شیش محل، پاکستان کے شہر لاہور کے شاہ برج میں مغل دور کی عمارت ہے جو قلعہ لاہور کے شمال مغربی کونے میں واقع ہے۔ یہ عمارت مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر کی گئی۔ عمارت کو سفید سنگ مرمر، راستوں کو پیتری دورا جبکہ تمام اندرون عمارت کو شیشے کی مدد سے انتہائی نفاست سے سجایا گیا ہے۔ اس عمارت کا مرکزی حصے تک صرف شاہی خاندان اور ان کے قریبی عزیزوں اور احباب کی رسائی تھی۔ یہ عمارت، ان 21 یادگاروں میں سے ایک ہے جو مغل سلاطین نے قلعہ لاہور کے احاطے میں تعمیر کروائیں۔ ۔[1] شیش محل کو قلعہ لاہور کے ساتھ ہی 1981ء میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔

شیش محل
عمومی معلومات
قسمعوامی یادگار
معماری طرزمغل
مقام پاکستان: لاہور، پاکستان
متناسقات31°35′23″N 74°18′47″E / 31.589827°N 74.313165°E / 31.589827; 74.313165
آغاز تعمیر1631
تکمیل1632
ڈیزائن اور تعمیر
معمارآصف خان

اشتقاقیات

ترمیم

شیش محل، اردو زبان میں اس کا مطلب شیشے کا محل یا بلوری محل کے ہیں۔ حالانکہ عمارت میں پیتری دورا کی سجاوٹ اور سفید سنگ مرمر کی دیواروں میں نصب شیشے پر جب روشنی منعکس ہوتی ہے تو عمارت کے اندرونی حصے میں انعکاس کی وجہ سے بلوری چمک پیدا ہوتی ہے۔ اس عمارت کو اسی وجہ سے شیش محل، آئینوں کا محل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کی عمارات قلعہ آگرہ اور ایسی عمارتوں سے متاثر کنندہ عمارتیں قلعہ امبر اور ہری مندر صاحب میں بھی ملتی ہیں۔

تاریخ

ترمیم
 
شیش محل کا بیرونی منظر، جو سامنے سے لیا گیا ہے

قلعہ لاہور کی بنیاد مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں رکھی گئی، اس سے پہلے یہاں کچی مٹی سے تعمیر شدہ قلعہ ہوا کرتا تھا جس کی بنیادوں پر مضبوط پکی ہوئی اینٹ سے نئی بنیاد رکھی گئی۔ نئے قلعہ کی تعمیر کے لیے شہنشاہ نے فتح پور سیکری مکمل ہونے کے بعد وہاں کے معماروں کو لاہور طلب کیا۔ بعد میں شاہ جہاں نے قلعہ لاہور میں کئی دلکش عمارتوں کا اضافہ کیا۔ ان عمارتوں میں دیوان خاص، موتی مسجد، برج نولکھا، آرام گھر اور شیش محل شامل ہیں۔ شیش محل قلعہ کے اس حصے مٰیں قائم ہے جو کبھی برج شاہ یا شاہ برج یعنی شہنشاہ کا آرام گھر کہلاتا تھا۔ یہ شاہ برج یا برج شاہ شاہجہاں سے پہلے کے مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ قلعہ لاہور کے اس حصے میں شہنشاہ کی جانب سے طلب کردہ انتہائی اہم مشاورتی اجلاس ہوا کرتے تھے اور قلعہ کے اس حصے میں صرف شاہی خاندان کے افراد، وزرائے اعظم، شہزادوں اور منتخب کردہ حکام کی رسائی تھی۔ قلعہ لاہور کی آرائش پر مبنی شاہ جہانی دور کا کام 1628ء سے 1634ء تک جاری رہا۔ شاہ جہاں دور میں سفید سنگ مرمر کا زیادہ استعمال اور شاہی انداز تعمیر نمایاں ہے۔ بعد میں جب پنجاب پر سکھوں کا قبضہ ہوا تو قلعہ لاہور میں برج شاہ رنجیت سنگھ کی پسندیدہ ترین جگہ کہلائی۔ رنجیت سنگھ نے تب، شیش محل پر ایک حرم بھی تعمیر کروایا۔ شیش محل اور بعد میں تعمیر شدہ حرم وہی جگہ ہے جہاں رنجیت سنگھ نے کوہ نور ہیرے کی نمائش کا بندوبست کر رکھا تھا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. شہربانو خان۔ "Wither heritage?" (بزبان انگریزی)۔ روزنامہ ڈان 

بیرونی روابط

ترمیم