صالح بن احمد بن حنبل
احمد بن حنبل کے بڑے بیٹے
صالح بن احمد بن حنبل، اصفہان کے قاضی تھے۔ پورا نام صالح بن احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد ہے، امام احمد بن حنبل کے سب سے بڑے صاحبزادہ تھے، ابو الفضل کنیت تھی۔ بغداد میں سنہ 203 ہجری مطابق 818 عیسوی میں پیدا ہوئے، اپنے والد امام احمد بن حنبل کی نگرانی میں پرورش پائی اور انھیں سے علم حاصل کیا، پھر اصفہان میں قاضی بنے اور وہیں وفات پائی۔[1]
صالح بن احمد بن حنبل | |
---|---|
معلومات شخصیت | |
پیدائش | سنہ 818ء بغداد |
وفات | سنہ 879ء (60–61 سال) اصفہان |
مدفن | اصفہان |
شہریت | دولت عباسیہ |
مذہب | اسلام |
فرقہ | اہل سنت |
فقہی مسلک | حنبلی |
والد | احمد بن حنبل |
بہن/بھائی | |
عملی زندگی | |
استاذ | احمد بن حنبل ، علی بن مدینی |
تلمیذ خاص | ابن ابی عاصم ، ابو القاسم بغوی ، ابن ابو حاتم |
پیشہ | الٰہیات دان ، فقیہ ، محدث ، قاضی |
پیشہ ورانہ زبان | عربی |
شعبۂ عمل | فقہ ، علم حدیث |
درستی - ترمیم |
اساتذہ
ترمیمتلامذہ
ترمیممناقب
ترمیمابو بکر خلال فرماتے ہیں:
” | کہ ہمیں محمد بن عباس نے محمد بن علی کے حوالہ سے بتایا کہ: جب صالح اصفہان تشریف لے گئے تو وہاں جامع مسجد میں جاکر خوب روئے حتی کہ بعض شیوخ بھی رونے لگے، جب مسجد سے فارغ ہوئے تو لوگ انھیں دعوت دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے شہر کا ہر شخص آپ کے والد محترم سے محبت کرتا ہے۔ صالح نے فرمایا: اس حالت میں میری تنہائی اور ویرانی نے مجھے رلا دیا، ان کے بدن پر کالی چادر تھی۔ پھر فرمایا: میرے والد کے پاس جب کوئی زاہد اور بزرگ آتا تو وہ میرے پاس بھیجتے تاکہ میں ان سے کچھ حاصل کروں، میرے والد چاہتے تھے کہ میں اس بھیجے ہوئے زاہد کی طرح بنوں، لیکن اللہ خوب جانتا ہے کہ اس معاملہ میں (قضا) میں صرف اور صرف اس وجہ سے داخل ہوا ہوں کہ مجھ دین اور کثرت عیال نے مجبور کیا۔ | “ |
وفات
ترمیمصالح بن احمد بن حنبل نے اصفہان میں سنہ 265 ہجری مطابق 878 عیسوی میں وفات پائی۔[2]
حوالہ جات
ترمیم- ↑ "المكتبة الشاملة : صالح بن أحمد"۔ shamela.ws
- ↑ "المكتبة الإسلامية : صالح بن أحمد بن حنبل"۔ library.islamweb.net۔ 19 ستمبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مئی 2019