سید نفیس الحسینی

پاکستانی خطاط، عالم دین، روحانی شخصیت

سید نفیس الحسینی نفیس رقم (پیدائش: 11 مارچ 1933ء - وفات: 5 فروری 2008ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور خطاط، عالم دین، شاعر اور روحانی شخصیت تھے۔ وہ خط نفیسی کے موجد تھے۔

سید نفیس الحسینی نفیس رقم
معلومات شخصیت
پیدائش 11 مارچ 1933(1933-03-11)ء
موضع گھوڑیالہ، ضلع سیالکوٹ، برطانوی ہندوستان
وفات فروری 5، 2008(2008-02-05)ء
لاہور، پاکستان
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
مناصب
صدر (3 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
در اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد یوسف لدھیانوی 
عبد المجید لدھیانوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
تلمیذ خاص مولانا الله وسايا،  عبد المجید لدھیانوی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ خطاط،  عالم،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت خطاطی، عالم دین، شاعری
صنف خط نفیسی
تحریک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

حالات زندگی و فنترميم

نفیس رقم 11 مارچ، 1933ء کو موضع گھوڑیالہ ، ضلع سیالکوٹ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید انور حسین تھا۔ آپ نے اپنے والد سید محمد اشرف علی سید القلم اور حکیم سید نیک عالم سے خطاطی کے رموز سیکھے۔ 1951ء میں آپ مستقلاً لاہور منتقل ہو گئے اور بہت جلد عالم اسلام کے نامور خطاطوں میں شمار ہونے لگے۔ آپ نے خط نستعلیق میں خط نفیسی کے نام سے ایک خط بھی ایجاد کیا تھا۔ انہیں خانہ کعبہ، مینار پاکستان، اسلامک سمٹ مینار، عجائب گھر لاہور اور ایوان اقبال میں خطاطی کا موقع ملا۔ آپ نستعلیق کے علاوہ ثلث، نسخ، دیوانی، رقعہ، اعجاز اور کوفی خطوط پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ سید نفیس الحسینی ایک بلند پایہ صوفی بزرگ اور شیخ طریقت بھی تھے اور مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز تھے۔[1]

اعزازاتترميم

حکومت پاکستان نے نفیس الحسینی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست، 1985ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔[1]

وفاتترميم

سید نفیس الحسینی نفیس رقم 5 فروری 2008ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور ہی میں خانقاہ حضرت سید احمد شہید میں آسودۂ خاک ہوئے۔[1]

مزید دیکھیےترميم

  • شاہد عالم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ص 1003، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء