لاگوس (انگریزی: Lagos) نائجیریا کا سب سے بڑا شہر اور بندرگاہ ہے۔ شہر کی آبادی ایک سے ڈیڑھ کروڑ کے درمیان ہے، اس طرح یہ بر اعظم افریقا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

لاگوس
Lagos Island.jpg
 

لاگوس
پرچم
لاگوس
نشان

Map of the Local Government Areas of Lagos.png
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Nigeria.svg نائجیریا  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ لاگوس ریاست  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 6°27′N 3°24′E / 6.45°N 3.4°E / 6.45; 3.4  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 1171280000 مربع میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 34 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 21324000 (2015)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+01:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 2332459  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یہ شہر 12 دسمبر 1991ء تک نائجیریا کا دارالحکومت رہا، جسے بعد ازاں ابوجا منتقل کر دیا گیا۔ اس شہر کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود دارالحکومت نہیں ہیں۔

تاریخترميم

گو کہ یہ علاقہ پہلے سے آباد تھا لیکن اس کو لاگوس کا نام 1472ء میں پرتگیزی جہاز راں سیکوئرا نے دیا جس کے معنے "جھیلیں " کے ہیں۔ 1851ء تک یہ علاقہ تجارتِ غلاماں کے لیے معروف رہا۔ 1841ء میں لاگوس کے تخت پر اوبا آکیٹوئے براجمان ہوئے تو انہوں نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگانے کی کوشش کی لیکن مقامی تاجروں نے اس پابندی کے خلاف مزاحمت کی اور شاہ کو تخت سے اتار کر اس کے بھائی کو بادشاہ بنا دیا۔ اوبا نے جلا وطنی کے ایام میں برطانیہ کے حکام سے ملاقات کی اور بالآخر 1807ء میں غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کر دی گئی اور اوبا نے اپنا انہیں ایک مرتبہ لاگوس کا تخت مل گیا۔

1861ء میں سلطنت برطانیہ نے لاگوس کو نو آبادی بنا لیا اور 1886ء تک موجودہ پورے نائجیریا پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا۔ 1914ء میں جب نائجیریا محروسہ مملکت (Protectorate of Nigeria) کا قیام عمل میں آیا تو لاگوس کو اس کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ 1960ء میں برطانیہ کی آزادی کے بعد بھی ملک کا دار الحکومت رہا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں نائجیریا میں اقتصادی ترقی کے نتیجے میں یہاں تیز رفتار ترقی ہوئی۔ شہر 1914ء سے 1991ء تک نائجیریا کا دار الحکومت رہا، جس کے بعد یہ وفاقی علاقہ دار الحکومت کے خطاب سے محروم کر دیا گیا اور دار الحکومت نئے قائم شدہ شہر ابوجا منتقل کر دیا گیا۔

جغرافیہترميم

لاگوس بحر اوقیانوس کی خلیج گنی کے ساحلوں پر دریائے نائجر کے ڈیلٹائی علاقے کے مغرب میں واقع ہے۔ شہر ایک بڑی ساحلی جھیل اور اس میں متعدد بڑے جزائر کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ تین بڑے جزیرے جزیرہ لاگوس، اکیویی اور وکٹوریہ ہیں۔ تجارتی مرکز جزیرہ لاگوس ہے جو تین پلوں کے ذریعے باقی جزائر سے جڑا ہوا ہے۔

معیشتترميم

لاگوس میں نائجیریا کی اہم ترین بندرگاہ واقع ہے۔ یہ بندرگاہ صارفی، غذائی مصنوعات، گاڑیاں، مشینری اور صنعتی خام مال کی درآمد اور لکڑی اور زرعی مصنوعات کی برآمد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ البتہ اس بندرگاہ سے برآمد ہونے والی سب سے اہم شے خام تیل ہے جس کی برآمد میں 1997ء سے 2000ء کے درمیان بہت اضافہ ہوا۔ ملک کی کل جی ڈی پی کا 20 فیصد اور غیر ملکی شرح مبادلہ کا 95 فیصد تیل و پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔

لاگوس نائجیریا کا تجارتی مرکز بھی ہے۔ ملک کے تمام بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے دفاتر یہاں واقع ہیں۔ نائجیریا کی مشہور مالیاتی جعل سازیاں بھی یہیں ہوتی ہیں۔

نائجیریا کی کل صنعتی صلاحیت کا نصف سے زائد لاگوس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہے۔

جامعاتترميم

جامعہ لاگوس، پین-افریقن جامعہ اور لاگوس ریاستی جامعہ یہاں کی مشہور جامعات ہیں۔ جامعہ لاگوس 1962ء میں قائم کی گئی جس کے موجودہ طلبہ کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہے۔ اس کے 13 کلیہ جات ہیں اور عملے کی تعداد 4 ہزار ہے۔

جڑواں شہرترميم

متعلقہ مضامینترميم

  1.    "صفحہ لاگوس في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2020ء. 
  2.     "صفحہ لاگوس في ميوزك برينز.". MusicBrainz area ID. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2020ء.