(9 سال)
12 اپریل 1801ء27 جون 1839ء
(بحیثیت مہاراجہ سکھ سلطنت)
(38 سال 2 ماہ 15 دن)
جانشینکھڑک سنگھ
مکمل نام
رنجیت سنگھ
والدمہان سنگھ
والدہراج کور مائی ملوائن
پیدائش13 نومبر 1780ء
گوجرانوالہ, سکرچکیہ مثل (موجودہ پاکستان)
وفات27 جون 1839ء
لاہور، پنجاب، سکھ سلطنت (موجودہ پاکستان)
تدفینسمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ لاہور، پنجاب، پاکستان
مذہبسکھ مت

خاندانی پس منظرترميم

رنجیت سنگھ سکرچکیہ مثل کے سردار مہان سنگھ کا بیٹا تھا۔ 13 نومبر 1780ء میں (آج کل کے پاکستان کے) صوبہ پنجاب کے شہر گجرانوالہ کے نزدیک پیدا ہوا۔ اس کا تعلق جاٹوں کی ایک برادری سے تھا۔ ابھی وہ بچہ ہی تھا جب چيچک ہونے سے اس کی ایک آنکھ ختم ہو گئی۔ اس وقت پنجاب کا بہت سارا علاقہ سکھ مثلوں کے پاس تھا اور یہ سکھ مثلیں سربت خالصہ کے نیچے تھی۔ ان مثلوں نے اپنے اپنے علاقے بانٹے ہوئے تھے۔ رنجیت سنگھ کا باپ مہان سنگھ سکرچکیہ مثل کا سردار تھا اور بالائی پنجاب میں اس کا دار الحکومت گجرانوالہ کے آس پاس کا علاقہ تھا۔ 1785ء میں رنجیت سنگھ کی منگنی کنہیا مثل کے سردار گربخش سنگھ اور سردارنی سدا کور کی بیٹی مہتاب کور سے کی گئی۔ رنجیت 12 برس کا تھا جب اس کا باپ مر گیا اور یہ کنہیا مثل کی سربراہ سدا کور کی مشترکہ راج میں آیا اور اپنی مثل کا سردار بن گیا۔ 18 برس کا ہو کے اس نے اپنی مثل کو سنبھالا۔

شیر پنجاب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش 13 نومبر 1780ء کو سکرچکیہ مثل کے سردار مہاں سنگھ اور سردارنی راج کور جو جیند سردار گجپت سنگھ کی بیٹی تھی اور مالوہ کا ہونے کی وجہ سے اس کو ”مائی ملوین” بھی کہا جاتا تھا، کے گھر پیدا ہوا۔ اس کے بچپن کا نام بدھ سنگھ رکھا گیا۔ جب مہان سنگھ کو اس کے گھر بیٹا ہونے کی خبر ملی تو وہ ایک جنگی مہم کے دوران سید نگر کی مورچہ بندی کر رہے تھے۔ جب فتح پا کے گجرانوالہ واپس آیا تو اس نے جت کی خوشی میں اپنے بچے کا نام رنجیت سنگھ رکھ دیا۔ ماں باپ کا اکیلا اکیلا بیٹا تھا بڑے لاڈ پیار سے پلا پر بچپن میں چیچک نکلنے کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ جاتی رہی اور منہ پر چیچک کے بھاری داغ پڑ گئے

ابتدائی تعلیم اس نے بھائی حصہ سنگھ کی دھرم شالہ سے کی پر آگے وہ پڑھائی نہ کر سکے۔ ان دنوں میں پڑھائی لکھائی اور تعلیم کا رواج ہندوں میں زیادہ تر کھتروں اور براہمنوں میں اور مسلمانوں میں سیدوں میں ہوتا تھا۔ کھیتی باڑی، دستکاری اور مزدوری کرنے والوں کے لیے پڑھنا بہت دور کی بات تھی۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کی گورو گوبند سنگھ جی نے سکھوں کو ایک مارشل قوم کا روپ دیا جس کی وجہ سے زمین سے جڑی کاشتکاروں کی جماعت بہادری اور فوجی طاقت میں کھتروں راجپوتوں اور پٹھانوں سے بھی آگے نکل گئی۔

مثلوں کے وقت سے ہی پڑھائی سے زیادہ اہم حربی فنون ،گھڑ سواری، شکار کھیلنا، جنگی کرتب، نشانے بازی اور تیراکی تھی جو رنجیت سنگھ کی پڑھائی کے ضروری موضوع تھے۔ مہاراجہ ابھی 9-10 سال کا ہی تھا، کہ اس نے اپنے باپ سے جنگوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ ایک مرتبہ سودرا کی مہم کے دوران مہاں سنگھ اچانک بیمار ہو گیا، اس کو واپس آنا پڑا تو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس مہم کی قیادت کی، جیت بھی حاصل کی اور دشمن کو ہرا کے اس کے گولہ بارود پر بھی قبضہ کر لیا۔

سیاسی حالاتترميم

پنجاب پر درانی قبیلہ کی حکومت تھی، مگر یہ صوبہ سکھوں کی بغاوتوں کی وجہ سے درانی حکمرانوں کے اثر سے باہر تھا۔ شاہ زماں والیٔ کابل نے پنجاب پر حملہ کیا، مگر سکھ باغی اسے دیکھ کر اپنی پنا ہ گاہوں میں جا چھپے۔ شاہ زمان نے انہیں ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی، کیونکہ وہ جنگلوں، پہاڑوں اور اپنے مضبوط قلعوں میں چھپ چکے تھے۔ شاہ زمان کو کابل واپس جانا پڑا کیونکہ اس کی عدم موجودگی کے باعث دار الحکومت میں بغاوت کے آثار نمایاں ہوچکے تھے۔ اس نے لاہور اور پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

لاہور شہر سکھ لٹیروں کے قبضہ میں تھا، جن کی لوٹ مارسے عوام (ہندو، مسلم، سکھ) سبھی تنگ اور پریشان تھے۔ تب اہالیان لاہور کو رنجیت سنگھ کی شکل میں ایک وسیلہ نظر آیا، چنانچہ معززین لاہور نے رنجیت سنگھ کو خطوط لکھے کہ لاہور آکر حکومت سنبھالے۔ یہ حکم اسے شاہ زمان والیٔ کابل بھی دے چکا تھا۔

بیگماتترميم

  1. موراں
  2. رانی گل بیگم
  3. جند کور

سکھ سلطنت کا قیامترميم

رنجیت سنگھ کی شادی 16 سال کی عمر میں کنہیا مثل میں ہو گئی تھی اور دونوں مثلوں کے اتحاد نے ان کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی تھی۔ اس کی ساس سدا کور ایک عقلمند جتھے دار خاتون تھیں جنہوں نے رنجیت کو آگے بڑھنے میں بہت مدد اور رہنمائی کی۔ کئی لڑائیوں کے بعد اس نے مغلوں سے کئی علاقوں کو فتح کیا اور سکھ سلطنت کو بحال کیا اور اٹھارہ سال کی عمر میں (1799ء میں) اس نے لاہور پر قبضہ کر کے اسے اپنا دار الحکومت بنایا۔ تین سال بعد، 1802ء میں اس نے امرتسر کو فتح کیا، جہاں سے اسے بھنگیوں کی مشہور توپ اور بہت سی دوسری توپیں حاصل کیں۔ چند سالوں میں اس نے دریائے ستلج تک پنجاب کے تمام بڑے شہروں کو فتح کر لیا اور پھر ستلج کو عبور کر کے لدھیانہ پر قبضہ کر لیا۔

لاہور کی لڑائیترميم

لاہور شہر مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے زمانے سے ہی مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا ہے اور مغل بادشاہوں کا پسندیدہ شہر تھا جو اکثر یہاں اپنا دربار لایا کرتے تھے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کی دوسری دیائی کے بعد مغلیہ سلطنت آہستہ آہستہ شعلوں میں بدل گئی۔ مغلوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراشٹر کے مرہٹوں نے پورے ہندوستان میں تباہی مچا دی۔ مرہٹوں نے پنجاب میں اٹک تک کے علاقے فتح کئے۔ سکھ سرداروں نے بھی مرہٹوں میں شمولیت اختیار کی اور پنجاب کے بیشتر حصوں میں اپنی چھوٹی چھوٹی جاگیریں قائم کیں جنہیں مثل کہا جاتا ہے۔ دہلی کی مغل سلطنت کو مرہٹوں سے جنگ کی امید نہیں تھی، اس لیے انہوں نے مرہٹوں کے خلاف افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی سے مدد طلب کی اور اسے ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ احمد شاہ ابدالی کابل سے پنجاب آیا اور پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دے کر پنجاب کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ رنجیت سنگھ کے دادا چرہت سنگھ اور دوسرے سکھ سرداروں کو احمد شاہ ابدالی کا پنجاب میں آنا پسند نہیں تھا، انہوں نے ابدالی کی فوج کو مارنا شروع کر دیا۔ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار چھوٹے چھوٹے گروپوں میں ابدالی کی فوج پر اندھا حملہ کرتے اور جنگل میں جا کر چھپ جاتے۔ لیکن یہ ایک مضبوط حکومت قائم نہیں کر سکے اور صرف چھوٹے علاقوں پر اپنی حاکمیت قائم کر سکے۔ لاہور سمیت پنجاب درانی سلطنت کا حصہ رہا۔ رنجیت سنگھ کے زمانے میں پنجاب اور افغانستان پر کشمیر اور احمد شاہ ابدالی کے پوتے زمان شاہ کی حکومت تھی۔ رنجیت سنگھ کا انتقال 1799ء میں ہوا۔ اس وقت لاہور پر بھنگی سرداروں کی حکومت تھی، انہیں بھنگی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ بھنگ کے نشے میں مست رہتے تھے۔ اس پر سب سے پہلے زمان شاہ نے 1797ء میں قبضہ کیا۔ لاہور میں پھر قتل زمان شاہ کی افغانستان واپسی کے بعد، بھنگی سرداروں چت سنگھ، صاحب سنگھ اور مہر سنگھ نے دوبارہ شہر پر حملہ کیا۔ ان میں حکومت کرنے اور اجارہ داری قائم کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ رنجیت سنگھ کو پنجاب کی سرزمین پر اپنی حکمرانی قائم کرنے سے روکنے کے لیے افغانستان کے حکمران زمان شاہ نے افغان فوج کو بھاری توپ خانے کے ساتھ رنجیت سنگھ سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ رنجیت سنگھ افغان حکمران زمان شاہ کی فوجوں تک پہنچ گیا اور ان کے علم میں لائے بغیر انہیں گجرانوالہ کے قریب لے گیا اور جہلم تک ان کا تعاقب کیا۔ تمام افغان مارے گئے، ان کا سامان تباہ ہو گیا اور باقی اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔ سکھ فوج نے افغانوں کی چھوڑی ہوئی توپوں پر قبضہ کر لیا۔ زمان شاہ کے بھائی نے بغاوت کی اور زمان شاہ کو تخت سے ہٹا کر اندھا کر دیا۔ وہ بے بس رہا اور 12 سال بعد پناہ کے لیے رنجیت سنگھ کے دربار میں آیا۔

لاہور کی فتحترميم

لاہور شہر پر مسلمانوں کا اچھا اثر تھا۔ میاں اسحاق محمد اور میاں مقام بہت طاقتور تھے اور لوگوں پر ان کا بہت اثر تھا، اور شہر کے معاملات میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ رنجیت سنگھ کی شہرت کی افواہیں لاہور تک پہنچیں تو شہر کے ہندو، مسلمان اور سکھ، جو بھنگی سرداروں کی حکمرانی سے بہت ناراض تھے، اکٹھے ہوئے اور رنجیت سنکھ سے اپیل کی کہ وہ انہیں اس قہر سے بچائیں۔ اس کے لیے ایک درخواست میاں اسحاق محمد، میاں مقام دانے، محمد طاہر، محمد باقر، حکیم رائے اور بھائی گربخش سنگھ نے لکھی اور دستخط کیے۔ جواب میں رنجیت سنگھ نے 6 جولائی 1799ء کو اپنی 25000 کی فوج کے ساتھ مارچ کیا۔ وہ لاہور روانہ ہو گئے۔

محرم کی دسویں تاریخ تھی اور شیعہ مسلمانوں نے دسواں جلوس نکالا تھا اور ماتمی جلوس کے موقع پر رنجیت سنگھ شہر کے مضافات میں پہنچا تھا۔ 7 جولائی 1799ء صبح سویرے رنجیت سنگھ کی افواج نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ سدا کور دلی دروازے کے باہر کھڑی رہی اور رنجیت سنگھ انارکلی کی طرف بڑھتا رہا۔ پٹیشن پر دستخط کرنے پر، اس نے کھڑے ہو کر سلامی دی اور اعلان کیا کہ وہ شہر کا مالک ہو گیا ہے اور اب شہر کا نیا سربراہ ہے۔ اس نے شہر کے تمام دروازے کھولنے کا حکم دیا۔ رنجیت سنگھ لاہوری دروازے سے شہر میں داخل ہوا۔ سدا کور دہلی دروازے سے اپنے دستے کے ساتھ لاہور میں داخل ہوئی۔ بھنگی سردار کچھ مزاحمت کرنے میں کامیاب ہوئے اور شہر میں مارے گئے۔ صاحب سنگھ اور مہر سنگھ شہر سے بھاگ گئے۔ چت سنگھ نے شہر چھوڑ دیا اور خود کو حضوری باغ میں صرف 500 آدمیوں کے ساتھ محصور کر لیا۔ رنجیت سنگھ کی افواج نے حضوری باغ کا محاصرہ کر لیا اور چت سنگھ نے ہتھیار ڈال دیے اور اسے اپنے خاندان کے ساتھ شہر چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔

دیگر فتوحات و آخری انجامترميم

تین سال بعد 1802ء میں امرتسر فتح کیا۔ وہاں سے بھنگیوں کی مشہور توپ اور کئی اورتوپیں ہاتھ آئیں۔ چند برسوں میں اس نے تمام وسطی پنجاب پر ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ 1809ء میں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد اس نے اٹک، ملتان، کشمیر، ہزارہ، بنوں، ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔یہ علاقے پٹھان اور بلوچ قبائل کے زیر اثر تھے۔ رنجیت سنگھ نے نواب مظفر کو قتل کیا جس سے بلوچوں اور پٹھانوں نے رنجیت سنگھ سے بدلہ لینے کا عہد کیا اور اس محاذ کی سرپرستی بلوچ سردار میر بلوچ خان جتوئی نے کی۔ شیر شاہ کے مقام پر جرگہ ہوا جس میں بلوچ خان کی فوج جس کا سپہ سالار اس کے بڑے بھائی میر رحیم خان کا بیٹا میر مزار خان تھا اور رنجیت سنگھ کی فوج جس کا سپہ سالار اس کا بیٹا کھڑک سنگھ تھا جنگ کے لیے تازہ دم کھڑی تھی۔ جرگے میں ضابطے کے مطابق شیر شاہ کی ملکیت قدیم سے جتوئی سردار میر رحیم خان کی مفتوحہ ملکیت تھی لہذا جرگے کی سرپرستی بلوچ خان نے کرنی تھی جبکہ رنجیت سنگھ نے کہا کہ میں ملتان کی ریاست کا والی ہوں لہذا سرپرستی میری ہو گی۔ چونکہ بلوچ قوم تو آئی بھی جنگ کرنے اور نواب مظفر خان کا بدلہ لینے تھی لہذا انہوں نے بغیر کسی شرط شرائط کو مانے جنگ شروع کر دی اور جرگے کے دوران ہی لڑائی شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں رنجیت سنگھ مارا گیا۔ بلوچ خان نے اسکی لاش کو چوک پر لٹکا دیا اور ملتان کا قلعہ سمیت آس پاس کے کثیر تعداد میں علاقے فتح کر لیے۔ انگریز لارڈ نے بگڑتی صورتحال کو کنٹرول کرتے ہوئے ساہی وال سے سندھ کی حدود تک کے علاقے بلوچ قوم کی ملکیت قرار دے دیا جس پر سردار بلوچ خان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور کئی دنوں کے مزاکرات کے بعد رنجیت سنگھ کی لاش کو آخری رسومات کے لیے لاہور لےجایا گیا۔اور سکھوں میں اپنی ساکھ اور مسلمانوں میں اپنے خوف کو برقرار رکھنے اور رنجیت سنگھ کی نسل کشی کو چھپانے اور اسکی عبرت ناک موت کو تاریخ میں بدلنے کے لیے سارے قصے کو فرضی رنگ دیا گیا اور رنجیت سنگھ کی موت کو بیماری کا سبب قرار دیا گیا۔ اسکی تدفین میں خالی تابوت کے ساتھ اس کے گھوڑے کو بھی مار کر دفن کیا گیا تا کہ تدفین کا ڈرامائی مرحلہ بھی تاریخ کا حصہ بن جائے۔ ملتان کا لوہاری گیٹ آج بھی رنجیت سنگھ کی عبرتناک موت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ رنجیت سنگھ کی عبرت ناک موت کے بعد بلوچ قبائل سے جنگوں کا سلسلہ کافی حد تک رک گیا۔ اور انگریز سرکار نے بھی اس قوم سے لڑنے کی بجاۓ مفاہمت کے ساتھ امن سے رہنے کو ترجیح دی

 
[مردہ ربط]گوجرانوالہ میں رنجیت سنگھ کی جائے پیدائش
 
رنجیت[مردہ ربط] سنگھ کا شجرہ نسب

افغانوں کے ساتھ جنگترميم

محمد اعظم خان نے باقاعدہ اور فاسد فوجیوں کی ایک مضبوط فوج کے ساتھ کابل سے پشاور کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس فوج کے ساتھ ہزاروں دوسرے لوگ بھی لوٹ مار کے لالچ میں شامل ہو گئے۔ جب محمد اعظم خان 27 جنوری 1823ء کو پشاور پہنچا تو یار محمد خان یاوسفزئی کے علاقے میں بھاگ گیا۔ یہ خبر لاہور پہنچ گئی اور رنجیت نے فوری حملے کا حکم دیا۔ شہزادہ شیر سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ آگے بڑھتے ہوئے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے جہانگیریہ کے قلعہ تک پہنچے۔ ایک مختصر جنگ کے بعد افغان قلعہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جب اعظم خان کو پشاور میں جہانگیریہ کے قلعے کی شکست کا علم ہوا تو اس نے جہاد کے نام پر دوسرے قبائلیوں کو بھرتی کیا۔ آفریدی، یاوسفزئی اور خٹک قبائل کے قبائلی اس کے گرد جمع ہوگئے۔ افغانوں کے مذہبی جذبات بھڑک اٹھے اور ان کے حوصلے بلند ہو گئے اور وہ مرنے یا مارے جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ دوسری طرف مہاراجہ نے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے فوج اور گولہ بارود کو متحرک اور متحرک کیا۔ اسے یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ افغانوں نے پہلے دریا کا پل تباہ کر دیا تھا۔ شیر سنگھ، جس نے پہلے جہانگیر کو قتل کیا تھا، افغانوں نے پکڑ لیا۔ اعظم خان کی مدد ان کے بہنوئی جابر خان اور دوست محمد نے کی۔

تمام پہاڑی چوٹیاں افغان فوج کے کنٹرول میں تھیں، اس لیے سکھ فوج کے لیے دریا کو عبور کرنا بہت مشکل تھا، کیونکہ پہاڑیوں پر تعینات پٹھان فوج کشتی کے پل کی تعمیر میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ دوسری طرف شیر سنگھ اور اس کی فوج شدید مشکلات کا شکار تھی، افغان فوج نے اردگرد کے علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ گلہریوں کے لیے زندہ رہنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ مہاراجہ کو جلد فیصلہ کرنا تھا، اب مشاورت کا وقت تھا۔ حملہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مہاراجہ نے نازک وقت میں ایک بہادرانہ فیصلہ کیا اور اپنی فوجوں کو دریا پار کرنے کا حکم دیا۔ پہلے مہاراجہ نے اپنے گھوڑے کو پانی میں اتارا۔ فوجیں اس کا پیچھا کرتی تھیں۔ دریا پار کرنے کے لیے اونٹ، ہاتھی، گھوڑے اور خچر استعمال کیے جاتے تھے۔ بہت سے لوگ دریا کی تیز لہروں میں بہہ گئے۔ کچھ ہتھیار بھی دریا میں گرے۔ لیکن زیادہ تر فوجیں دریا کو عبور کر کے دریا کے مغربی کنارے پر جا اتریں۔ افغان فوج کی نقل و حرکت سے پہلے ای خالصہ فوج اپنے آپ کو پوری طرح تیار کر چکی تھی۔ افغان فوج کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ جہانگیر یہ کے قلعہ کے دروازے کھل گئے اور مہاراجہ قلعہ میں داخل ہوا۔

اب افغان فوج نے اٹک اور پشاور کے واشکر نوشہرہ میں کیمپ لگا رکھے تھے۔ یہاں وہ دریائے لنڈی کے مغربی کنارے پر تھے۔ مہاراجہ نے اپنے جرنیلوں سے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ دریا کے مغرب کی طرف افغانوں کو نوشہرہ میں تعینات افغان فوج سے ملنے سے روکا جائے۔ اگر دریا کے دونوں کناروں کے افغان پٹھان قبائل آپس میں مل جاتے ہیں تو خلیوں کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے بغیر وقت ضائع کیے ان پر حملہ کرنا چاہیے۔

خالصہ آرمی اور پٹھان قبائلی غازیترميم

سکھ فوج نے نوشہرہ کا محاصرہ کر لیا اور دریائے لنڈی کے کنارے پڑاؤ ڈال لیا۔ اس کے بعد اس نے توپ خانے کو منتقل کیا اور قبائلی فوج اور توپ خانے پر فائرنگ شروع کردی۔ افغان قبائلی ملیشیا نے پیر سباد پہاڑی پر مورچہ بنا لیا۔ سکھ فوج کی تعداد 25,000 کے قریب تھی، اور افغان فوج کی تعداد 40,000 سے کم نہیں تھی، جسے غازی کہا جاتا ہے۔ جو جہاد کے نام پر کفار سے مقدس جنگ کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ جو دینے کی خاطر مر رہے تھے یا مر رہے تھے۔ خٹک قبیلے کے سردار فیروز خان کے بیٹے نے بڑی تعداد میں مجاہدین کے ساتھ افغان فوج میں شمولیت اختیار کی۔

دوسری طرف سکھ فوج کی کمان ایک پرجوش اور پرجوش جنرل فولا سنگھ کے پاس تھی جس نے پنتھ کے نام پر لڑنے اور مرنے کے لیے تیار خودکش دستے کی کمانڈ بھی کی تھی۔

اس جنگ میں اکالی فولا سنگھ نے اپنی پچھلی جنگوں کے مقابلے زیادہ بہادری اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ افغان فورسز کو پہاڑی مورچوں سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فولا سنگھ اپنی جنونی طاقت کے ساتھ پہاڑی کے دامن کی طرف بڑھا۔ اسے ایک بھاری بھرکم رائفل نے مارا ، لیکن اپنی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر وہ ہاتھی پر سوار ہو کر دشمن سے ٹکرا گیا۔ افغان فوج اکالیوں کے ساتھ ٹوٹ گئی اور شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ اکالیوں کو 1500ء افغان گھڑ سواروں نے گھیر رکھا تھا۔ اس لڑائی میں ایک اور بھاری بھر کم رائفل جنرل فولا سنگھ پر پڑی جو پہاڑی سے ٹکرا رہا تھا۔ فولا سنگھ نے ملتان اور کشمیر کی لڑائیوں میں اپنی تلوار چلائی تھی۔ رنجیت سنگھ کو بھی اپنے جرنیل کی موت کا گہرا رنج ہوا اور فولا سنگھ کو اس کے مقام پر دفن کرنے کا حکم دیا۔

کھڑک سنگھ کی قیادت میں سکھ فوجیں آگے بڑھیں لیکن افغانوں کو ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹا سکیں۔ جنگ کے دوران دونوں فریقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ افغان فوج کو تربیت یافتہ فوج کے مقابلے میں ایک غیر تربیت یافتہ فورس سے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ان میں سے نصف مارے گئے لیکن ان کے بقیہ دستے کو پہاڑی مورچوں سے نہیں ہٹایا جا سکا۔ دوسرے سکھ فوجیوں نے حملہ کیا اور جنک سارا دن جاری رہا اور 2000 خالصہ فوجی مارے گئے۔ دوسری طرف قبائلی فوجوں کی پوزیشن کمزور پڑ گئی اور شام کے بعد وہ پہاڑی محاذ سے نیچے آگئے اور باقی غازی سکھ فوجوں سے لڑتے ہوئے پہاڑوں میں چھپ گئے اور اس طرح فتح سکھ فوج کے حصے میں آئی۔ جب وزیر خان کو نوشہرہ میں ہونے والے واقعے کے بارے میں پتہ چلا تو وہ پشاور سے اپنے بھائی کی مدد کے لیے بھاگا جو قبائلی فوج کی کمان کر رہا تھا۔ لیکن ہری سنگھ نلوا کی فوجوں نے اسے دریا پار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ سکھ فوجیں مصلح اعظم خان کی فوجوں پر گولہ باری کر رہی تھیں جس سے کافی لڑائی ہوئی۔ رنجیت سنگھ بٹ کھڈ نے سکون کا سانس لیا اور ایک پہاڑی پر چڑھ کر اپنی فوجوں کو فوراً آگے بڑھنے کا حکم دیا۔

رنجیت سنگھ کا پشاور پر دوبارہ قبضہترميم

قبائلی غازی افواج نے سکھوں کی بالادستی کو توڑنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ سکھ گھڑ سوار افغان فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے۔ اعظم خان قبائلی فوجوں کا نقصان دور سے دیکھنے پر مجبور تھے۔ قبائلی غازیوں کی شکست دیکھ کر اعظم خان کو صدمہ اور دل شکستہ ہوا اور تھوڑی دیر بعد وہ مر گیا۔ نوشہرہ کی لڑائی میں افغان قبائل کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ تین دن بعد رنجیت سنگھ پشاور میں داخل ہوا۔ شہریوں نے ٹوٹے دل کے ساتھ مہاراجہ کا استقبال کیا اور ان کی خدمت میں بہت سے تحائف پیش کیے۔

کچھ دنوں بعد، یار محمد خان اور دوست محمد خان دونوں مہاراجہ کے سامنے پیش ہوئے، اپنی شکایات سے توبہ کی اور معافی مانگی۔ رنجیت سنگھ نے انہیں معاف کر دیا، ان کے واجبات باقاعدگی سے ادا کرنے کا وعدہ کیا، اور مہاراجہ کو خوبصورت گھوڑے پیش کئے۔ شاہی دربار بلایا گیا اور یار محمد خان کو پشاور کا گورنر مقرر کیا گیا، اور اس نے مہاراجہ سے رنجیت سنگھ کو ایک لاکھ دس ہزار روپے کا خراج دینے کا وعدہ کیا۔ اس فتح کے بعد راج سنگھ لاہور واپس چلا گیا۔ ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور مسلمانوں کا تہوار شب برات سب نے مل کر منایا۔ فتح رنجیت سنگھ پر پھولوں، گلابوں اور پتوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور اس کے جواب میں مہر اوچا نے گلیوں میں فتح کا جشن منانے والے لوگوں کو سونے اور چاندی کے سکے دئیے۔

رنجیت سنگھ کی فتح افغان سلطنت کi بالائی مغربی حصے پر قبضہترميم

نوشہرہ میں سکھوں کی فتح نے عملی طور پر پشاور اور دریائے سندھ پر افغان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ افغانستان میں بارکزئی برادران کے درمیان تخت پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ اعظم خان کا بیٹا ایمان اللہ خان بادشاہت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اعظم خان کے بھائی شیردل خان نے پہلے خود کو قندھار کا آزاد حکمران قرار دیا تھا۔ دولت مند دوست محمد خان کابل کے تخت پر مارا گیا۔ خان نان بخارا خان نے بلخ پر حملہ کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ ہرات پر شاہ مہد کے بیٹے کامران کا قبضہ تھا۔ سندھ بھی افغانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ کشمیر 1819ء میں سکھ سلطنت میں شامل کیا گیا، اور بقیہ علاقہ تخت کابل ملتان کے تحت 1818ء میں، ڈیرہ ذات 1821ء۔ اٹک میں 1813ء۔ 1820ء میں راولپنڈی، سکھوں کو آہستہ آہستہ سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔

1826ء افغانستان کے دیگر حصے الگ تھلگ ہو گئے۔ کابل ایک الگ مملکت بن گیا۔ قندھار پر تین بھائیوں دل، رستم دل اور میہڑ دل کی حکومت تھی۔ ہرات کا شہزادہ ایران کا جاگیر دار بن گیا۔

یہاں کے حکمرانوں کی نااہلی سے افغانستان کے حالات نے ایک ایسا موڑ دیا کہ سکھ افغان صوبوں کو سکھ سلطنت یعنی بالائی ہندوستان سے ملانے میں کامیاب ہو گئے۔ ہمیشہ سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ افغانستان اور کابل کی سلطنتوں میں ہندوستان اور پنجاب کے علاقے شامل تھے۔

ملتان کا قلعہ نواب مظفر خان کے مضبوط قلعوں میں سے ایک تھا۔ اور نواب نے بہت بہادری سے ملتان کا دفاع کیا۔ کھڑک سنگھ کی فوجیں اس کے اردگرد تعینات تھیں لیکن وہ قلعہ فتح کرنے کا نیا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ رنجیت سنگھ نے اکالی فولا سنگھ کی نہنگ رجمنٹ کے ساتھ ایک بڑی توپ بھیجی۔ زمزمہ نے شہر کے قلعے کے دروازے مووسر کے گولوں پر مارے۔ اکفل فولا سنگھ نے اچانک حرکت کی اور قلعے پر جا ٹکرائی۔ سرمئی داڑھی والا نواب مظفر خان ہاتھ میں تلوار لیے لڑنے کے لیے راستے میں کھڑا ہوا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔ اس کے 5 باپ بھی لڑتے ہوئے مارے گئے۔ رنجیت سنگھ نے اپنے دو بچ جانے والے بیٹوں کو جاگیریں دیں۔ آج بھی پاکستان ان علاقوں کا مالک نہیں ہے۔ شہزادہ کھڑک سنگھ نے ملتان کے قلعے کی حفاظت کے لیے 600 آدمیوں کی فوج کے ساتھ جودھ سنگھ خالصہ کو رہا کیا۔ رنجیت سنگھ کی جنوبی سرحد ملتان تھی۔ 1818ء رنجیت سنگھ نے روہتاس، راولپنڈی اور حسن ابدال کو بھی فتح کیا۔ اس کے بعد اس نے دریائے سندھ کو عبور کر کے پشاور میں ملنے کا منصوبہ بنایا۔ 1819ء رنجیت سنگھ کو دوبارہ سری نگر پر حملہ کرنا پڑا۔ اس بار اس نے دیوان موتی داس کو گورنر مقرر کیا اور شام سنگھ اٹاری والا، جوالا سنگھ پڈھ نیا اور مسر دیوان چند کو وادی میں مہمات میں مدد کے لیے چھوڑ دیا۔ سکھ سلطنت کے ذریعے، دس گورنروں نے باری باری کشمیر کا انتظام سنبھالا۔ ان میں سے ایک شہزادہ شیر سنگھ تھا جس نے لداخ تک سکھ سلطنت کا جھنڈا لہرایا۔ وادی لداخ کی فتح کے ساتھ، جو کہ بہت زیادہ تزویراتی اہمیت کی حامل تھی، سرحدیں چینی اثر و رسوخ سے محفوظ ہوگئیں۔ شیر سنگھ نے جنرل زوراور سنگھ کو پہل کرنے کے لیے تبت بھیجا۔ گرو اور روڈوک ایک ساتھ مارے گئے اور سکھ فوج نے حملہ کیا۔ تبت کی حکومت نے زوراور سنگھ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔

معاہدہ امرتسرترميم

1807ء رنجیت سنگھ نے تارا سنگھ گھیبہ کا علاقہ جو مر گیا تھا، کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کی بیوہ کو نکال دیا گیا اور ریاست بغیر کسی مزاحمت کے رنجیت سنگھ کی سلطنت میں شامل ہو گئی۔ یہ ان سرداروں کے لیے جاگنے کی کال تھی جو اپنی چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو برقرار رکھنے کا خواب دیکھتے تھے۔ اس سے مالوا کے سرداروں کو خطرہ تھا کہ مہاراجہ انہیں آوارہ ہونے پر مجبور کر دیں گے۔

رنجیت سنگھ کے جنرل دیوان موکھم چند نے ستلج کو عبور کیا اور فیروز پور کے قریب وڈنی سے ملاقات کی اور پھر آنند پور کی طرف کوچ کیا۔ اس سے مالوہ کے سردار مزید پریشان ہو گئے۔ انہوں نے لاہور دربار کے خلاف متحد ہو کر انگریزوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا، جو ان کی بالادستی برقرار رکھنے میں ان کی مدد کر سکتا تھا۔ وہ برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے اتحاد پر مخمصے کا شکار نظر آتے تھے۔

مالوا کے سرداروں نے ایک میٹنگ کی اور دہلی میں برطانوی باشندے سے ملاقات کی۔ اس نے رہائشی سے اپیل کی کہ اسے رنجیت سنگھ کے عزائم کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ستلج سے متصل علاقہ ہمیشہ سے دہلی حکومت کے کنٹرول میں رہا ہے اور اب جب کہ دہلی کے تخت پر انگریز قابض ہیں تو انگریزوں کو یہ علاقہ انگریزوں کو دینا چاہیے۔ مکین نے ان کی بات نہیں سنی، لیکن وہ ان کی بالکل مدد نہیں کر سکتا تھا۔

مارچ 1808 ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ منٹو نے لکھا: "اگرچہ اصولی طور پر ہم دہلی کی ریاستوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں، جن کے ساتھ ہم اتحاد کی حدود سے باہر بھٹک چکے ہیں، لیکن ہم تنازعات اور مصیبت میں منصفانہ طریقے سے نمٹتے ہیں اور اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔" ہم جدوجہد کرنے والوں کو مکمل اعتماد دیتے ہیں۔

ہمارے پاس چھوٹے علاقوں کے لیڈروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے جو اپنے طاقتور پڑوسیوں سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ہم دفاعی پالیسی کی ضرورت کے لیے عام اصولوں میں عارضی تبدیلی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے نظر انداز کرنا ایک بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔ اور راجہ کی ستلج اور ہمارے علاقوں کے درمیان کی ریاستوں کو زیر کرنے کی کوشش، جو موجودہ حالات سے مختلف ہے، خود تفاضی کی بنیاد پر ایک مسئلہ کھڑا کر سکتی ہے۔ برطانوی طاقت کسی بھی منصوبے کی تکمیل کو روکنے میں حق بجانب ہوگی۔

انگریز رنجیت سنگھ کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا چاہتے تھے۔ اگرچہ رہائشی نے سکھ سربراہوں کو لاہور دربار کے ساتھ برتاؤ میں برطانوی ISRO کے اثر و رسوخ پر قائل نہیں کیا، لیکن اسے کم از کم امید تھی کہ برطانوی حکام ان کے ساتھ ہمدردی کریں گے اور ضرورت پڑنے پر مدد سے انکار کر دیں گے۔ برطانوی ایجنٹ نے ستلج کے پار ریاستوں کے سربراہوں کو اشارہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔ سردار متمن اس جواب کے ساتھ نیا تھا۔ انہوں نے رنجیت سنگھ کی سلطنت کی پالیسی سے بچنے کے لیے دوسرے طریقے سوچے۔ رنجیت سنگھ سیاسی کھیل کھیل رہا تھا۔ اس نے اپنے نمائندے ستلج کے پار ریاستوں کے سرداروں کے پاس بھیجے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں اور ٹھنڈا ہو جائیں۔ بعد میں امرتسر میں انگریزوں اور ونجیت سنگھ کے درمیان معاملہ طے کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے بعد ستلج کے پار کی ریاستوں کے سرداروں کی پریشانیاں ختم ہو گئیں اور انگریزوں اور رنجیت سنگھ کے تالقوں میں بھی بہتری آئی۔

7 جولائی 1799 کو لاہور پر قبضے کے بعد رنجیت سنگھ نے ابھی تک کسی اور علاقے کا رخ نہیں کیا تھا۔ درحقیقت وہ دوسری مسلوں کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔ جولائی 1799ء سے فروری 1801ء تک اس نے لاہور کو بڑے صاف ستھرا انداز میں منظم کیا۔ اس نے 1801 کے موسم گرما میں قصور پر حملہ کیا۔ حملہ ایک مسلمان پر تھا اس لیے کسی سکھ نے رنجیت سنگھ کی مخالفت نہیں کی۔ بالآخر قصور کے حکمران نے مقدمہ مان لیا اور اسے بری کر دیا، لیکن اگلے سال اس نے دوبارہ مقدمہ کی پیروی نہ کی، چنانچہ رنجیت سنگھ نے دوبارہ حملہ کر کے مقدمہ اور جرمانہ دونوں وصول کر لیے۔ جب قصور والا نے 1806 میں دوبارہ بغاوت کی تو رنجیت سنگھ نے حملہ کر کے اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا، حکمران کو قلعہ ممکوٹ (ضلع فیروز پور) اور قصور کو کچھ جاگیر دے دی۔ قصور پر حملہ کرنے کے بعد، رنجیت سنگھ نے سکھوں کے عام قصبے گرو کا چک، امرتسر پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ امرتسر اس وقت بھنگی مل کے پاس تھا۔ لاہور پہلے ہی ان سے ہار چکا تھا۔ 1804 میں رنجیت سنگھ نے جئے سنگھ گھنھیا سے توپ کا مطالبہ کیا اور امرتسر کی طرف کوچ کیا۔ وہاں پہنچ کر، رنجیت سنگھ نے چالاکی سے گلاب سنگھ بھنگی کے بیٹے سے 'بھنگیوں کے ساتھ توپ' ادھار لینے کو کہا۔ جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے اس پر حملہ کر دیا، اسے مار ڈالا اور اس کی ماں کو بارش میں گھر سے نکال دیا، ان کے قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح 25 فروری 1804 کو رنجیت سنگھ نے امرتسر پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت اکل پھول سنگھ بھی امرتسر میں تھا، لیکن رنجیت سنگھ کو روکنے یا سمجھوتہ کرنے کے بجائے وہ خاموش رہا۔ امرتسر پر قبضے نے نوجوان سکھ سرداروں کو خوفزدہ کر دیا اور انہوں نے رنجیت سنگھ سے جاگیریں لے کر سمجھوتہ کرنا شروع کر دیا۔ لاہور کے بعد ملتان مغربی پنجاب کی دوسری بڑی ریاست تھی۔ رنجیت سنگھ اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے 1803 میں ملتان کو فتح کرنے کے لیے قصبے کا محاصرہ کیا لیکن ملتان کے پٹھانوں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ رنجیت سنگھ کے دستوں کو کھانے کا مسئلہ بھی تھا۔ آخر کچھ حاصل کیے بغیر وہ واپس چلا گیا۔ اس کے بعد رنجیت سنگھ نے ملتان پر مزید پانچ حملے کیے (1805، 1807، 1810، 1816 اور 1817)۔ چھ ناکام کوششوں کے بعد، رنجیت سنگھ نے اکالی پھولا سنگھ کی مدد طلب کی۔

مہاراجہترميم

رنجیت سنگھ کی تاج پوشی 12 اپریل 1801ء کو ہوئی۔ میں صاحب سنگھ بیدی نے تاج پوشی کی تقریب انجام دی۔ 1799ء اس وقت تک ان کا محل گوجرانوالہ ہی رہا۔ 1802ء رنجیت سنگھ نے اپنا محل لاہور منتقل کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں رنجیت سنگھ اقتدار کی سیڑھی پر چڑھ گیا، ایک کالی مل کے سردار سے پنجاب کا مہاراجہ بن گیا۔

اس کے بعد کچھ عرصہ تک اس نے افغانوں سے لڑ کر انہیں پنجاب سے نکال دیا اور پشاور سمیت علاقے کے بہت سے پشتونوں کو قتل کیا۔ ان کا انتقال 1818ء میں ہوا۔ پنجاب کے جنوبی حصے اور ملتان اور پشاور کے مشتمل علاقوں میں۔ 1819ء جموں و کشمیر بھی ان کی حکومت میں آیا۔ انگے رنجیت سنگھ نے ان علاقوں سے مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت ختم کر دی۔ اس نے آنند پار صاحب کے اوپر کی پہاڑی ریاستوں کو بھی فتح کیا، جن میں سب سے بڑا کانگڑا تھا۔

جب رنجیت سنگھ کے وزیرِ خارجہ کافر عزیز الدین نے برطانوی ہند کے گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ سے شملہ میں ملاقات کی تو لارڈ آکلینڈ نے عزیز الدین سے پوچھا کہ مہاراجہ کی کون سی آنکھ اندھی تھی؟ عزیز الدین نے جواب دیا کہ مہاراجہ سورج کی مانند اور سورج کی واحد آنکھ ہے۔ اس کی اکلوتی آنکھ کی چمک اور چمک ایسی ہے کہ میں نے کبھی اس کی دوسری آنکھ میں جھانکنے کی ہمت نہیں کی۔ گورنر جنرل اس جواب سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے اپنی سونے کی گھڑی عزیز الدین کو دے دی۔

رنجیت سنگھ کی بادشاہی سیکولر تھی اور اس کے کسی بھی مہربان شخص کے ساتھ اس کے مذہب سے بالاتر سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ مہاراجہ نے سکھ عقیدے سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

خاندان اور رشتہ دارترميم

نکئی سردار خازن سنگھ کی بیٹی، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی رانی راج کور سے رنجیت سنگھ کا بیٹا کھڑک سنگھ 1802ء میں پیدا ہوا۔ جس کے بعد ایک بڑا جشن منایا گیا۔جشن کے بعد رنجیت سنگھ اور اس کے ساتھی فتح سنگھ اہلووالیہ ڈسکہ کی طرف کوچ کر گئے۔ کالے سے ملنے کے بعد رنجیت سنگھ نے یہاں ایک پولیس چوکی قائم کی اور لاہور واپس چلا گیا۔ اس وقت جسا سنگھ بھنگی نے مقامی زمینداروں کے ساتھ مل کر چنیوٹ کے قلعے میں بغاوت کی اور ہاتھ ملا لیا۔ رنجیت سنگھ اپنی فوج کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور کچھ مزاحمت کے بعد کالے اور رنجیت سنگھ کی فوجوں کو فتح ہوئی۔

کچھ عرصہ بعد قصور کے پٹھان سردار نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ اس نے افغانوں کی ایک بڑی فوج کھڑی کی اور رنجیت سنگھ کے علاقے کے کچھ گاؤں لوٹ لیے اور مزید لوٹ مار کی تیاری شروع کر دی۔ رنجیت سنگھ نے فتح سنگھ آہلووال کو قصور پہنچنے کا حکم دیا کیونکہ نواب نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اور رنجیت سنگھ اپنی فوج کے ساتھ اس کا پیچھا کرنے لگا۔ نواب نے سخت مقابلہ کیا اور پٹھان قلعہ بند کر دیا گیا کیونکہ وہ کھلے میدان میں سکھ فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس دوران بہت سے افغان مارے گئے اور قلعہ پر سکھوں نے قبضہ کر لیا اور باقی پٹھان بھی مارے گئے۔ نواب نے ہتھیار ڈال دیے، معافی دی گئی اور عہدہ پر رہنے کا وعدہ کیا۔ نواب نے بڑی رقم کی پیشکش کی اور تاوان ادا کیا۔ فتح کی خوشی میں نواب کا تحفہ غریبوں میں تقسیم کیا گیا۔

تھوڑے وقفے کے بعد مہاراجہ نے جالندھر دوآب کی طرف پیش قدمی کی۔ اور اپنی راہ میں بہت سے علاقے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔ اس نے فگو ایرا کو بھی مار ڈالا اور شہر فتح سنگھ اہلووالیا کو دے دیا۔ اس کے بعد وہ کپورتھلہ گیا اور وہاں اسے معلوم ہوا کہ ریاست کانگڑا کا راجہ سنسار چند باجواڑہ اور ہوشیار پور میں داخل ہو گیا ہے۔ رنجیت سنگھ نے ان دونوں علاقوں سے راج عالمی سنسار چند کو نکال باہر کیا اور وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کر لیے۔ اس وقت تک رنجیت سنگھ ایک بڑی طاقت بن چکا تھا۔ واپسی پر وہ رنچیت سنگھ اور کئی سکھ سرداروں کو اپنی کمان میں لے آئے جن میں تارا سنگھ گھیبا، امرتسر کے دھرم سنگھ اور فاضل پور کے بدھ سنگھ شامل تھے۔

رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کو کنہیا مثل کے سردار جے مول سنگھ کی بیٹی چاند کور کے ساتھ پرپوز کیا۔ جس پر پوری مملکت یا جشن منایا جاتا تھا اور رقص کی محفلیں سجتی تھیں۔ اسی طرح کی ایک تقریب میں رنجیت سنگھ کو ایک مسلمان رقاصہ موراں سے پیار ہو گیا اور بالآخر اس سے شادی کر لی۔ اسے رنجیت سنگھ بہت پسند تھا اور اس شادی کی خوشی میں موراں کے مجسمے ڈھالے گئے تھے۔ مہاراجہ موروں کے ساتھ گوردوارہ ہریدوار گئے۔ چاند کور نے رنجیت سنگھ کے پوتے نونہال سنگھ کو جنم دیا۔

اس شادی سے مملکت میں طوفان برپا ہوگیا۔ اس شادی پر سکھوں کی رائے بہت مضبوط تھی۔ مہاراجہ کو اکال تخت سے طلب کیا گیا۔ وہاں مہاراجہ نے معافی مانگی۔ اس نے پانچوں گرووں کو خراج تحسین پیش کیا، جن کے حکم پر اسے طلب کیا گیا تھا۔ انہوں نے رنچیت سنگھ کو سزا سنائی جسے اس نے بخوشی قبول کر لیا۔ پنج پار مہاراجہ کی فرمانبرداری سے بہت خوش ہوئے اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مہاراجہ کا 1 لاکھ 25 ہزار نانک شاہی جرمانہ قبول کر لیا۔

رنجیت سنگھ اور اسر پر موروں کا اثر قلیل مدتی تھا۔ مہاراجہ نے موروں کو پٹھان کوٹ میں بسایا جہاں اس نے اپنی زندگی کے کئی سال تنہائی میں گزارے۔

رنجیت سنگھ نے ایک سیکولر ریاست قائم کی تھی جہاں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا تھا۔ بہت سے قابل مسلمان اور ہندو مہاراجہ کی خدمت میں تھے اور مہاراجہ سب کے مذہبی امور میں شامل تھا۔ دسہرہ، ہولی، بسنت اور دیوالی کے تہوار دھوم دھام سے منائے جاتے تھے اور مہاراجہ ان میں شامل ہوتے تھے۔ امواس اور بیساکھی کے موقع پر مہاراجہ اپنی ریا کے ساتھ امرتسر کے مقدس تالاب میں ڈبکی لگاتے تھے۔ رنجیت سنگھ اپنے سیکولر کردار سے وفادار اور قابل احترام تھے۔


شہزادہ کھڑگ سنگھ کی شادی، رنجیت سنگھ اخترلونی قلعہ دیکھنے کے لیے لاہور لائے: فروری 1812ء میں سر ڈیوڈ اخترلونی شہزادہ کھڑگ سنگھ کی شادی میں شرکت کے لیے برطانوی وفد میں شامل ہوئے۔ ایک دن اس نے لاہور قلعہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس پر مہاراجہ رنجیت سنگھ اسے قلعہ دیکھنے لے آیا۔ جب محکم چند کو پتہ چلا تو وہ قلعہ کی طرف بھاگا اور دروازہ اندر سے بند کر دیا اور کہا کہ وہ کسی دشمن کو قلعہ نہیں دکھا سکتا۔ رنجیت سنگھ کی طرف تلوار اٹھاتے ہوئے اس نے کہا پہلے مجھے مارو پھر دشمن کو قلعہ دکھاؤ۔

سیکولر حکمرانترميم

سکھ سلطنت میں سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدوں پر رکھا گیا تھا۔ جن میں مسلمان، سکھ، ہندو برہمن شامل ہیں۔ رنجیت سنگھ کی فوج کا ایک حصہ سائیاں میں مرکوز تھا۔ 1831ء رنجیت سنگھ نے برطانوی ہند کے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹک سے بات چیت کے لیے ایک وفد شملہ بھیجا۔ سردار ہری سنگھ نلوا، فقیر عزیز الدین اور دیوان موتی رام - ایک سکھ، ایک مسلمان اور ایک ہندو نمائندے - کو وفد کا سربراہ مقرر کیا۔

سکھ سلطنت میں سب ایک جیسے نظر آتے تھے سب داڑھی رکھتے تھے اور پگڑی باندھتے تھے۔ زیادہ تر غیر مقامی ہندوستان، جہاں مذہب اور ذات پات کے فرق کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا، آپ پنجاب واپس آ جاتے۔ اس لیے ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ سرکار خالصہ جی میں سب ایک جیسے نظر آتے ہیں، وہ یہاں کے سبھی سکھ نہیں تھے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سکھوں نے اپنے ملازمین اور اقتدار میں رہنے والوں کو سکھ مذہب اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ سکھوں اور ان کے حکمرانوں اور تمام مذاہب کے بزرگوں کو بھی یہی احترام دیا جاتا تھا۔ ہندو یوگی، سنت، سادھو اور بیراگی، مسلمان فقیر اور پیر اور سائی راہب سبھی سکھ بادشاہی سے مستفید ہوتے رہے۔ سوائے مسلمانوں کی مذہبی قیادت کے، جنہیں سکھ شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جنہیں مذہبی جنونی کہا جاتا تھا۔

سکھوں نے اپنی لڑائیوں میں کبھی بھی ہندوستان اور بیرون ملک حملہ آوروں کی طرح صفا کی کا سہارا نہیں لیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ سکھوں میں افغانوں کے خلاف حسد اور ناراضگی تھی جو افغانوں کی طرف سے ان کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں سے بالاتر تھی جس میں سکھوں کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے سکھ مغل سلطنت کے خلاف جنگوں میں حصہ لیتے رہے اور پنجاب میں فسادات پھیلاتے رہے، اس سے آگے مغلوں نے ان کے خلاف مہم بھی چلائی اور انہیں دبایا۔ سکھ مغلوں اور افغانوں سے نفرت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے سکھوں کے تمام شور کو کچل دیا تھا، چاہے وہ کالیاں ہوں یا مرہٹ، اور امن و امان قائم کر لیا تھا۔ راج سنگھ سنگھ کے والد اور دادا کی زندگی میں افغانوں نے سکھوں کو سخت دباؤ میں رکھا اور ان پر بڑی سختیاں مسلط کیں۔ اس کے باوجود سکھ دور حکومت میں کسی پر ایسی سختیاں نہیں لگائی گئیں۔

رنجیت سنگھ کے دربار میں دو نپولین کمانڈرترميم

دو یورپی، ونٹورا ایک اطالوی اور جین فرانسس ایلارڈ ایک فرانسیسی 1822ء میں سکھ فوج میں شامل ہونے کے لیے لاہور آئے۔ دونوں نے نپولین کے ماتحت فرانسیسی امپیریل آرمی میں خدمات انجام دیں۔ واٹر لو کی جنگ میں نپولین کی شکست کے بعد، اس نے فرانسیسی فوج سے استعفیٰ دے دیا اور یورپ چھوڑنا اس کا مقدر تھا۔ اس نے رنجیت سنگھ کے دربار کی شان و شوکت کے کئی قصے سنے تھے اس لیے لاہور دیکھنے آیا۔ رنجیت سنگھ اگرچہ ان پڑھ تھا لیکن بہت ذہین تھا، وہ نپولین کے کارناموں سے واقف تھا۔ رنجیت سنگھ کو نپولین آف ایسنشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ رنجیت سنگھ نے دونوں یورپیوں سے ملاقات کی اور ان سے ان کے سفر کا مقصد اور ان کے روزگار کے بارے میں پوچھا۔ رنجیت سنگھ نے ان فوجیوں کو اپنی فوج کی پریڈ دکھائی۔ اپریل 1822ء اس نے رنجیت سنگھ کو خط لکھ کر اپنی فوج میں شامل ہونے کو کہا۔ سپاہیوں اور مہاراجہ کے درمیان رابطہ فرانسیسی زبان میں فقیر نورالدین نے کیا تھا، جو فرانسیسی، انگریزی، فارسی اور بہت سی دوسری زبانیں بولتا تھا۔ مہاراجہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ ان لوگوں کا انگریزوں سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس کی کمان میں پورپی (بہاری) اور گھبلا ریاستوں کے کچھ ہندو تھے جو رنجیت سنگھ کی خدمت میں تھے۔ اس نے پوری سکھ فوج کو یورپی طرز کی جنگی تربیت بھی فراہم کی۔

ونٹورا کی فوج کو "آرمی اسپیشل" کہا جاتا تھا اور ایلارڈ سے جلد ہی فرانسیسی فوجیوں کا ایک دستہ بنانے کو کہا گیا۔

رنجیت سنگھ نے ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ یورپی طاقتوں اور مہراجوں کے درمیان جنگ کی صورت میں انہیں خُلس کی حکومت کے ساتھ وفادار رہنا ہو گا اور رنجیت سنگھ کی طرف سے لڑنا ہو گا۔ اور انہیں لمبی داڑھی بڑھانا ہو گی اور زیادہ مقدار میں گوشت اور تمباکو سے پرہیز کرنا ہو گا۔ رنجیت سنگھ نے ونٹورا اور ایلارڈ کو رہائش اور اچھی تنخواہ پر مقرر کیا۔ گگا نے لدھیانہ کی ایک مسلمان لڑکی سے شادی کرتے وقت ونٹورا کو 40,000 روپے ادا کیے تھے۔ ونٹورا کی بیٹی کو بعد میں جاگیر کے سؤروں پر دو گاؤں دیے گئے۔ ونٹورا نے لاہور میں فرانسیسی طرز کا ایک خوبصورت گھر بنایا جو آج بھی انارکلی کے قریب موجود ہے۔ اس سے رنجیت سنگھ کے آدمیوں کی شناخت اور میراث کا اندازہ ہوتا ہے۔

یورپیوں کی نظر میں رنجیت سنگھترميم

رنجیت سنگھ کے دربار میں ایک اور مشہور سیاہ فام آدمی چارلس ہوگل تھا جو ایک جرمن سائنسدان تھا جس نے پنجاب اور کشمیر میں بہت سیر کی تھی۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں پنجاب برطانوی راج کے تحت ہندوستانی علاقوں سے زیادہ محفوظ تھا۔ اس نے رنجیت سنگھ کے ساتھ اپنی گفتگو بھی ریکارڈ کی، جس میں اسے ہگلی سے کئی سوالات ملے۔ رنجیت سنگھ ہگلی سے جرمن فوج اور فرانس کے ساتھ جرمنی کی جنگ کے بارے میں پوچھے گا۔ اس نے ہگلی سے پوچھا کہ وہ فوج کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور یورپی فوج سے لڑنے کا کیا مطلب ہے۔

وکٹر جیک مونٹ، ایک فرانسیسی سیاہ فام آدمی نے گفتگو اور اس کی تیز عقل کی تعریف کی۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ تقریباً پہلا ہندوستانی تھا جس نے مجھے دیکھا جو متجسس تھا اور اس نے مجھ سے ہندوستان، یورپ، نپولین اور بہت سے دوسرے موضوعات پر لاکھوں سوالات پوچھے۔

تمام سائی مشنری بھی رنجیت سنگھ کے دربار میں آئے، اور بہت سے لوگوں نے کانونٹ اسکول اور چرچ بنانے کی اجازت مانگی، لیکن اس نے انکار کردیا۔ اس نے انہیں پنجابی زبان سکھانے کو کہا۔ رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب اور انگریزوں کے اتحاد کے بعد پورے پنجاب میں کانونٹ اسکول اور چرچ بنائے گئے۔

حوالہ جاتترميم

ماقبل 
چڑت سنگھ
سربراہ سکرچکیہ مثل
اپریل 1792ء11 اپریل 1801ء
مابعد 
عہدہ ختم
ماقبل 
عہدہ ختم
مہاراجہ سکھ سلطنت
12 اپریل 1801ء27 جون 1839ء
مابعد 
کھڑک سنگھ