شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار

حضرت سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار ایک صوفی بزرگ تھے جنھوں نے مداریہ سللسہ کی بنیاد رکھی۔ [2] آپ کو قطب المدار کےلقب سےبھی جانا جاتا تھا۔ شاہ  بدیع الدین احمد قطب المدار ؒ کی  ولادت   یکم ؍شوال 242ھ کو ملک شام  کے قدیم اور مشہور  شہرحلب میں ہوئی ۔آپ کے والد کا نام سید قدوۃالدین علی حلبی اور والد کا نام سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی ہاجرہ تھا۔آپ  حسنی حسینی سادات  میں سے ہیں۔  آپ والد ہ کی طرف سے حسنی اور والد  کی طرف سے حسینی تھے۔ [3]

شاہ مدار
شاہ مدار
صدر دروازہ درگاہ حضرت سید بدیع الدین احمد شاہ مدار واقع مکن پور کانپور
ذاتی
پیدائش
بدیع الدین احمد

1 شوال 242ھ مطابق 31 جنوری 857ء [1]
[حلب]], شام
وفات838 ھ مطابق 1434ء
مذہباسلام
عروجاسلامی عہد زریں
فرقہسنی
مدرسہحنفی, ماتریدی
سلسلہمداریہ
مرتبہ
استاذبایزید بسطامی

تعلیمترميم

آپ کی عمر جب چار سال چار ماہ اور چار دن کی ہوئی تو آپ کے والد نے رسم بسم اللہ خوانی کے لئے حضرت حذیفہ مرعشی شامی جو اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ان کی خدمت میں پیش کیا ۔استاد محترم نے اپنا پورا حق ادا کیا ۔ابتدائی تعلیم سے لیکر شریعت کے تمام علوم و فنون سےآ راستہ کیا ،اور جب آپ کی عمر 14 سال کی ہوئی تو علوم عقلیہ و نقلیہ میں آپ کو مہارت ہو چکی تھی۔حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ آپ تمامی آسمانی کتابوں خصوصاًتوریت ،انجیل و زبور کے بھی حافظ تھے۔ [4]

بیعت و خلافتترميم

ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد علم بطن کے حصول کے لئے سفر شروع کیا اور جذبہ شوق نے زیارت حرمین شریفین کے لئے قدم بڑھائے اور والدین سے اجازت مانگی اور عازم حرمین ہوئے ۔دوران سفر حج 259 ھ میں آپ بیت المقدس گئے اور وہاں حضرت بایزید بسطامی ؒسے ملاقات کا شرف حاصل کیااور ان سے اجازت و خلافت حاصل کی اور وہاں سے حج بیت اللہ کے لئے مکہ معظّمہ روانہ ہو گئے۔ [5]

حالاتترميم

حج کرنے کے بعد آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اورحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت سے سرفراز ہوئے اور وہاں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں نظرانہ عقیدت کے پھول پیش کئے۔وہیں آ پ نے خواب میں رسول اکرم ﷺ کی ز یارت سے فیضیاب ہوئے ۔ آپ ﷺ نے آپ کو فرمایا کہ ہندوستان جا ؤ اور وہاں جا کر مخلوق خدا کی ہدایت و رہنمائی کرو۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن حلب شام کو واپس ہوئے اور آپ نے اپنے والدین کو بتا کر وہاں سے ہندوستان کا سفر کیا۔ اورگجرات کے علاقہ کھمبات کے ساحل پر اترے اور دین اسلام کی اشاعت میں مشغول ہو گئے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے آپ اجمیر ،کالپی ،قنوج وغیرہ ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے۔ [6] پروفسر محمداقبال مجددی مرآۃ مداری کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ شاہ مدار ؒ گجرات کے راستے ہندوستان آئے اور اجمیر پہنچ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے عقیدت و مودت کا اظہار کیا۔ اجمیر سے کالپی گئے اور وہاں بھی قبول عام حاصؒ ہوا ،وہاں سے قبوج میں داخل ہوئے تو خواص و عام نے استقبال کیا ۔مخدوم جہانیاں جہاں گست بخاریؒ کے خلیفہ شیخ اخی جمشید نے بہت تکریم کی اور شاہ مدار نے قنوج کے مضافات میں طرح اقامت ڈال دی اور وہ قصبہ مکن پور کہلاتا ہے۔[7]قاضی اطہر مبارکپوری ؒ لکھتے ہیں کہ شاہ مدار جونپور بھی گئے وہاں کچھ عرصہ قیام کیا وہاں کے معروف عالم قاضی شہاب الدین دولت آبادی ؒ کے ساتھ ان کے تعلقات نا خوشگوار ہو گئے ،قاضی صاحب نے شاہ مدار سے مراسلت کی اور کئی اختلافی مسائل میں مباہشہ رہا، جب شاہ شاہ مدار ؒ کے ظاہری احوال قاضی صاحب کے سامنے تھے ،ان کے منکروں میں رہے ،مگر بعد میں افہام و تفہیم اور خط و کتابت کے ذریعہ اصل حقیقت معلوم ہو گئی اس وقت قاضی صاحب ان کی مشخیت کے قائل ہوئے۔[8]اس کے بعد قاضی صاحب اور شاہ مدارؒ کے مابین قریبی تعلقات کی ابتدا ء ہوئی اور قاضی صاحب آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے۔[9]شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لوگ آپ کے متعلق بڑے بڑے عجیب وغریب واقعات نقل کرتے ہیں کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں رہا کرتے تھے جو صوفیوں کا ایک مقام ہے،آپ نے بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا ،ایک بار جس کپڑے کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے ،اکثر کپڑے سے چہرہ ڈھانپے رہتے تھے،آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑ جاتی تو وہ بے اختیار ہو کر آپ کی غایت درجہ تعظیم وتکریم کرتا۔ 6 اپریل 2019ء کو شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار ؒ کی درگاہ پر حاضری دینے کا شرف حاصل ہوا ۔آپ کی درگاہ ضلع کانپور نگر کے قصبہ مکن پور میں واقع ہے۔مکن پور آل سادات کی بستی ہے۔آپ کے پیروں مداری کہلاتے ہیں۔ شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار ؒ سلسلہ مداریہ طیفوریہ کے بانی تھے۔ شاہ بدیع الدین احمد قطب المدار ؒ کی ولادت یکم ؍شوال 242ھ کو ملک شام کے قدیم اور مشہور شہرحلب میں ہوئی ۔آپ کے والد کا نام سید قدوۃالدین علی حلبی اور والد کا نام سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی ہاجرہ تھا۔آپ حسنی حسینی سادات میں سے ہیں۔ آپ والد ہ کی طرف سے حسنی اور والد کی طرف سے حسینی تھے۔ مرتب سوانح حیات زندہ شاہ مدار لکھتےہیں کہ آپ کی عمر جب چار سال چار ماہ اور چار دن کی ہوئی تو آپ کے والد نے رسم بسم اللہ خوانی کے لئے حضرت حذیفہ مرعشی شامی جو اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ان کی خدمت میں پیش کیا ۔استاد محترم نے اپنا پورا حق ادا کیا ۔ابتدائی تعلیم سے لیکر شریعت کے تمام علوم و فنون سےآ راستہ کیا ،اور جب آپ کی عمر 14 سال کی ہوئی تو علوم عقلیہ و نقلیہ میں آپ کو مہارت ہو چکی تھی۔حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ آپ تمامی آسمانی کتابوں خصوصاًتوریت ،انجیل و زبور کے بھی حافظ تھے۔ آپ نے حلب ہی تعلیم اور علم کیمیا وغیرہ سیکھا۔ جوانی میں ہی سیر و سیاحت کے لیے چل پڑے ،طویل سفر کیے ۔آنحضرتﷺ کے روحانی اشا رے پر ہندوستان آئے ۔وہ اویسی المشرب تھے اور طریقہ اویسیہ کو ہندو پاک میں متعارف کرانے والے یہی بزرگ تھے۔معروف صوفی شیخ اشرف جہانگیر سمنانیؒ شاہ مدار کے معاصر اور کئی اسفار میں ان کے ہم سفر تھے۔(لطائف اشرفیہ لطیفہ12 جلد اول) سات ضخیم جلدوں میں طبع فرمایا۔

بیعت و خلافتترميم

ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد علم بطن کے حصول کے لئے سفر شروع کیا اور جذبہ شوق نے زیارت حرمین شریفین کے لئے قدم بڑھائے اور والدین سے اجازت مانگی اور عازم حرمین ہوئے ۔دوران سفر حج 259 ھ میں آپ بیت المقدس گئے اور وہاں حضرت بایزید بسطامی ؒ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور ان سے اجازت و خلافت حاصل کی اور وہاں سے حج بیت اللہ کے لئے مکہ معظّمہ روانہ ہو گئے۔ حج کرنے کے بعد آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اورحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت سے سرفراز ہوئے اور وہاں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں نظرانہ عقیدت کے پھول پیش کئے۔وہیں آ پ نے خواب میں رسول اکرم ﷺ کی ز یارت سے فیضیاب ہوئے ۔ آپ ﷺ نے آپ کو فرمایا کہ ہندوستان جا ؤ اور وہاں جا کر مخلوق خدا کی ہدایت و رہنائی کرو۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن حلب شام کو واپس ہوئے اور آپ نے اپنے والدین کو بتا کر وہاں سے ہندوستان کا سفر کیا۔ اورگجرات کے علاقہ کھمبات کے ساحل پر اترے اور دین اسلام کی اشاعت میں مشغول ہو گئے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے آپ اجمیر ،کالپی ،قنوج وغیرہ ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے ۔پروفسر محمداقبال مجددی مرآۃ مداری کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ شاہ مدار ؒ گجرات کے راستے ہندوستان آئے اور اجمیر پہنچ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے عقیدت و مودت کا اظہار کیا۔ اجمیر سے کالپی گئے اور وہاں بھی قبول عام حاصؒ ہوا ،وہاں سے قبوج میں داخل ہوئے تو خواص و عام نے استقبال کیا ۔مخدوم جہانیاں جہاں گست بخاریؒ کے خلیفہ شیخ اخی جمشید نے بہت تکریم کی اور شاہ مدار نے قنوج کے مضافات میں طرح اقامت ڈال دی اور وہ قصبہ مکن پور کہلاتا ہے۔ قاضی اطہر مبارکپوری ؒ لکھتے ہیں کہ شاہ مدار جونپور بھی گئے وہاں کچھ عرصہ قیام کیا وہاں کے معروف عالم قاضی شہاب الدین دولت آبادی ؒ کے ساتھ ان کے تعلقات نا خوشگوار ہو گئے ،قاضی صاحب نے شاہ مدار سے مراسلت کی اور کئی اختلافی مسائل میں مباہشہ رہا، جب شاہ شاہ مدار ؒ کے ظاہری احوال قاضی صاحب کے سامنے تھے ،ان کے منکروں میں رہے ،مگر بعد میں افہام و تفہیم اور خط و کتابت کے ذریعہ اصل حقیقت معلوم ہو گئی اس وقت قاضی صاحب ان کی مشخیت کے قائل ہوئے۔ اس کے بعد قاضی صاحب اور شاہ مدارؒ کے مابین قریبی تعلقات کی ابتدا ء ہوئی اور قاضی صاحب آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ؒ آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لوگ آپ کے متعلق بڑے بڑے عجیب وغریب واقعات نقل کرتے ہیں کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں رہا کرتے تھے جو صوفیوں کا ایک مقام ہے،آپ نے بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا ،ایک بار جس کپڑے کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے ،اکثر کپڑے سے چہرہ ڈھانپے رہتے تھے،آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑ جاتی تو وہ بے اختیار ہو کر آپ کی غایت درجہ تعظیم وتکریم کرتا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ مزید لکھتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ عمر کے طویل ہونے یا کسی اور وجہ سے آپ کا سلسلہ پانچ یا چھواسطوں سے رسول کریمﷺ تک مل جاتا ہے اور سلسلہ مداریہ کے بعض لوگ تو آپ کو بغیر کسی واسطہ کے رسول ﷺ تک پہنچا دیتے ہیں۔بعض کچھ اور کہتے ہیں لیکن یہ سب باتیں حدود شریعت سے خارج اور بے اصل ہیں۔واللہ اعلم با لصواب۔[10]

خلیفہترميم

  • خواجہ سید ابو محمد ارغون
  • خواجہ سید ابو تراب فنسوری
  • خواجہ سید ابوالحسن طیفور
  • سید اجمل شاہ بہرائچی
  • سید صدرالدین جونپوری
  • میر صدرجہاں جون پوری
  • جانے من جنتی
  • قاضی محمود کنتوری

[11]

وفاتترميم

آ پ کی وفات 17 جمادی الاول 838 ھ میں ہوئی ۔آپ کی مزارمکن پورممیں ہے ۔ [12]

حوالہ جاتترميم

  1. سوانح حیات زندہ شاہ مدار
  2. Annals of the Bhandarkar Oriental Research Institute. The Institute. 2006. صفحہ 241. 
  3. سوانح حیات زندہ شاہ مدار
  4. سوانح حیات زندہ شاہ مدار
  5. Murray Thurston Titus (1930). Indian Islam: a religious history of Islam in India. H. Milford, Oxford university press. صفحہ 128. 
  6. سوانح حیات زندہ شاہ مدار ص 90
  7. تذکرہ علماء و مشائخ پاکستان و ہند جلد اول ص 276 مطبوعہ 2013ء لاہور
  8. دیار پورب میں علم اور علماء ص 198-199 مطبوعہ 2009ء نئی دہلی
  9. تذکرہ علماء و مشائخ پاکستان و ہند جلد اول ص 276 مطبوعہ 2013ء لاہور
  10. اخبار الاخیار ص 355
  11. https://drive.google.com/file/d/1objQzs2umL2h5g9VURLkkSh4MyfN3oCs/view
  12. Bhanwarlal Nathuram Luniya (1955). Evolution of Indian culture (From the earliest times to the present day). L.N. Agarwal. صفحہ 439.