شیرشابادی یا شیرشابادیہ بھی کہاجاتا ہے۔(بنگلہ: শেরশাবাদী )(انگریزی: Shershahabadia [1]) یہ ایک مسلم قوم ہے جو ہندوستانی ریاستمغربی بنگال، بہار، آسام اور جھارکھنڈ میں موجود ہے۔ انھیں مختصرا بادیہ یا بادھیا بھی کہا جاتا ہے۔ اسی نام کی وجہ سے بعض لوگ انھیں مغربی بنگال کے بیدیہ سے ان کا تعلق جوڑتے ہیں۔ جب کہ عادات و اطوار، رہن سہن، بول چال، کھان پان کسی بھی اعتبار سے یہ بیدیہ سے میل نہیں کھاتے ہیں۔

وجہ تسمیہ

ترمیم

شیرشاہ بادیہ فارسی شیر شاہ آبادی ہا کی زبان زد شکل ہے۔ جس کا مفہوم ہے "وہ آبادی جسے شیر شاہ نے بسایا"۔ مسلم حکمراں شیر شاہ سوری نے مغربی بنگال کے ضلع مرشدابادہ کے لال گولہ علاقے اور اس کے آس پاس میں مسلم آبادیوں کو بسایا تھا۔ اس علاقے کو شیرشاہ باد پرگنہ کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ اس لیے یہ لوگ خود کو شیر شاہ سوری سے منسوب کرتے ہوئے شیرشاہ آبادی کہلواتے ہیں۔

یہ قوم برصغیر کے تین ممالک ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے مخصوص خطوں میں آباد ہے۔ یہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں بہار، مغربی بنگال، آسام، اور جھارکھنڈ میں آباد ہے۔ یہ قوم گرچہ برصغیر کے مختلف خطوں میں موجود ہے لیکن ان کی مادری زبان بنگلہ ہی ہے۔ اب دور حاضر میں اس قوم کے پڑھے لکھے اور کاروباری افراد ہندوستان کی قومی زبان ہندی بھی بول لیتے ہیں۔

مغربی بنگال کے مالدہ، مرشدآباد، ندیا اور بردوان کے کچھ علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بہار کے کٹیہار، پورنیہ، کشن گنج، سپول، اور ارریہ کے بعض علاقوں میں یہ موجود ہیں۔ اور جھارکھنڈ کے دو اضلاع صاحب گنج اور پاکوڑ میں ان کی آبادی ہے۔ آسام کے درنگ، برپیٹا، گوال پاڑہ اور دھوبڑی میں بھی ان کی آبادی موجود ہے۔

نیپال کے سرحدی علاقے میں بھی یہ بستے ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے سرحدی ضلع چاپائی نواب گنج میں بھی ان کی اچھی تعداد موجود ہے۔

ادب و ثقافت

ترمیم

اس برادری کی زبان گوکہ بنگلہ ہی ہے۔ لیکن یہ بنگلہ اپنے خاص لہجے میں بولتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی بولی ادبی بنگلہ سے کافی مختلف ہے۔ اور بسا اوقات ان کی زبان ایک غیر شیر شاہ آبادی بنگالی کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور ان کی بولی اب تک زبان کی حیثیت نہیں پاسکی ہے۔ اس لیے ان کی ادب و ثقافت اب تک مکتوب نہیں ہے۔ ان کی ادب سے متعلق کئی چیزیں شاہ کار ہیں۔ جن کا مکتوب ہونا ضروری ہے۔

بادھیا گیت

ترمیم

اس قوم کا ایک خاصہ شادی بیاہ کے موقعوں پر گائی جانے والی گیت ہے۔ جو عورتیں جھنڈ کی شکل میں گاتی ہیں۔ جو اب تک کتابی شکل میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ بس سینہ بہ سینہ یہ نغمے محفوظ ہوتے آئے ہیں۔

ان گیتوں کا انداز بہت ہی نرالا اور دل چسپ ہے۔ مختلف موضوعات پر ازدواجی زندگی کے احوال کو نظم کی شکل میں گایا جاتا ہے۔ مثلا:

  1. آنگنا جھوم جھوم جوڑ کوبیتور ۔۔۔۔۔ باجے
  2. ناودا پاڑار چھونڑا گالا سوبھائی کوکور
  3. کانکھے کولوس کورے بیہولا
  4. ہامار من ٹا سورے نا گے ماں سوسُوریر سنگے جائتے

یہ گیت اس قوم کی ادب کا ایک نایاب حصہ ہیں۔ جن کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا اس قوم کی ذمہ داری ہے۔

پھوسٹی

ترمیم

محاورہ یا ضرب المثل کو یہ لوگ پھوسٹی یا پھوشٹی کہتے ہیں۔ زندگی کے بیش قیمت اصولوں پر مبنی ان گنت محاورے اور ضرب الامثال اس برادری میں عام ہیں۔ اور ماضی قریب میں اس کا چلن ہر طبقے میں تھا۔ اب بھی بہ وقتِ ضرورت کسی بات کی مزید وضاحت کے لیے بڑے بزرگ لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ بہ طور مثال چند محاورے دیکھیں:

  1. پائیٹ پھیر آنچار؟ (ایک تو مزدور پھر اچار کی چاہت)
  2. عِلّوت جائی دھوئیلے خاصلوت جائی موئیلے
  3. لاج نائی ہائیلیا کے، لاج نائی جائیلیا کے

حوالہ جات

ترمیم

[1]

  1. شیر شاہ آبادی ہا آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ aamee.me (Error: unknown archive URL), ظفر شیر شاہ آبادی۔