کوہ نور

دنیا کے سب سے بڑے کٹ ہیروں میں سے ایک ، جو اب برطانوی ولی عہد جیول کا حصہ ہے

کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیروں میں سے ایک ہے جو اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ کوہ نور کا مطلب ہے روشنی کا پہاڑ۔ ہیرے کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) ہے۔

کوہ نور
A glass replica of the diamond before it was re-cut in 1852 on display at the Reich der Kristalle museum in میونخ، Germany
وزن105.602 قیراط (21.1204 گرام)
رنگFinest White
ماخذ کانکلور کان، گنٹور ضلع، آندھرا پردیش، بھارت[1]
دریافت13ویں صدی
تراشنے والاHortenso Borgia (17ویں صدی)
لیوی بنجمن ورزنجر (1852)
اصل مالککاکاٹیا خاندان
مالکملکہ ایلزبتھ دوم ملکہ برطانیہ ہونے کے ناطے۔[2]
کوہِ نور کی پرانی تراش کی نقل
کوہِ نور کی نئی تراش کی نقل

تاریخ

ترمیم

کوہ نور جنوبی بھارت کے علاقے گولکنڈہ سے ملا۔ کئی راجے مہاراجے نسل در نسل اس ہیرے کے وارث بنے۔

اسلامی تاریخ میں اس ہیرے کی موجودگی کا ذکر اس طرح سے ہے کہ ابراہیم لودھی کی والدہ بوا بیگم نے مغل شہزادے ہمایوں کو نذرانے میں دیا اور اس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا۔

1739ء میں نادر شاہ نے جب ہندوستان فتح کیا تو اسے اپنے ساتھ ایران لے گیا اور غالباً اسی نے اس ہیرے کا نام اس کی چمک دمک دیکھ کر کوہ نور رکھا۔ احمد شاہ ابدالی نادر شاہ کا جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا علاقہ احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں آ گیا یہ ہیرا بھی احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں رہا اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے شاہ تیمور اور اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ شجاع والیٔ قندھار کے پاس رہا جب اس کے مخالفین نے اسے تخت سے معزول کر دیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آیا تو یہ ہیرا اس کے ساتھ تھا، یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے پناہ دی اور کھوئی ہوئی حکومت کی بحالی کا وعدہ کیا اس دوران مہاراجا کو کوہ نور ہیرے کے بارے علم ہوا۔ رنجیت سنگھ نے یہ ہیرا شاہ شجاع سے طلب کیا مگر شاہ نے جواب دیا کہ اس ہیرے کو قرض کے عوض کابل کے تاجروں کے پاس بطور رہن رکھوا چکا ہے اس پر مہاراجا غضب ناک ہو گیا اس نے شاہ شجاع کے خاندان کو اندرون لاہور مبارک حویلی میں سخت پہرے میں رکھا (گرمی کا موسم تھا مئی کے آخری ایام تھے) ان کا کھانا پینا بند کروا دیا بھوک اور پیاس سے معصوم بچوں کا رورو کر برا حال ہو گیا تین دن کی ناقابل برداشت ذلت اور سختیوں سے تنگ آ کر شاہ شجاع نے ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا اور شرط عائد کی کہ وہ کوہ نور ہیرا خود مہاراجا کے حوالے کرے گا۔ یہ سن کر مہاراجا بہت خوش ہوا اس نے خود جا کر معزول بادشاہ سے ملاقات کی اور وہ ہیرا حاصل کر لیا۔ رنجیت سنگھ نے پوچھا:- “اس کی قیمت کیا ہوگی؟ شاہ شجاع نے جواب دیا :- “ طاقت! جس کے ذریعے ہر بادشاہ نے اسے حاصل کیا میرے آبا و اجداد نے اسے حاصل کیا اور اب مجھ سے آپ طاقت کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں کل کوئی اور طاقت کے ذریعے آپ سے حاصل کر لے گا“۔ یہ ہیرا مہاراجا رنجیت سنگھ کی خلعت کی زینت بنا رہا۔ 1839ء میں مہاراجا کا انتقال ہو گیا اس کے بعد خالصہ دربار سازشوں کا گڑھ بن گیا سکھ قوم آپس میں ٹکراتی رہی اور کمزور ہوتی گئی۔ 1846ء میں سکھ انگریز جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی یہ ہیرا بھی برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔[3] سکھ حکمران مہاراجا دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا برطانیہ کے ہاتھ لگا اور یہ ہیرا سر لارنس گورنر پنجاب کے پاس موجود رہا اسے ایک حکم ملا کہ خفیہ طور پر یہ ہیرا لندن بھیجا جائے اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی۔ لندن میں اس ہیرے کو تراشنے کے بعد تاج برطانیہ کی زینت بنایا گیا۔ اب تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ اس کی عظمت چمک دمک کی بنا پر اکثر چیزوں وغیرہ کا نام کوہ نور رکھ لیتے ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. Kenneth J. Mears (1988)۔ The Tower of London: 900 Years of English History۔ Phaidon۔ صفحہ: 100۔ ISBN 978-0-7148-2527-4۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 جولا‎ئی 2017 
  2. "Crown Jewels"۔ پارلیمنٹری ڈیبیٹس (ہین سرڈ)۔ 211۔ United Kingdom: House of Commons۔ 16 جولائی 1992۔ col. 944W۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 جولا‎ئی 2017. 
  3. crulp.org - Resources and Information