شہرکاری

شہرکاری مستقبل کا سنگین مسئلہ قرار پائے گا

شہرکاری یا شہریانہ یا اربنائزیشن (انگریزی: urbanization) سے مراد دیہی علاقوں میں بسنے والی آبادی کا شہری علاقوں میں منتقل ہونے کا عمل ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کے تناسب میں بتدریج اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس عمل کے باعث قصبے اور شہر قائم ہوتے ہیں اور جیسے جیسے لوگ اُن کے مرکزی علاقوں کی طرف رخ کرنا اور وہاں کام کرنا شروع کرتے ہیں، ان کی وسعت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔[1] اقوام متحدہ نے پیشین گوئی کی تھی کہ 2008ء کے اواخر تک نصف عالمی آبادی شہروں میں آباد ہوگی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050ء تک، ترقی پزیر ممالک میں 64 فی صد اور ترقی یافتہ ممالک میں 86 فی صد آبادی شہروں کا رخ کرچکی ہوگی۔[2] گویا 2050ء تک تقریباً 3 بلین آبادی شہری ہوگی، جس کا بڑا حصہ افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھتا ہوگا۔ قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2015ء سے 2030ء تک کے دوران عالمی آبادی میں ہونے والے تقریباً تمام تر اضافے کو شہر اپنے آپ میں سمو لیں گے۔[3]

عالمی شہرکاری کا نقشہ جو 2012ء میں فی ملک شہرکاری کا فی صد ظاہر کر رہا ہے۔
گوانگژو، 12.7 ملین افراد کا شہر، ایک دوسرے کے قریب واقع 8 گنجان ترین شہروں میں سے ایک۔

شہرکاری میں جغرافیہ، معاشریات، معاشیات، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ سمیت متعد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اس امرِ واقع کا جدیدیت، صنعت کاری اور تاویلات کے معاشرتی عمل سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ شہرکاری کو دو پیمانوں میں ماپا جا سکتا ہے: مجموعی آبادی کے تناظر میں شہری ترقی کی سطح یا شہری آبادی کے تناسب میں اضافے کی شرح۔ شہرکاری کے نتیجے میں بے حد وسیع معاشرتی، معاشی اور ماحولیاتی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں، جو اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ قدرتی ذخائر کو احتیاط سے استعمال کیا جائے تاکہ زمین استعمال کے زیادہ سے زیادہ قابل رہے اور قدرتی ایکوسسٹم کے حیاتی تنوع کا تحفظ ہو سکے۔

شہرکاری محض دورِ حاضر کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ عالمی پیمانے پر انسانی معاشرے کی گہرائی میں ہونے والی تیز رفتار اور تاریخی تبدیلی ہے، جس کے نتیجے دیہی ثقافت پر بتدریج شہری ثقافت غالب آ رہی ہے۔ آبادکاری کے طرز میں پہلی بڑی تبدیلی کئی ہزار سال قبل رونما ہوئی تھی جب گاؤں دیہاتوں میں شکار پر زندہ رہنے والے معاشروں کی کثرت ہو گئی۔ دیہی اور شہری ثقافت اور طرزِ زندگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ مشترک حسب نسب، قریبی رشتے اور اجتماعی رویے دیہی ثقافت کی خصوصیات ہیں، جبکہ شہری ثقافت میں دور دراز کے تعلقات، نامانوس رشتے اور مسابقت کی فضا ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ لوگوں کی شہرکاری کی یہ بے مثال تحریک ابھی جاری رہے گی اور اگلی چند دہائیوں میں اس میں شدت دیکھنے میں آئے گی، جس سے شہروں کی آبادی میں اس قدر اضافہ ہوگا جس کا ایک صدی قبل تصور بھی محال تھا۔

فی الوقت ایشیا کے شہروں کے گنجان پن کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ کیئہانشین، کراچی، جکارتہ، ممبئی، شنگھائی، منیلا، سیول اور بیجنگ، ہر شہر 2 کروڑ سے زائد افراد کا گھر ہے، جبکہ دہلی اور ٹوکیو کی آبادی اگلی دہائی میں 4 کروڑ سے بڑھ جانے کی توقع ہے۔ ایشیا سے باہر، میکسیکو شہر، ساؤ پاؤلو، نیویارک شہر، لاگوس، لاس اینجلس اور قاہرہ تیزی سے 2 کروڑ آبادی کے حامل شہروں کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے بڑھ رہے ہیں یا پہلے ہی شامل ہو چکے ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Urbanization in 2013" (بزبان انگریزی)۔ ڈیموگرافک پارٹیشنز (demographic partitions)۔ 28 جنوری 2014ء 
  2. "Open-air computers" (بزبان انگریزی)۔ دی اکانومسٹ۔ 27 اکتوبر 2012ء 
  3. بارنے کوہن (2015ء)۔ "Urbanization, City Growth, and the New United Nations Development Agenda" (بزبان انگریزی)۔ کورنر اسٹون، کوئلے کی عالمی صنعت کا باضابطہ جرنل